چپ

 ‘‘ چپ!’’

جیناں نے چچی کی نظر بچا، ماتھے پر پیاری تیوری چڑھا کر قاسم کو گھورا اور پھر نشے کی شلوار کے اٹھائے ہوئے پائنچے کو مسکرا کر نیچے کھینچ لیا اور از سر نو چچی سے باتوں میں مصروف ہو گئی۔ قاسم چونک کر شرمندہ سا ہو گیا اور پھر معصومانہ انداز سے چارپائی پر پڑے ہوئے رومال۔۔۔مزید پڑھیں

نوحہ گر

رومی دروازے کے زینے پر چڑھتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کی طرف مسکراکر دیکھا۔ اس طرح ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ساتھ ساتھ چلنے کا یہ ان کا پہلا موقع تھا۔ دونوں نے ایک بار پھر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ 

چند روز قبل اس نے بڑی ہمت کرکے رخشندہ کے سامنے شادی کی۔۔۔مزید پڑھیں

ابال

صدیاں بیت گئیں اور وہ مسلسل تپتے ہوئے صحرا میں تشنگی لئے بھٹک رہا ہے۔ چل چل کر، دوڑ دور کر، رینگ رینگ کر وہ تھک چکا، اس بے آب وگیاہ صحرا کا کوئی انت نہیں اور دوڑنا، چلنا، رینگنا اس کا مقدر۔ 

وہ تنہا نہیں ہے، تاحد نگاہ بکھرے، ایک دوسرے پر سوار اور۔۔۔مزید پڑھیں

کرفیو

خوفناک عفریت نے پھر زندگی کے بدن میں اپنے ناخن گاڑ دیئے۔ زخموں سے خون ابلنے لگا۔ وہ سب وحشت زدہ جانوروں کی طرح سڑک پر نکل آئے۔ عمارتوں اور انسانوں کے اس جنگل میں غراتی پھرنے والی دیوہیکل جانوروں جیسی بسیں آگ اور پتھراؤ کے خوف سے جیسے غاروں میں جا چھپی تھیں۔ وہ سب بے بس ہوکر اپنی اپنی پناہ گاہوں میں پہنچنے کے لیے بے چین ادھر ادھر دوڑنے لگے۔۔۔مزید پڑھیں

خواب خرگوش

سریّا ہنس رہی تھی۔ بے طرح ہنس رہی تھی۔ اس کی ننھی سی کمر اس کے باعث دہری ہوگئی تھی۔ اس کی بڑی بہن کو بڑا غصہ آیا۔ آگے بڑھی تو ثریا پیچھے ہٹ گئی اور کہا، ’’جا میری بہن، بڑے طاق میں سے میری چوڑیوں کا بکس اٹھالا۔ پر ایسے کہ امی جان کو خبر نہ ہو۔‘‘ 

ثریا اپنی بڑی بہن سے پانچ برس چھوٹی تھی۔ بلقیس انیس کی تھی۔ ثریا نے جھنجھلاہٹ سے ہنستے ہوئے کہا، ’’اور جو میں نہ لاؤں تو؟‘‘ 

بلقیس نے جل کر اسے کہا، ’’ایک فقط تو مجھ اللہ ماری کا کام نہیں کرے گی ،نگوڑیاں ہمسائیاں چاہے تم سے اپلے تک تھپوالیں۔۔۔مزید پڑھیں

آسیب ذدہ

دادی کے کمرے سے ڈاکٹر کے ہمراہ ابوجی کو نکلتے دیکھا تومیں سمجھ گئی کہ پھوپی کی پھر وہی کیفیت ہو گئی ہوگی۔۔۔ میں بھی تیز قدموں سے دادی کے کمرے کی طرف بڑھی۔ امی اور تائی بھی و ہیں موجود تھیں اور دادی ہمیشہ کی طرح پھوپھی کے پلنگ کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی آہستہ آہستہ قرآنی آیات پڑھ رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں تھمی تسبیح کے دانے جس تواتر سے اک اک کر کے گر رہے تھے آنکھوں سے آنسوؤں کی بوندیں بھی اسی تواتر سے ٹپک رہی تھیں۔ پھوپھی اب انجیکشن کے زیر اثر سو رہی تھیں۔ پچھلے کئی سال سے میں ان کی یہی کیفیت دیکھ۔۔۔مزید پڑھیں

عیدگاہ

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم، درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم۔۔۔مزید پڑھیں