جو عورت ننگی ہے

یہ کہانی ہندوستانی سماج میں عورت اور اسے لے کر مرد کی ذہنیت پر سوال کھڑے کرتی ہے۔ ہمارا مرد اساس سماج، جو عورت ننگی ہے اسے تو کپڑے پہنا نہیں سکتا۔ مگر جو عورت کپڑے پہنے ہوئے اسے ننگا کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ تقسیم کے بعد وہ ایک پناہ گزیں کے طور پر اودھ کے علاقے میں آ بسا تھا۔ اس کے گھر کے سامنے ایک بیوہ لڑکی تھی، جس کے بارے میں شہر کے شرابی اور آوارہ قسم کے لوگ طرح طرح کی باتیں کرتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

شکر اللہ کا

اس کہانی میں رجعت پسندی کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ممدو جو ایک حادثہ میں اپنی ایک ٹانگ گنوا بیٹھا ہے، ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا رہتا ہے۔ ایام جوانی میں جس تحصیلدار کے یہاں وہ ملازم تھا اس کی بیٹی بانو نے اپنی سوتیلی ماں کے مظالم سے تنگ آ کر ممدو سے بھاگ چلنے کی درخواست کی تھی لیکن ممدو تحصیلدار کے خوف سے بیمار ہو کر گھر آگیا تھا۔۔۔مزید پڑھیں