رانی سارندھا

اندھیری رات کے سناٹے میں دہسان ندی چٹانوں سے ٹکراتی ہوئی سہانی آواز پیدا کرتی تھی، گویا چکّیاں گھمر گھمر کرتی ہوں۔ ندی کے داہنے کنارے پر ایک ٹیلا ہے اس پر ایک پرمانا قلعہ بنا ہوا ہے، جس کی فصیلوں کو گھاس اور کائی نے گھیر لیا ہے۔ ٹیلے کے پورب میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے۔ یہ قلعہ اور۔۔۔مزید پڑھیں

یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے

یہ کہانی مغربی جرمنی میں جا رہی ایک ٹرین سے شروع ہوتی ہے۔ ٹرین میں پانچ لوگ سفر کر رہے ہیں جن میں ایک پروفیسر اور اس کی بیٹی، ایک کناڈا کی لڑکی اور ایک ایرانی پروفیسر اور اس کا ساتھی ہیں۔ شروع میں سب خاموش بیٹھے رہتے ہیں پھر رفتہ رفتہ آپس میں۔۔۔مزید پڑھیں

ناک کاٹنے والے

مرد اساس معاشرے میں طوائف کو کن کن مورچوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس افسانہ میں پیش کی گئی ہے۔ ننھی جان کی غیر موجودگی میں تین پٹھان اس کے کوٹھے پر آتے ہیں اور اس کے دو ملازمین سے چاقو کے دم پر زور زبردستی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے۔۔۔مزید پڑھیں

مورنامہ

ہندوستان نے راجستھان کے پوکھرن میں ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا۔ اس ایٹمی تجربے سے اس علاقے کے سارے مور ہلاک ہو گئے تھے۔ افسانہ نگار نے جب یہ خبر پڑھی تو انھیں بہت دکھ ہوا اور اس کہانی کی تخلیق عمل میں آئی۔ اس افسانے میں مصنف نے اپنے دکھ کا اظہار ہی نہیں کیا۔۔۔مزید پڑھیں

مریادا کی قربان گاہ

یہ وہ زمانہ تھا جب چتوڑمیں میرا بائی تصوف کے متوالوں کوپریم کے پیالے پلاتی تھی۔ رنچھوڑجی کے مندرمیں جس وقت وہ بھکتی سے متوالی ہوکر اپنی سریلی آوازمیں پاکیزہ راگوں کو الاپتی تو سننے والے مست ہوجاتے۔ ہرروزشام کویہ روحانی سکون اٹھانے کے لئے چتوڑ کے لوگ اس طرح بے قرار ہوکر۔۔۔مزید پڑھیں