رہائی

ابھی گھاس کی اوس بھی نہیں سوکھی تھی کہ سگنی ٹپک پڑی۔ گھٹنوں تک دھوتی چڑھائے، ننگے پیروں میں نم دھول اور گھاس پھوس بھرے، سر پر گٹھری اٹھائے، ٹھٹھرتی ہوئی۔

’’ٹھنڈ میں جان دینی ہے کیا رے سگنی۔۔۔مزید پڑھیں

اندھیری گلیاں

گھر سے بھاگے دو محبت کرنے والوں کی کہانی، وہ رات کی تاریکی میں گلیوں کی خاک چھانتے اور ان پلوں کو یاد کرتے ہوئے جنہوں نے انہیں اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا، اسٹیشن کی طرف چلے جا رہے تھے۔ بستی پیچھے چھوٹ گئی تھی اور۔۔۔مزید پڑھیں

سیلاب

یہ آزادی کے دور کے ایک ایسے اخبار کے مدیر کی کہانی ہے، جو آزادی کے لیے انقلابیوں کی تنقید کرتا ہے اور سرکار سے اشتہار حاصل کرتا ہے۔ ایک روز جب اس کی بیوی گھر کے عیش و آرام کو چھوڑ کر آزادی کی مہم میں شامل ہو جاتی ہے تو وہ بھی اس کے جوش کو دیکھ کر اس مہم میں سب سے آگے چل پڑتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

رپورٹر

سچ کی تلاش میں نکلے ایک ایسے رپورٹر کی کہانی جو ایک ایسے گاؤں میں رپورٹنگ کی لیے جاتا ہے جو حال ہی میں ایک اچھا قصبہ بن کر ابھرا ہے۔ قصبے میں جاکر ہر چیز کی ایمانداری سے تحقیق کی۔ اگلے دن جس صفحہ پر اس کی رپورٹ شائع ہونی تھی، اس صفحہ پر اس کے موت کی خبر شائع ہوئی تھی۔۔۔مزید پڑھیں

خزانہ

ڈاکواور کسان میں کیا فرق ہے؟ رگھیا نے سوچا۔

کسان جب سوکھے سے، مہاجن سے اور زمیندار سے مجبور ہوجاتا ہے تو وہ ڈاکو ہوجاتا ہے۔ کندھے پر ہل لے کر چلنے کے بجائے اب کندھے پر لاٹھی رکھتا ہے، برچھا رکھتا ہے، آگے جاکر بندوق رکھتا ہے۔ کندھے کا بوجھ وہی رہتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

ایک دوست کی ضرورت ہے

یہ ایک ایسے کامیاب شخص کی کہانی ہے جو دولتمند ہو کر بھی تنہا ہے۔ اسے ایک دوست کی ضرورت ہے، جس کے لیے وہ اخبار میں اشتہار دیتا ہے۔ کچھ لوگ اس اشتہار اور اشتہار دینے والے کا مزاق اڑاتے ہیں۔ اشتہار کے جواب میں اگلے ہی دن کچھ لوگ اس کے پاس پہنچتے ہیں۔ سبھی افراد اپنی خوبیاں بیان کرتے ہیں اور خود کو اس کی دوستی کے لیے سب۔۔۔مزید پڑھیں

جنازہ

یہ مسجد کے ایک موذن کی کہانی ہے جسکا قیام مسجد میں ہی رہتا ہے۔ ایک روز مسجد میں نماز جنازہ کے لیے ایک جنازہ لایا جاتا ہے کہ اسی وقت تیز بارش ہونے لگتی ہے۔ لوگ جنازے کو اس کی تحویل میں دے کر چلے گیے کہ بارش کھلنے پر جنازہ کو دفن کیا جائے گا۔ رات کو جنازے کے پاس تنہا بیٹھے موذن کے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش آیا کہ صبح ہوتے ہی اس کی بھی موت ہو گئی۔۔۔مزید پڑھیں