لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی
دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں
راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی
کوئی کنکر پھینکنے والا ۔۔۔مزید پڑھیں
لے گیا خوشیوں کا میری پل کوئی
دھنس رہا ہے ہر قدم میرا یہاں
راہ میں درپیش ہے دلدل کوئی
کوئی کنکر پھینکنے والا ۔۔۔مزید پڑھیں
شناخت کے بحران کی کہانی ہے۔ ایک شخص اپنے وجود کی تلاش میں غلطاں و پیچاں پھر رہا ہے لیکن اسے کوئی مناسب حل نہیں ملتا ہے۔ ایک شخص خود کو تلاش کرتا ہوا ایک عبادت خانے کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو بایزید پوچھتے ہیں کہ تو کون ہے؟ کس کی تلاش ہے؟ وہ بتاتا ہےکہ میں بایزید کو تلاش کر رہا۔۔۔مزید پڑھیں
ہم فقیروں سے دوستی کر لو
چشم بینا نہیں تو سب کچھ گم
چاہے کتنی ہی روشنی کر لو
ایک چولہا الگ ہوا گھر۔۔۔مزید پڑھیں
دفتر میں ذرا دیر سے آنا افسروں کی شان ہے۔ جتنا بڑا افسر ہوگا اتنی ہی دیر سے آئے اور اسی قدر جلد چلا جائے گا۔چپڑاسی کی حاضری چوبیس گھنٹوں کی۔ وہ چھٹی پر بھی نہیں جاسکتا۔ اس کا معاوضہ دینا پڑتا ہے۔ خیر جب بریلی ڈسٹرکٹ بورڈ کے ہیڈ کلرک بابو مداری لال گیارہ بجے دفتر آئے۔ تو دفتر جیسے نیند سے جاگ اٹھا۔ چپڑاسی نے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ افسانہ فرض ناشناس اقوام کے زوال کا نوحہ ہے۔ ساسان پنجم کے زمانے کی عمارت پر کندہ عبارت پڑھنے اور اسے سمجھنے کے لیے آثار قدیمہ کے ماہرین بلاے جاتے ہیں وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود عبارت پڑھنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ تحقیق کے بعد یہ ثابت کر دیا جاتا ہے کہ ساسان پنجم کا وجود فرضی۔۔۔مزید پڑھیں
زمین ذرہ ہے اس کائنات سے آگے
اک اور سلسلۂ حادثات ہے روشن
اس ایک سلسلۂ حادثات سے آگے
ہوائے عکس بہار و خزاں نہیں۔۔۔مزید پڑھیں
ظالم تبھی تک حملہ آور رہتا ہے جب تک آپ خاموش ظلم سہتے رہتے ہیں۔ سنتو دیوان صاحب کو فصل میں سے اس کا حصہ دینے سے منع کر دیتا ہے۔ سنتو جب حصہ نہ دینے کی بات کرتا ہے تو کچھ لوگ اس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ دھیرے دھیرے اور لوگ بھی اس مہم میں شامل ہو۔۔۔مزید پڑھیں
جذباتی استحصال کے ذریعہ انتہائی عیاری سے ایک شریف خاندان کو طوائفوں کی راہ پر گامزن کرنے کی کہانی ہے۔ فیاض کو فطری طور پر موسیقی سے لگاؤ تھا لیکن گھریلو حالات اور آلام روزگار نے اس کے اس شوق کو دبا دیا تھا۔ اچانک ایک دن فن موسیقی کا ماہر فقیر اسے راستے میں ملتا ہے۔ اس کے فن سے متاثر ہو۔۔۔مزید پڑھیں
اسی منزل پہ شاید دوست کا کاشانہ آتا ہے
بہ سوئے مے کدہ جب بھی کوئی مستانہ آتا ہے
صراحی جھومتی ہے وجد میں پیمانہ آتا ہے
یہ حالت ہو گئی اپنی جنوں میں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ مدن سندری کے بھائی اور پتی کے تن سے جدا سر مندر کے آنگن میں پڑے ہیں۔ مدن سندری دیوی سے وردان مانگتی ہے اور غفلت سے بھائی کا سر پتی کے دھڑ سے اور پتی کا سر بھائی کے دھڑ پر لگا دیتی ہے۔ رات کو بستر میں مدن سندری کو یہ احساس ہوتا۔۔۔مزید پڑھیں