سمجھوتہ

حویلی کی نیچی دیوار کی پرلی طرف جانے کس کی پگڑی کاطرہ لہرایا کہ نوری ایک دم سہم کر جھاڑی کے پیچھے دبک گئی۔ سات کوس دور ایک گاؤں وتہ خیل سے وہ پیدل چلتی آرہی تھی۔ اور ان سات کوسوں میں اٹھتے ہوئے ہر ایک قدم کےساتھ اس کا دل بے شمار بار دھڑکا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

اپنے مرنے کا دکھ

یار صادق! بڑے افسوس کے ساتھ تمہیں اطلاع دی جاتی ہے کہ تمہارا انتقال پرملال ہوچکا ہے۔۔۔ فون پر صادق کادوست منیر کہہ رہا تھا۔  کیا۔۔۔؟ تم کیا کہہ رہے ہو منیر۔۔۔‘‘ صادق جھنجھلاگیا۔ یہ شخص ہمیشہ یوں ہی فون پر مذاق کرتا ہے۔ یہ کہہ رہا ہوں کہ تمہارے گھر سے ٹیلی گرام آیا ہے۔ وہاں تمہارے مرنے کی اطلاع پہنچ گئی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

محبت

فلسفی نے اپنے نوجوان دوست سے کہا۔۔۔ بلا سوچے سمجھے تاریکی میں مت کودو۔ نوجوان ہنسا۔۔۔ بولا۔۔۔ محبت وہ تاریکی ہےجس میں کودتے وقت سمجھ اور سوچ کی قوتیں سلب ہو جاتی ہیں اور فہم و فراست جواب دے جاتے ہیں۔ کانجلی بھائی آنند! تم مزے میں ہو، یہ جان کر خوشی ہوئی۔ لیکن اگر تمہیں مایوسی نہ ہو تو عرض کروں کہ ادھر بھی کچھ بری بسر نہیں ہو رہی۔ اگر شملہ پر اندر دیوتا کی نظر التفات ہے تو دو آبہ کو بھی اس نے فراموش نہیں کیا اور اگر یقین کرو تو کہوں کہ آج کل تو دوآبہ بھی سچ مچ شملہ اور کشمیر بن رہا ہے۔ ہر دوسرے تیسرے بارش ہو جاتی ہے۔ کیف آور ہوا، دونوں ہاتھوں سے ساغر لنڈھاتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

دو گھنٹے جہنم میں

صبح تک میں خود بھی اپنے آپ کو ایسا بیمار نہ سمجھتا تھا کہ وصیت کی فکر کرتا یا ان سب ناتمام کاموں کا انتظام کر جاتا جن کو میں کبھی اپنی ۴۰ سال کی عمر میں پورا نہ کر سکا تھا اور نہ شاید کبھی انجام تک پہنچا سکتا، خواہ اتنی ہی عمر اور کیوں نہ مل جاتی۔ صرف کبھی کبھی قلب کے حوال میں درد کی چمک محسوس ہوتی تھی اور میں سینہ پکڑ کر بیٹھ جاتا، دوپہر تک مجھے اور سب کو یہی یقین رہا کہ ریاح کا تکاثف ہے، فکر کی بات نہیں، لیکن جب شام کے وقت درد کے شدید و متواتر حملوں نے تشویش پیدا کی تو ڈاکٹر صاحب بلائے گئے۔۔۔مزید پڑھیں

فرشتے

سرخ کھردرے کمبل میں عطاء اللہ نے بڑی مشکل سے کروٹ بدلی اور اپنی مندی ہوئی آنکھیں آہستہ آہستہ کھولیں۔ کہرے کی دبیز چادر میں کئی چیزیں لپٹی ہوئی تھیں جن کے صحیح خدوخال نظر نہیں آتے تھے۔ ایک لمبا، بہت ہی لمبا، نہ ختم ہونے والا دالان تھا یا شاید کمرہ تھا جس میں دھندلی دھندلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ ایسی روشنی جو جگہ جگہ میلی ہورہی تھی۔۔۔مزید پڑھیں

فاصلے

نانی کو عین وقت پر نانی پنے کی سوجھ رہی تھی۔۔۔ 

’’بھلا چقماق پتھر میں رگڑ لگے اور چنگاری نہ گرے۔۔۔؟‘‘ نانی دروازے کے پاس اڑ کربولیں اور ستارہ کاجی چاہا کہ اپنا سر پیٹ لے۔ 

’’چقماق! چقماق یہاں کہاں سے ٹپک پڑا؟‘‘ ستارہ نے بڑے ضبط کے ساتھ سوال کیا۔۔۔مزید پڑھیں

نظارہ درمیاں ہے

تارا بائی کی آنکھیں تاروں کی ایسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے۔ در اصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں۔ وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے۔ جسے بیگم الماس خورشید عالم کے ہاں کام کرتے ہوئےصرف چند ماہ ہوئے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں