ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے
مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے
کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے
پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے۔۔۔مزید پڑھیں
ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے
مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے
کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے
پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے۔۔۔مزید پڑھیں
جو وفا کا رواج رکھتے ہیں
صاف ستھرا سماج رکھتے ہیں
قابل رحم ہیں وہ انساں جو
خواہش تخت و تاج رکھتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی
دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں
راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی
کوئی کنکر پھینکنے والا ۔۔۔مزید پڑھیں
ہم فقیروں سے دوستی کر لو
چشم بینا نہیں تو سب کچھ گم
چاہے کتنی ہی روشنی کر لو
ایک چولہا الگ ہوا گھر۔۔۔مزید پڑھیں
زمین ذرہ ہے اس کائنات سے آگے
اک اور سلسلۂ حادثات ہے روشن
اس ایک سلسلۂ حادثات سے آگے
ہوائے عکس بہار و خزاں نہیں۔۔۔مزید پڑھیں
اسی منزل پہ شاید دوست کا کاشانہ آتا ہے
بہ سوئے مے کدہ جب بھی کوئی مستانہ آتا ہے
صراحی جھومتی ہے وجد میں پیمانہ آتا ہے
یہ حالت ہو گئی اپنی جنوں میں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کر گیا مہ و انجم مرے حوالے کون
نیا جریدۂ شعر و ادب نکالے کون
یہاں خرید کے پڑھتا ہے خود رسالے کون
چہار سمت منڈیروں پہ زاغ بیٹھے۔۔۔مزید پڑھیں
ڈوب جانے کے لئے ہر کوئی تیار بھی ہو
کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ
دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو
ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی۔۔۔مزید پڑھیں
ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں
بچا کے ہم یہ بزرگوں کی شان رکھتے ہیں
نہیں ہے شمع مگر شمع دان رکھتے ہیں
گلے بھی ملتے ہیں ہاتھوں کو بھی ملاتے۔۔۔مزید پڑھیں
ہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہے
مسئلہ بھی ہے اگر کوئی تو ایسا کیا ہے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تو قصہ کیا ہے
وہ جسے ہم نے کیا رشتۂ جاں سے۔۔۔مزید پڑھیں