رات بھر سورج کے بن کر ہم سفر واپس ہوئے
شام بچھڑے ہم تو ہنگام سحر واپس ہوئے
جلوہ گاہ ذات سے کب خود نگر واپس ہوئے
اور اگر واپس ہوئے تو بے بصر واپس ہوئے۔۔۔مزید پڑھیں
رات بھر سورج کے بن کر ہم سفر واپس ہوئے
شام بچھڑے ہم تو ہنگام سحر واپس ہوئے
جلوہ گاہ ذات سے کب خود نگر واپس ہوئے
اور اگر واپس ہوئے تو بے بصر واپس ہوئے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کہانی قحبہ خانے سے برآمد کی گئی ایک لڑکی کے بیان کے گرد گھومتی ہے جو فلم میں اسٹار بننے کے چکر میں ایک رنڈی خانے میں پہنچ جاتی ہے اور جب وہ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے چہرہ پر تیزاب ڈال کر جلا دیا جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
عورت کی وفاداری اور مرد کی خود غرضی کے محور پر گھومتی ہوئی یہ کہانی ہے۔ کرشچین مس ڈورتھی جو ایک بال روم ڈانسر ہے، وہ ایک مسلمان شو میکر حنیف کے لئے اپنی تمام جذبوں کو فنا کر دیتی ہے۔ اس کے کاروبار کو ترقی دیتی ہے، اس کے بیوی بچوں کو بھی خوش دلی سے قبول کرتی ہے لیکن اخیر میں حنیف صرف ایک بے وفا مرد ثابت ہوتا ہے۔ شہری زندگی کے واقعات اور کرایہ کے مکان کا سہارا لے کر انسان کی خود غرضی کو بھی اس کہانی کے ذریعہ واضح کیا گیا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
کسی حادثے میں نابینا ہوئی ایک لڑکی کی داستان ہے۔ جو ڈاکٹر اس کا علاج کر رہا ہے، لڑکی کو اس ڈاکٹر سے محبت ہو جاتی ہے اور بالآخر ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ لڑکی کے آنکھوں کے آپریشن کے بعد جب وہ اپنے شوہر کو دیکھتی ہے تو اسے دیکھ کر اتنی حیران ہوتی ہے کہ وہ دل ہی دل میں دعا کرتی ہے کہ کاش اسکی آنکھیں ٹھیک نہیں ہوئی ہوتیں۔ لڑکی کی یہ حالات دیکھ کر اس کا ڈاکٹر شوہر اسے اپنے معاون کے حوالے کر اس کی زندگی سے چلا جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
ہمیں دو چار تھے جو حلقۂ انکار تک آئے
وہ تپتی دھوپ سے جب سایۂ دیوار تک آئے
تو جاتی دھوپ کے منظر لب اظہار تک آئے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جس کی ایک معمولی سے واقعہ نے پوری زندگی ہی بدل دی۔ اسے زرد رنگ جتنا پسند تھا اتنا ہی برقعہ ناپسند۔ اس دن جب وہ اپنی نند کے ساتھ ایک سفر پر جا رہی تھی تو اس نے زرد رنگ کی ہی ساڑی پہن رکھی تھی اور برقعے کو اتار کر ایک طرف رکھ دیا تھا۔ مگر لاہور اسٹیشن پر بیٹھی ہوئی جب وہ دونوں گاڑی کا انتظار کر رہی تھی وہاں انہوں نے ایک میلے کچیلے آدمی کی پسند ناپسند سنی تو انہوں نے خود کو پوری طرح ہی بدل لیا۔۔۔مزید پڑھیں
منی اورمیشاآنگن میں اتری ہوئی دھوپ میں کھیل رہے تھے۔ سرسوتی انہیں نہلانے کے لیے جلدی جلدی گرم پانی، تولیہ، صابن، ان کے کپڑے وغیرہ غسل خانے میں رکھے جارہی تھی جوآنگن کے ایک کونے میں ایک چھوٹی سی دیواراٹھاکربنایاہواتھا۔ اس نے بچوں کوپکارا، ’’نی منی!وے میشے!چلوآؤ، ابھی نہالو، پھرمجھے قت نہیں ملے گا۔ سناکہ نہیں؟‘‘
بچے کھیلنے میں مصروف رہے۔ سرسوتی نے آگے بڑھ کر دونوں کوبازوؤں سے پکڑکر اٹھایا، ’’رُڑجانٹرے!ہروقت مٹی گھٹے میں کھیلتے رہتے ہیں۔ چلوسیدھے ۔۔۔مزید پڑھیں
یہ ایک ایسی عورت کی کہانی ہے جو زندگی کی دشواریوں سے تنگ آکر خودکشی کرنے کے لیے نکل پڑتی ہے۔ وہ ریلوے لائن پر چلی جا رہی ہے اور اس کے پیچھے پیچھے دو عورتیں اسے سمجھا رہی ہیں، وہ ان کی ہر دلیل کو اپنے منطق سے کاٹ دیتی ہے اور آخر میں ٹرین کے نیچے آکر اپنی زندگی ختم کر لیتی ہے۔ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ مرنے والی ایک نہیں تین عورتیں تھیں۔۔۔مزید پڑھیں
روز بدلی ہوئی دنیا کی فضا دیکھتے ہیں
آج کس سمت میں چلتی ہے ہوا دیکھتے ہیں
جو بھی ہوتا ہے وہ ہوتا ہے امیدوں کے خلاف
دل میں کیا سوچتے ہیں آنکھ سے کیا دیکھتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
بیٹی اچھی!‘‘
یہ آواز، ایک عالیشان عمارت، اسمٰعیل بلڈنگ کے دروازے کے پاس بجلی کے کھمبے کے نیچے کھڑی ہوئی، ایک برقعہ پوش عورت کے لبوں سے نکلی اور اس کے قریب کھڑی ہوئی سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی ایک کمسن لڑکی، اس کی ٹانگوں سے لپٹ گئی۔
’’کیوں اماں؟‘‘
’’جاؤ بیٹی! اندر چلی جاؤ، یہاں بہت سردی ہے۔‘‘
لڑکی نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور اس کی ٹانگوں سے لپٹی رہی۔ یہ بدنصیب عورت شہر کے مشہور و معروف دولت مند تاجر، شیخ اسمٰعیل کی بیوی آمنہ تھی اور یہ اس کی بیٹی اصغری۔۔۔مزید پڑھیں