اپسرا حویلی

ٹل بجنے پرپریم دیوتاچونکے۔ اس وقت کون ہوسکتاہے بھلا۔ شش سیوک بولا، کوئی فریادی ہوگا مہاراج۔ اس سمے فریادی۔ پریم دیوتاماتھے پرتیوری چڑھاکربولے۔ مہاراج، شش سیوک نے کہا، فریادی کاکوئی سمے نہیں ہوتا۔ اچھا توفریادی کوحاضر کرو۔ دیوتا خشمگیں لہجے میں بولے۔۔۔مزید پڑھیں

احتیاط عشق

کہانی ایک ایسی لڑکی کی ہے جس نے اپنے محبوب کو ایک سال قبل دیکھا تھا اور اسکی آنکھوں میں محبوب کا وہی عکس تھا۔ اب جبکہ وہ اس سے ملنے آرہا تھا تو وہ اس کے استقبال میں کوئی کمی نہیں رہنے دینا چاہتی تھی۔ اس نے سنا تھا کی اسکا محبوب فوج میں بھرتی ہو گیا ہے، اس سے اس میں اور بھی بانکپن آگیا ہوگا۔ مگر جب اس نے اسے ایئر پورٹ پر دیکھا تو وہ اسے دیکھ کر اس قدر حیران ہوئی کہ ایک بار تو اس نے اسے پہچاننے سے ہی انکار کر دیا۔۔۔مزید پڑھیں

نعرہ

یہ افسانہ ایک متوسط طبقہ کے آدمی کی انا کو ٹھیس پہنچنے سے ہونے والی درد کو بیاں کرتا ہے۔ بیوی کی بیماری اور بچوں کے اخراجات کی وجہ سے وہ مکان مالک کو پچھلے دو مہینے کا کرایہ نہیں دے پایا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ مالک مکان اسے ایک مہینے کی اور مہلت دے دے۔ اس درخواست کے ساتھ جب وہ مالک مکان کے پاس گیا تو اس نے اس کی بات سنے بغیر ہی اسے دو گندی گالیاں دیں۔ ان گالیوں کو سن کر اسے بہت تکلیف ہوئی اور وہ مختلف خیالوں میں گم شہر کے دوسرے سرے پر جا پہنچا۔ وہاں اس نے اپنی پوری قوت سے ایک ’نعرہ‘ لگایا اور خود کو بہت ہلکا محسوس کرنے لگا۔۔۔مزید پڑھیں

پشپ گرام کا اتہاس

پشپ گرا م چندر لیکھا پہاڑیوں کی گود میں جنگل کے چھور پر آباد تھا۔ گرام سے کوس بھر دوری پر سوگندھا ندی بہتی تھی۔ یہ گرام بہت سارے گراموں کی طرح کنبہ، برادری پر مبنی تھا اور ہر آدمی دوسرے آدمی کا سمبندھی تھا۔ گھر ہی کتنے تھے۔۔۔مزید پڑھیں

چکرویو

دھرت راشٹر نے پوچھا۔

’’اے سنجے مجھے بتاؤ اتنے سارے لوگ اپنے اپنے ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے اس سرزمین پر کیا کر رہے ہیں؟‘‘

سنجے جواب دیا۔

’’اے دھرت راشٹر۔ وہ لوگ ایک جاتی کو نشٹ کر دینا چاہتے ہیں۔ انھیں صفحۂ ہستی سے مٹادینا چاہتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

ایک سی صورتیں

ڈھائی گھنٹے ہو چکے تھے اور میکو کا کوئی اتا پتا نہ تھا۔ رتن منی جی نے پریشان ہونا تو بہت پہلے سے شروع کر دیا تھا، جب اس کے لوٹ آنے کا وقت بھی نہیں ہوا تھا لیکن اب تو ڈھائی گھنٹے بھی پورے ہو چکے تھے۔ ان کی پریشانی بلاسبب بھی نہیں تھی۔ پچاس ہزار روپوں کا معاملہ تھا اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ اونچ نیچ ممکن تھی۔ وہ ڈرائنگ روم سے نکل کر گیلری میں لفٹ کے تھوڑے آگے تک دھیرے دھیرے ٹہلنے لگے تھے اور اب اس طرح ٹہلتے ہوئے بھی انہیں آٹھ دس منٹ تو ہو ہی گئے ہوں گے۔۔۔مزید پڑھیں

اصلی جن

ہم جنسیت کے تعلقات پر مبنی کہانی۔ فرخندہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بچپن میں ہی اس کے باپ کا انتقال ہو گیا تھا تو وہ اکیلے اپنی ماں کے ساتھ رہنے لگی تھی۔ جوانی کا سفر اس نے تنہا ہی گزار دیا۔ جب وہ اٹھارہ سال کی ہوئی تو اس کی ملاقات نسیمہ سے ہوئی۔ نسیمہ ایک پنجابی لڑکی تھی، جو حال ہی میں پڑوس میں رہنے آئی تھی۔ نسیمہ ایک لمبی چوڑی مردوں کی خصلت والی خاتون تھی، جو فرخندہ کو بھا گئی تھی۔ جب فرخندہ کی ماں نے اس کا نسیمہ سے ملنا بند کر دیا تو وہ نیم پاگل ہو گئی۔ لوگوں نے کہا کہ اس پر جن ہے، پر جب ایک دن چھت پر اس کی ملاقات نسیمہ کے چھوٹے بھائی سے ہوئی تو اس کے سبھی جن بھاگ گئے۔۔۔مزید پڑھیں

پہلی موت

یہ کہانی جاگیردارانہ نظام کی اخلاقیات پر مبنی ہے۔ گاؤں کا گورکن غتوا مدن کو دس روپے کی ادائگی نہ ہونے کی وجہ سے جوتوں سے مارتا ہے اور اسے کنکروں پر گھسیٹتا ہے۔ میاں کے گھر کا چھوٹا بچہ اس ظلم کو برداشت نہیں کر پاتا اور وہ غتوا کے پتھر کھینچ مارتا ہے جس سے اس کا سر لہو لہان ہو جاتا ہے۔ بچے کو گھر میں صرف اس لئے سزا دی جاتی ہے کہ وہ ان چھوٹے لوگوں کے معاملے میں کیوں پڑا، اگر وہ پلٹ کر مار دیتا تو ساری عزت خاک میں مل جاتی۔ بچہ اپنے موقف پر قائم رہتا ہے لیکن جب اسے معافی مانگنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے تو اس کے ۔اندر کوئی چیز ٹوٹ جاتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں