تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں
کبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیں
شفا ہو جائے دم میں کشتۂ ہجر محمد کو
اگر وہ خواب میں بھی حالت بیمار آ دیکھیں۔۔۔مزید پڑھیں
تمنا ہے یہ آنکھوں کی ترا دیدار آ دیکھیں
کبھی روضہ ترا یا احمد مختار آ دیکھیں
شفا ہو جائے دم میں کشتۂ ہجر محمد کو
اگر وہ خواب میں بھی حالت بیمار آ دیکھیں۔۔۔مزید پڑھیں
دادی کے کمرے سے ڈاکٹر کے ہمراہ ابوجی کو نکلتے دیکھا تومیں سمجھ گئی کہ پھوپی کی پھر وہی کیفیت ہو گئی ہوگی۔۔۔ میں بھی تیز قدموں سے دادی کے کمرے کی طرف بڑھی۔ امی اور تائی بھی و ہیں موجود تھیں اور دادی ہمیشہ کی طرح پھوپھی کے پلنگ کے پاس کرسی پر بیٹھی ہوئی آہستہ آہستہ قرآنی آیات پڑھ رہی تھیں۔ ان کے ہاتھ میں تھمی تسبیح کے دانے جس تواتر سے اک اک کر کے گر رہے تھے آنکھوں سے آنسوؤں کی بوندیں بھی اسی تواتر سے ٹپک رہی تھیں۔ پھوپھی اب انجیکشن کے زیر اثر سو رہی تھیں۔۔۔مزید پڑھیں
پوسٹل کالونی میں کر یم کا ڈھابہ لٹ خانہ کہلاتا تھا۔ دنیا جہاں کے بے کار، ملازمت کے متلاشی درختوں کی چھاؤں میں پاؤں پسارے اونگھنے والے غرضیکہ سب ہی چلے آتے۔ لاٹھی ٹیکتے پینشنر بھی جوانی کی یادیں تازہ کرنے مہینے میں ایک بار ضرور زیارت کے لیے آتے۔ یہاں کڑک چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے اور چند گھنٹوں کے لیے دوبارہ جوان ہو جایا کرتے۔ پینشن کی رقم لے کر بےرنگ کانپتی ٹانگوں والی میز کرسیاں اور کھری چارپائیوں پہ چائے پینے کا عجب سرور تھا۔ کچھ لوگ لڈڈو سے جی بہلاتے تو بعض ایک تاش پھینٹنے لگتے۔۔۔مزید پڑھیں
موسلا دھاربارش ہورہی تھی اور وہ اپنے کمرے میں بیٹھا جل تھل دیکھ رہا تھا۔ باہر بہت بڑا لان تھا،جس میں دو درخت تھے۔ ان کے سبز پتے بارش میں نہا رہے تھے۔ اس کو محسوس ہوا کہ وہ پانی کی اس یورش سے خوش ہوکر ناچ رہے ہیں۔
ادھر ٹیلی فون کا ایک کھمبا گڑا تھا۔ اس کے فلیٹ کے عین سامنے یہ بھی بڑا مسرور نظر آتا تھا، حالانکہ اس کی مسرت کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی تھی۔ اس بے جان شے کو بھلا مسرور کیا ہونا تھا، لیکن تنویر نے جوکہ بہت مغموم تھا، یہی محسوس کیا کہ اس کے آس پاس جو بھی شے ہے، خوشی سے ناچ گارہی ہے۔
ساون گزر چکا تھا اور باران رحمت نہیں ہوئی تھی۔ لوگوں نے مسجدوں میں اکٹھے ہوکر دعائیں مانگیں مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ بادل آتے اور جاتے رہے، مگر ان کےتھنوں سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ ٹپکا۔۔۔مزید پڑھیں
یہ ایک ایسی دکھیاری عورت کی کہانی ہے جو اپنے حالات سے پریشان ہو کر حضرت شیخ سلیم چشتی کی درگاہ پر جاتی ہے۔ وہ یہاں اس دھاگے کو ڈھونڈھتی ہے جو اس نے برسوں پہلے اس شخص کے ساتھ باندھا تھا جس سے وہ محبت کرتی تھی اور جو اب اس کا تھا۔ درگاہ پر اور بھی بہت سے پریشان حال مرد عورتیں حاضری دے رہے تھے۔ وہ عورت ان حاضرین کی پریشانیوں کو دیکھ کر دل ہی دل میں سوچتی ہے کہ ان کے ۔دکھوں کے آگے اس کا غم کتنا چھوٹا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
جب سے بسا ہے دل میں تری دل کشی کا رنگ
یک رنگ ہو گیا ہے مری زندگی کا رنگ
اپنوں نے بارہا مجھے غربت میں چھوڑ کر
دیکھا ہے کس خوشی سے مری بے بسی کا رنگ۔۔۔مزید پڑھیں
آسمان سے رات نہیں برس رہی ہے، مگر دورتک پھیلے ہوئے پہاڑی سلسلوں کے پیچھے صدیوں کا تھکا سورج غروب ہو چکا ہے۔ دور افق میں شفق کی لالی سیاہی مائل ہو رہی ہے، تاہم آکاش کے نیلے پن پر دھبوں کی صورت فی الحال اس طرح نہیں بکھری ہے جیسے قصاب خانے کے فرش پر منجمد خون کے دھّبے پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔
پہاڑی سلسلوں ذرا ادھر دائیں جانب ایک سر سبز و شاداب جنگل مسکرا رہا ہے۔ درمیان ایک ندی ہے۔ جس کے دوسرے کنارے کچھ بلندی پر ایک شمشان اپنی تمام تر سنگ دلی اور سر د مہری کے ساتھ موجود ہے اور اس کی نگاہیں اس چوڑی سنسان سڑک پر مرکوز ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
سارا قصہ اس عجیب وغریب رتھ سے شروع ہوا تھا جسے کھینچنے کے لیے گھوڑے نہیں تھے پھر بھی رتھ سرعت سے بھاگتا تھا، اس رتھ کے تعلق سے یہ خبر گشت کر رہی تھی کہ اسے ماضی کے اندھے کنویں سے نکالا گیا ہے اور یہ ماضی ہی کی طرف لوٹ رہا ہے۔ یہ رتھ ایک انتہائی قدیم شہر جو کہ اب جدید تھا کے قدیم مندر جیسا کہ اسے تعمیر کرنے کے جواز کے طور پر بتایا گیا اور جو دراصل جدید مندر تھا، اسی مندر کے ۔ایک قدیم کنویں سے برآمد ہوا تھا۔ اس رتھ کاسوامی ایک ایسا شخص تھا جو انگریزی بھی اسی روانی سے بولتا تھا۔۔۔مزید پڑھیں
انداز زمانے کا ویسا ہی رہا پھر بھی
سو بار سنایا اور سو بار کہا صاحب
دنیا سے شکایت کیا اور تم سے گلہ کیسا
الزام ہی ملنا تھا انعام وفا صاحب۔۔۔مزید پڑھیں
میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی ایک مزاحیہ کہانی ہے جس میں بیوی کو ایک گمنام لڑکی کے خط سے اپنے شوہر پر شک ہوجاتا ہے اور اسی وجہ سے ان میں کافی دیر تک بحث و مباحثہ ہوتا ہے لیکن جب بیوی کو صحیح صورت حال معلوم ہوتی ہے تو ماحول رومانی اور خوشگوار ہو جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں