جمیل بھائی کی زندگی یوں ہی گزر رہی تھی، بندھی بندھائی، صبح اٹھنا، ضروریات سے فارغ ہونا، کٹورا بھر چائے کے ساتھ بناسپتی چپڑے ہوئے تین چار پراٹھے تیزی سے نگلنا اور ڈیوٹی کے لئے گھر سے نکل پڑنا۔ منظر علی کی دکان سے پان لے کر وہ تیزی سے سائیکل کا پینڈل گھماتے ہوئے کارخانہ پہنچ جاتے۔ شام کو لوٹتے وقت۔۔۔مزید پڑھیں
وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے
ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے
مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے
کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے
پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے۔۔۔مزید پڑھیں
روح سے لپٹی ہوئی آگ
کہانی انسانی جبلت کی اس سوچ پر ضرب لگاتی ہے جسے فساد برپا کرنے اور قتل و غارت گری کے لیے کوئی بہانہ چاہیئے۔ ایسے مزاج کے لوگوں کے لیے کوئی جھوٹی افواہ ہی کافی ہوتی ہے۔ بھیڑ بھرے بازار ویران ہونے لگتے ہیں، لوگ سڑکوں سے غائب ہو جاتے ہیں اور اپنے گھروں یا کسی محفوظ جگہ پناہ لے۔۔۔مزید پڑھیں
خس آتش سوار
سورج نکلنے میں دیر تھی۔ گرودیو نے آنکھیں موندے موندے سوچا وہ سب اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال چکے ہوں گے۔ دو گھنٹے بعد وہ میڈٹیشن ہال میں جمع ہو جائیں گے۔ آج انھیں لکچر دینا تھا۔ انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس تھا کہ ان کے پاس ایسے الفاظ ہیں جو سننے والوں پر جادو کر دیتے ہیں۔ ان لفظوں میں۔۔۔مزید پڑھیں
منیر کی اماں
یہ ایک ایسی خوددار عورت کی کہانی ہے جو گھر کی نوکرانی ہونے کے باوجود اس کی اپنی خود کی شناخت ہے۔ وہ گھر میں ہفتے میں ایک دو بار ہی آتی ہے، مگر جب بھی آتی ہے بغیر کہے گھر کا سارا کام کرتی جاتی ہے اور دعائیں دیتی جاتی ہے۔ ایسی دعائیں جو ہمیشہ با اثر ہوتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
جو وفا کا رواج رکھتے ہیں
جو وفا کا رواج رکھتے ہیں
صاف ستھرا سماج رکھتے ہیں
قابل رحم ہیں وہ انساں جو
خواہش تخت و تاج رکھتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
سجدہ
گلاس پربوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا۔ ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فوراً تاڑ گیا کہ حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہوگئی ہے۔ وہ حمید کو سات برس سے جانتا تھا، اوران سات برسوں میں کئی بار حمید پر ایسے دورے پڑ چکے تھے جن کا مطلب اس کی سمجھ سے ہمیشہ بالاتر رہا تھا، لیکن وہ اتنا ضرور سمجھتا تھا کہ اس کے لاغر دوست کے سینے پر کوئی بوجھ ہے۔۔۔مزید پڑھیں
کھائی
برف کی سیلوں کے درمیان شوکت میاں کی نعش رکھی تھی۔ پنکھا تیزی سے چل رہا تھا۔ برف کے گھلنے سے پانی کی بوندیں فرش پر گر رہی تھیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے کرتے کفایت علی نے اپنے باپ کی نعش کی طرف دیکھا وہ فیصلہ نہیں کر سکا کہ اسے اپنے باپ کے مرنے کا افسوس ہے بھی یا نہیں۔ اتنا ضرور ہے کہ وہ ایک طرح کی آزادی محسوس کر رہا تھا جیسے قید سے رہائی ملی ہو۔ اس شخص کی موجودگی میں اسے اپنا وجود نظر ہی نہیں آتا تھا۔ اس شخص نے کبھی اس کی مرضی چلنے نہیں دی تھی۔ کبھی اس کی تعریف نہیں کی تھی۔۔۔مزید پڑھیں
میں نے اپنی روح کو اپنے تن سے الگ کر رکھا ہے
میں نےاپنی روح کو اپنےتن سےالگ کررکھا ہے
میں نےاپنی روح کو اپنےتن سےالگ کررکھا ہے
یوں نہیں جیسے جسم کو پیراہن سےالگ کررکھاہے
میرےلفظوں سے گزرومجھ سےدرگزرو کہ میں نے۔۔۔مزید پڑھیں
رشتے
جیسے ہی اس کی آنکھ کھلی اس نے تکیہ کے دونوں جانب کچھ تلاش کیا۔ وہاں اخبار نہیں تھا۔ اس نے لحاف جو سینے تک سرک گیا تھا کھینچ کر ناک کے پاس تک کر لیا، آنکھیں بند کرلیں اور تھوڑی دیر تک اس فقیرکی آواز کا انتظار کرتے کرتے جس سے رات کی ڈیوٹی کرنے کے بعد اکثر بہت سویرے ہی اس کی آنکھ کھل جاتی تھی۔ نہ جانے کب سوگیا۔ دوبارہ آنکھ کھنے بپر اس نے اخبار پر نظر ڈالی ہی تھی اور ابھی سرخیاں ہی پڑھ رہاتھا کہ اس کی بیوی نے دروازہ سے جھانک کر کہا، ’’اٹھ گئے؟ میں نے ساری کھڑکیاں بند کرکے۔۔۔مزید پڑھیں







