مدرس ڈے

موبائل کی گھنٹی بجنے سے ہی میری آنکھ کھلی تھی ،بستر سے اتر کرجب تک میں کچھ دور میز پر رکھے موبائل تک پہنچی فون بند ہو چکا تھا۔ شاید کوئی ضروری میسج تھا جو بیل بجاکر بتایا گیا تھا۔ یقیناََ چھوٹے بیٹے کا ہی میسج ہوگا مجھے سمجھتے دیر نہ لگی وہ اکثریوں ہی کرتا ہے میسج کیا اور فون پر رنگ دے دی۔ اگر میں رات کو موبائل سوئچ آف کر دوں اور اس درمیان اس کا فون آجائے اور میرا فون نہ اٹھے توپریشان ہو کر گھر کے ہر فرد کویہاں تک کہ نوکروں اور پڑوسیوں کو بھی فون ملا دیتا ہے۔ دراصل میرا چھوٹا بیٹا بہت حساس اور محبت کرنے والا بچہ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

سونے کی انگوٹھی

میاں بیوی کی نوک جھونک پر مبنی مزاحیہ افسانہ ہے جس میں بیوی شوہر کو بڑے بالوں کی وجہ سے لعنت ملامت کرتی ہے۔ جب شوہر سیلون جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تو کہتی ہے اگر پیسے ہوں تو ذرا ایک سونے کی انگوٹھی لے آئیے گا، مجھے ایک سہیلی کی سال گرہ میں جانا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

نظارہ درمیاں ہے

تارا بائی کی آنکھیں تاروں کی ایسی روشن ہیں اور وہ گرد وپیش کی ہر چیز کو حیرت سے تکتی ہے۔ در اصل تارا بائی کے چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں ہیں۔ وہ قحط کی سوکھی ماری لڑکی ہے۔ جسے بیگم الماس خورشید عالم کے ہاں کام کرتے ہوئےصرف چند ماہ ہوئے ہیں۔ اور وہ اپنی مالکن کے شاندار فلیٹ کے ساز وسامان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ دیکھتی رہتی ہےکہ ایسا عیش و عشرت اسے پہلے کبھی خواب میں بھی نظر نہ آیا تھا۔ وہ گورکھپور کے ایک گاؤں کی بال ودھوا ہے۔ جس کے سسر اور ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے ماما نے جو ممبئی میں دودھ والا بھیا ہےاسے یہاں بلا بھیجا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

وہ جو کھوئے گئے

زخمی سر والے آدمی نے درخت کے تنےسے اسی طرح سرٹکائے ہوئے آنکھیں کھولیں۔ پوچھا، ’’ہم نکل آئے ہیں؟‘‘

باریش آدمی نے اطمینان بھرے لہجہ میں کہا۔ ’’خدا کاشکر ہے ہم سلامت نکل آئے ہیں۔‘‘

اس آدمی نےجس کے گلے میں تھیلا پڑا تھا تائید میں سرہلایا، ’’بیشک، بیشک کم از کم ہم اپنی جانیں بچاکر لے آئے ہیں۔‘‘ پھر اس نے زخمی سر والے کے سر پر بندھی ہوئی پٹی کی طرف دیکھا۔ پوچھا۔ ’’تیرےزخم کا اب کیاحال ہے۔۔۔مزید پڑھیں

رقص شرر

پارٹ وَن۔۔۔ کشتی پر

جیسو مرایا!

ہُم۔ جیسو مرایا !! (بالکل ولایتی ہو)

اوہ۔ ادھر دیکھو ۔ چھتر منزل کے نیچے نیچے درختوں کے سائے میں گومتی کا رنگ کتنا گہرا سبز نظر آرہا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

برہمچاری

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو امرناتھ یاترا پر نکلے ایک جتھے میں شامل ہے۔ اس جتھے میں جے چند، اس کا کلرک جیا لال، دو گھوڑے والے اور ایک لرکی سورج کماری بھی شامل ہے۔ چلتے ہوئے گھوڑے والے گیت گاتے ہیں اور انکے گیت سن کر لڑکی مسکراتی رہتی ہے۔ جتھے میں شامل یاتری سوچتا ہے کہ لڑکی اسے دیکھ کر مسکرا رہی ہے کہ اچانک اسے یاد آتا ہے کہ وہ تو برہمچاری ہے۔ اسی تانے بانے سے یہ دلچسپ کہانی بنی گئی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

قدامت پسند لڑکی

وہ چست قمیض پہنتی تھی اور اپنے آپ کو قدامت پسند بتاتی تھی۔ کرکٹ کھیلتے کھیلتے اذان کی آواز کان میں پہنچ جاتی تو دوڑتے دوڑتے رک جاتی، سرپہ آنچل ڈال لیتی اور اس وقت تک باؤلنگ نہیں کرتی جب تک اذان ختم نہ ہوجاتی۔

یہ اس لڑکی کا ذکر ہے جو مہاتما بدھ کی پیرو تھی اور تیسوں روزے رکھتی تھی۔ پکچر کا پروگرام ہو یا کرکٹ کا میچ، روزہ اس کا کبھی قضا نہیں ہوا۔ گولے کی آواز پر وہ پرس سے الائچی نکالتی، روزہ افطارتی اور پھر مصروف ہوجاتی اور انٹر کالجیٹ تقرری مقابلے میں ایک مرتبہ وہ صرف اس وجہ سے ہار ۔۔۔مزید پڑھیں