اور پھر اس شہر کے لوگوں کا افسانہ لکھیں
شام ہو تو دوستوں کے ساتھ مے خانے چلیں
صبح تک پھر رات کے طاقوں میں بے مصرف جلیں۔۔۔مزید پڑھیں
اور پھر اس شہر کے لوگوں کا افسانہ لکھیں
شام ہو تو دوستوں کے ساتھ مے خانے چلیں
صبح تک پھر رات کے طاقوں میں بے مصرف جلیں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کہانی ہندوستانی سماج میں عورت اور اسے لے کر مرد کی ذہنیت پر سوال کھڑے کرتی ہے۔ ہمارا مرد اساس سماج، جو عورت ننگی ہے اسے تو کپڑے پہنا نہیں سکتا۔ مگر جو عورت کپڑے پہنے ہوئے اسے ننگا کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ تقسیم کے بعد وہ ایک پناہ گزیں کے طور پر اودھ کے علاقے میں آ بسا تھا۔ اس کے گھر کے سامنے ایک بیوہ لڑکی تھی، جس کے بارے میں شہر کے شرابی اور آوارہ قسم کے لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
ورنہ اک پر لطف سماں ہے خود اپنی گہرائی میں
فطرت نے عطا کی ہے بے شک مجھ کو بھی کچھ عقل سلیم
کون خلل انداز ہوا ہے میری ہر دانائی میں۔۔۔مزید پڑھیں
اس کہانی میں رجعت پسندی کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ممدو جو ایک حادثہ میں اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھا ہے، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ ایام جوانی میں جس تحصیلدار کے یہاں وہ ملازم تھا اس کی بیٹی بانو نے اپنی سوتیلی ماں کے مظالم سے تنگ آ کر ممدو سے بھاگ چلنے کی درخواست کی تھی لیکن ممدو تحصیلدار کے خوف سے بیمار ہو کر گھر آگیا تھا۔۔۔مزید پڑھیں