بیمار

یہ ایک تجسس آمیز رومانی کہانی ہے جس میں ایک عورت مصنف کو مسلسل خط لکھ کر اس کے افسانوں کی تعریف کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بیماری کا ذکر بھی کرتی جاتی ہے جو مسلسل شدید ہوتی جا رہی ہے۔ ایک دن وہ عورت مصنف کے گھر آ جاتی ہے۔ مصنف اس کے حسن پر فریفتہ ہو جاتا ہے اور تبھی اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عورت اس کی بیوی ہے جس سے ڈیڑھ برس پہلے اس نے نکاح کیا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

پہچان

بھاگتے بھاگتے وہ تھک گیا۔ سلگتا دہکتا ہوا منظر لاوے کی طرح کھول رہا تھا، ابل رہا تھا او رچیخ وپکار اس کے کان چھیدے ڈال رہی تھی۔ اس منظر اور آہ و بکا کو خود سے دور کرنے وہ کسی ایسے مقام پر پہنچ جانا چاہتا تھا جہاں سکوت کے سوا کچھ نہ ہو۔ لہٰذا جب تک قدموں نے ساتھ دیا، وہ نہیں رکا مگر آخر کار گرا اور بےسدھ ہو گیا۔

تب مہربان زمین نے اپنی آغوش پھیلا دی اور تازہ ہوا نے شفقت سے اسے تھپکا تو وہ سب کچھ بھول گیا۔۔۔مزید پڑھیں

ممی

عورت کے ایثار و خلوص کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہوئی کہانی ہے۔ ممی جو بظاہر ایک نائکہ تھی اس کے دل میں مامتا اور انسانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ’سعیدہ کاٹیج‘ میں فلم انڈسٹری سے منسلک افراد رہتے تھے اور ان سب کے ساتھ ممی کا رویہ ایک ماں کا سا تھا۔ پولیس نے جب اسے شہر بدر کر دیا تو سب نے مل کر ایک بڑی پارٹی کی اور اس کے جانے کے بعد مغموم رہے۔۔۔مزید پڑھیں

موت

اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھا۔ اندھیرے کا ناگ ہر طرف پھن کاڑھے سرسرا رہا تھا۔ اتنا گھنا اندھیرا کہ اسے خود اپنے وجود پر سے اعتبار اٹھ رہا تھا۔ شک کی تیز لہریں اس کے ذہن کی دیواروں سے ٹکرانے لگیں۔ ’’میں ہوں؟‘‘ 

’’میں ہوں؟؟‘‘ 

پہلے ایک سوال ابھرا۔۔۔ پھر سوالوں کے دائرے ابھرے اور لمحہ بہ لمحہ گنجان ہوتے چلے گئے۔ 

’’ کہیں میں خود بھی تو اسی اندھیرے کا حصہ نہیں؟‘‘ ۔۔۔مزید پڑھیں

سانسوں کے درمیان

وہ عجیب سی ذہنی حالت میں جی رہا تھا۔

ایسی حالت جس میں وہ معمول کے مطابق ہر عمل کررہا تھا لیکن وہ عمل اس کی یادداشت کا حصہ نہیں بن رہا تھا۔ خواب خواب کیفیت، جیسے بہت زیادہ نشے میں ہو سب کچھ یاد رہتا ہے لیکن کہیں کہیں درمیانی کڑیاں غائب ہوجاتی ہیں۔ سب کچھ نظر آتا ہے لیکن دھندلا دھندلا۔۔۔ وہ گفتگو بھی کرتا تھا۔ جواب بھی سنتا تھا لیکن الفاظ گہرے کنویں میں گرتے جاتے اور آواز اندر سے آتی مبہم مبہم سی۔۔۔ وہ چلتا تھا لیکن جیسے زمین سے دو انچ اوپر چل رہا ہو۔۔۔مزید پڑھیں

کلنک

سکینہ علی باقر دنیا کے کئی ممالک میں اپنے بیٹے کی سالگرہ مناتے ہوئے اس بار ہندوستان آئی تھی اور اب یہاں وہ اپنے بیٹے کی سالگرہ کی تقریب منانے کی تیاری کر رہی تھی۔میں نہیں جانتی کہ سکینہ علی باقر کون ہے؟ میں کبھی اس سے نہیں ملی۔ مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ ہر سال کسی نہ کسی ملک میں جا کر۔۔۔مزید پڑھیں