مریادا کی قربان گاہ

یہ وہ زمانہ تھا جب چتوڑمیں میرا بائی تصوف کے متوالوں کوپریم کے پیالے پلاتی تھی۔ رنچھوڑجی کے مندرمیں جس وقت وہ بھکتی سے متوالی ہوکر اپنی سریلی آوازمیں پاکیزہ راگوں کو الاپتی تو سننے والے مست ہوجاتے۔ ہرروزشام کویہ روحانی سکون اٹھانے کے لئے چتوڑ کے لوگ اس طرح بے قرار ہوکر۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ اخبار پڑھیں!

لاجونتی: (بڑ ے اشتیاق بھرے لہجے میں) آؤ اخبار پڑھیں
(کاغذ کی کھڑکھڑا ہٹ)
کشور: (چونک کر)کیا کہا؟
لاجونتی: کہہ رہی ہوںآؤ اخبار پڑھیں!
کشور: پڑھو‘ پڑھو‘ ضرور پڑھو۔۔۔ شکر ہے کہ تمہیں کچھ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔
لاجونتی: جی۔۔۔ گویا میں بالکل ان پڑھ ہوں‘ الف کا نام بھلا نہیں جانتی‘ آج دن تک گھاس ہی چھیلتی رہی۔۔۔۔مزید پڑھیں

ہتک

فیڈان۔۔۔ پیالی اور پرچ بجانے کی آواز آئے جو آہستہ آہستہ قریب آتی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ہوٹل کے چھوکرے کی سیٹی کی آواز بھی آئے جو کسی فلمی دُھن میں ہو۔۔۔ بمبئی میں ہوٹل کے چھوکرے جو ہوٹل سے باہر چائے وغیرہ لے کر جاتے ہیں ’’باہر والے‘‘ کہلاتے ہیں یہ عموماً چائے کی خالی پیالی اور پرچ آپس میں بجایا کرتے ہیں کہ بلڈنگ کے رہنے والوں کو ان کی موجودگی کا علم ہو۔۔۔مزید پڑھیں