یہ کر گیا مہ و انجم مرے حوالے کون
نیا جریدۂ شعر و ادب نکالے کون
یہاں خرید کے پڑھتا ہے خود رسالے کون
چہار سمت منڈیروں پہ زاغ بیٹھے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کر گیا مہ و انجم مرے حوالے کون
نیا جریدۂ شعر و ادب نکالے کون
یہاں خرید کے پڑھتا ہے خود رسالے کون
چہار سمت منڈیروں پہ زاغ بیٹھے۔۔۔مزید پڑھیں
اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکّیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے اس پر ایک پرمانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کہانی مغربی جرمنی میں جا رہی ایک ٹرین سے شروع ہوتی ہے۔ ٹرین میں پانچ لوگ سفر کر رہے ہیں جن میں ایک پروفیسر اور اس کی بیٹی، ایک کناڈا کی لڑکی اور ایک ایرانی پروفیسر اور اس کا ساتھی ہیں۔ شروع میں سب خاموش بیٹھے رہتے ہیں پھر رفتہ رفتہ آپس میں۔۔۔مزید پڑھیں
ڈوب جانے کے لئے ہر کوئی تیار بھی ہو
کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ
دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو
ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی۔۔۔مزید پڑھیں
مرد اساس معاشرے میں طوائف کو کن کن مورچوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس افسانہ میں پیش کی گئی ہے۔ ننھی جان کی غیر موجودگی میں تین پٹھان اس کے کوٹھے پر آتے ہیں اور اس کے دو ملازمین سے چاقو کے دم پر زور زبردستی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے۔۔۔مزید پڑھیں
ہندوستان نے راجستھان کے پوکھرن میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا۔ اس ایٹمی تجربے سے اس علاقے کے سارے مور ہلاک ہو گئے تھے۔ افسانہ نگار نے جب یہ خبر پڑھی تو انھیں بہت دکھ ہوا اور اس کہانی کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس افسانے میں مصنف نے اپنے دکھ کا اظہار ہی نہیں کیا۔۔۔مزید پڑھیں
ہم اپنے سر پہ کھلا آسمان رکھتے ہیں
بچا کے ہم یہ بزرگوں کی شان رکھتے ہیں
نہیں ہے شمع مگر شمع دان رکھتے ہیں
گلے بھی ملتے ہیں ہاتھوں کو بھی ملاتے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ وہ زمانہ تھا جب چتوڑمیں میرا بائی تصوف کے متوالوں کوپریم کے پیالے پلاتی تھی۔ رنچھوڑجی کے مندرمیں جس وقت وہ بھکتی سے متوالی ہوکر اپنی سریلی آوازمیں پاکیزہ راگوں کو الاپتی تو سننے والے مست ہوجاتے۔ ہرروزشام کویہ روحانی سکون اٹھانے کے لئے چتوڑ کے لوگ اس طرح بے قرار ہوکر۔۔۔مزید پڑھیں
ہم سمجھ بوجھ کے بیٹھے ہیں کہ دنیا کیا ہے
مسئلہ بھی ہے اگر کوئی تو ایسا کیا ہے
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تو قصہ کیا ہے
وہ جسے ہم نے کیا رشتۂ جاں سے۔۔۔مزید پڑھیں
میں اپنے دوست کے پاس بیٹھا تھا۔ اس وقت میرے دماغ میں سقراط کا ایک خیال چکّر لگا رہا تھا۔۔۔ قدرت نے ہمیں دو کان دیے ہیں اور دو آنکھیں مگر زبان صرف ایک تاکہ ہم بہت زیادہ سنیں اور دیکھیں اور بولیں کم، بہت کم!۔۔۔مزید پڑھیں