یہ پری چہرہ لوگ

ہر انسان اپنے مزاج اور کردار سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ سخت مزاج بیگم بلقیس طراب علی ایک دن مالی سے بغیچے کی صفائی کرا رہی تھیں کہ وہ مہترانی اور اس کی بیٹی کی بات چیت سن لیتی ہیں۔ بات چیت میں ماں بیٹی بیگموں کے اصل نام نہ لے کر انھیں مختلف ناموں سے بلاتی ہیں۔ یہ سن کر بلقیس بانو ان دونوں کو اپنے پاس بلاتی ہیں۔ وہ ان ناموں کے اصلی نام پوچھتی ہیں اور جاننا چاہتی ہیں کہ انھوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ مہترانی ان کے سامنے تو منع کر دیتی ہے لیکن اس نے بیگم بلقیس کا جو نام رکھا ہوتا ہے،وہ اپنے شوپر کے سامنے لے دیتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

ملفوظات حاجی گل بابا بیکتاشی

یہ ایک تجرباتی کہانی ہے۔ اس کہانی میں سینٹرل ایشیا کی روایات، رسم و رواج اور مذہبی عقائد کو مرکزی خیال بنایا گیا ہے۔ کہانی بیک وقت حال سے ماضی میں اور ماضی سے حال میں چلتی ہے۔ یہ دور عثمانیہ کے کئی واقعات کو بیان کرتی ہے، جن میں پیر و مرشد ہیں اور ان کے مرید ہیں، فقیر ہیں اور ان کا خدا اور رسول سے روحانی رشتہ ہے۔ ایک اہم خاتون کردار جس کا شوہر لاپتہ ہو گیا ہے، اس کی تلاش کے لیے ایک ایسے ہی بابا سے ملنے ایک عورت کا خط لے کر جاتی ہے۔ وہ اس بابا کی روحانی کرشموں سے روبرو ہوتی ہے جنہیں عام طور پر انسان نظر انداز کر دیتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

رے خاندان کے آثار

ماضی سے کمزور ہوتے رشتوں کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ کہانی کا راوی اپنے وسیع و عریض سے مکان سے کچھ دن دور رہنا چاہتا ہے اور اسی غرض سے وہ اپنے افسر دوست کے یہاں عظیم آباد جاتا ہے۔ وہاں اسے رے خاندان یاد آتا ہے جن کے گھرانہ سے راوی کے اہل خانہ کے اچھے مراسم تھے۔ ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتا ہے تو افسر دوست کا ماتحت بڑی تلاش و جستو کے بعد انجیلا رے کا پتا معلوم کر لیتا ہے لیکن پھر راوی کو ان سے ملنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور بغیر ملے ہوئے اپنے وطن لوٹ آتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

بھینٹ

چاند کی نکھری ہوئی چاندنی میں صاف و شفاف ندی کے کنارے اپنی تمام روایتوں اور عظمتوں کا حامل پیگوڈا کھڑا تھا۔ اس کی مخروطی چھت کسی ہادئ برحق کی آسمان کی طرف اٹھی ہوئی انگلی کی طرح یہ دکھاتی ہوئی معلوم ہوتی تھی کہ یہ ہے صداقت کی راہ اور یہی ہے گیان کی منزل۔۔۔مزید پڑھیں

اس کی بیوی

ایک نوجوان طوائف نسرین کی بانہوں میں پڑا ہوا ہےاور اس سے اپنی مرحوم بیوی کی باتیں کر رہا ہے۔ نسرین کی ہر ناز و انداز میں اسے اپنی بیوی کا عکس نظر آتا ہے۔ وہ اپنی بیوی کی ہر بات نسرین کو بتاتا ہے۔ شروع میں نسرین اس کی باتیں دلچسپی سے سنتی ہے پھر بعد میں اوبنے لگتی ہے اور ترس کھاکر اسے کسی ماں کی طرح اپنی بانہوں میں بھر لیتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

پسماندگان

ہاشم خان اٹھایئس برس کا کڑیل جوان، لمبا تڑنگا، سرخ و سفید جسم آن کی آن میں چٹ پٹ ہو گیا۔ کمبخت مرض بھی آندھی و دھاندی آیا۔ صبح کو ہلکی حرارت تھی، شام ہوتے ہوتے بخار تیز ہو گیا۔ صبح جب ڈاکٹر آیا تو پتہ چلا کہ سرسام ہو گیا ہے۔ غریب ماں باپ نے اپنی سی سب کچھ کر ڈالی۔ دن بھر میں ڈاکٹر سے لے کر پیروں فقیروں تک سب کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن نہ دوا دارو نے اثر کیا اور نہ تعویذ گنڈے کام آئے۔ پہر رات ہوئی تھی پھر حالت بگڑ گئی اور ایسی بگڑی کہ صبح پکڑنی دشوار ہو گئی۔ ماں باپ نے ساری رات آنکھوں میں کاٹی اور بلک بلک کر۔۔۔مزید پڑھیں