سوا سیر گیہوں

کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں نہ کسی کے دینے میں۔ چھکّاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ودّ یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور رام کا نام لے کر سو رہا۔ مگر جب کوئی مہمان درواز ے پر آ جاتا تو اسے یہ استغنا کا راستہ تر ک کر دینا پڑ تا تھا۔ خصوصاً جب کوئی سادھومہا تما آجاتے تھے تو اسے لا زماً دنیا وی باتو ں کا سہا را لینا پڑ تا۔ خود بھو کا سو سکتا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

ترقی پسند

طنز و مزاح کے پیرایہ میں لکھا گیا یہ افسانہ ترقی پسند افسانہ نگاروں پر بھی چوٹ کرتا ہے۔ جوگندر سنگھ ایک ترقی پسند افسانہ نگار ہے جس کے یہاں ہریندر سنگھ آکر پڑاؤ ڈال دیتا ہے اور مسلسل اپنے افسانے سنا کر بو رکرتا رہتا ہے۔ ایک دن اچانک جوگندر سنگھ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی حق تلفی کر رہا ہے۔ اسی خیال کے تحت وہ ہریندر سے باہر جانے کا بہانہ کرکے بیوی سے رات بارہ بجے آنے کا وعدہ کرتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

عیدگاہ

یہ کہانی پریم چند کی لکھی کہانی کے آگے کی داستان بیان کرتی ہے۔ عیدگاہ سے لوٹتے ہوئے حامد نے اپنے ساتھیوں کے کھلونوں کا مذاق اڑایا تھا اور اپنے دست پناہ کا رعب دکھایا تھا۔ گھر پہنچنے پر اس کے ساتھیوں کے سارے کھلونے ایک ایک کر ٹوٹ جاتے ہیں۔ ان کھلونوں کے ٹوٹنے کا الزام حامد پر لگایا جاتا ہے اور اسے گرفتار کر لیا جاتا ہے۔۔۔مزہد پڑھیں

اسٹوری

طاسٹوری رات کافی بیت چکی تھی، بہزاد الیاسی کو اس کاعلم اچانک ہی ہوا جب بے چینی سے ٹہلتے ٹہلتے اس کی نظر ڈیجیٹل وال کلاک پر جاٹکی جس پر ٹو تھرٹی ایٹ اے ایم کے سبز ہندسے انگریزی حروف کے ساتھ چمک رہے تھے۔ باہر ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی، اندھیرے میں اسٹریٹ لائٹ کی روشنی کے دائرے میں پانی کی ٹوٹتی بکھرتی بوندوں کا منظر اسے راحت بخش محسوس ہوا کیونکہ اندر کمرے میں امس تھی، گھٹن تھی، اے سی آن کرنا ممکن نہیں تھا، بجلی کی ریگولر سپلائی گئی ہوئی تھی اور کالونی میں جنریٹر سے بجلی فراہم کی جا رہی تھی۔۔۔مزید پڑھیں

ایک محبت کی کہانی

یہ ایک کتے کی سوانحی اسلوب میں لکھی کہانی ہے۔ کتے کا نام کانگ ہے اور وہ اپنے بچپن سے لےکر اس بڑے سے گھر میں آنے، اپنا نام رکھے جانے اور وہاں کے لاڈ پیار کو بیان کرتا ہے، جس کے بدلے میں وہ اپنی جان تک دے دیتا ہے۔‘‘

باغ کے درختوں کو جب میں نے پہلی بار دیکھا اس وقت میں کتنے دنوں کا تھا یہ تو یاد نہیں لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ میں وہاں پہلے سے تھا۔ پاس والے درخت کو اوپر تک دیکھنے کے لیے میں نے آنکھیں اوپر کی ہی تھیں کہ میرا ایک بھائی بھد سے مجھ سے ٹکرا گیا اور ۔۔۔مزید پڑھیں

کاٹھ کے گھوڑے

سیلانی نے روزنامچے میں درج کیا۔۔۔

اس بستی میں پہلے سے ایک پرانا قبیلہ آباد تھا۔ لمبا عرصہ گذرا تو گھوڑوں پر سوار ایک نئے قبیلے کے جاں باز گھڑ سوار آئے اور اس پرانی بستی میں آباد ہو گئے۔ بستی کی صورت حال یہ تھی کہ اس میں نئے قبیلے کے لیے رہائش کی کوئی ایک جگہ دستیاب ہونی ممکن نہیں رہی تھی اس لیے وہ پوری بستی میں اِدھراُ دھر بکھر گیا۔ دونوں قبیلوں کے بیچ آبادی کے لحاظ سے خطِ تقسیم کھینچنا ممکن نہ رہا۔ دونوں قبیلوں کی۔۔۔مزید پڑھیں