یہ افسانہ ایک مخصوص کمیونٹی کے رسوم و روایات کے تناظر میں لکھا گیا ہے۔ مرکزی کردار ایڈوینچر کی غرض سے مختلف علاقوں کا سفر کرتا ہے اور ہر جگہ اپنے میزبان کو اپنا نام اور پتہ کاغذ پر لکھ کر دے آتا ہے۔ رفتہ رفتہ اسے یہ گھومنا پھرنا فضول مشغولیات محسوس ہوتی۔۔۔مزید پڑھیں
ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا
ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا
نہ جانے سہو قلم ہے کہ شاہکار قلم
بلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا
نگاہ ڈال دی جس پر وہ ہو گیا۔۔۔مزید پڑھیں
ستاروں سے آگے
کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ طلبا کے ایک گروپ کی کہانی جو رات کی تاریکی میں گاؤں کے لیے سفر کر رہا ہوتا ہے۔ سبھی ایک بیل گاڑی میں سوار ہیں اور گروپ کا ایک ساتھی ماہیا گا رہا ہے دوسرے اسے غور سے سن رہے ہیں۔ بیچ بیچ میں کوئی ٹوک دیتا ہے اور تیسرا اس کا جواب دینے۔۔۔مزید پڑھیں
پتے
نسان کی جبلی خواہشات پر قدغن لگانے اور قابو نہ پانے کی کہانی ہے۔ جو جاتک کتھا اور ہندو دیو مالا کے حوالے سے تشکیل دی گئی ہے۔ سنجے بھکشا لینے اس مضبوط ارادے کے ساتھ جاتا ہے کہ وہ بھکشا دینے والی عورت کو نہیں دیکھے گا لیکن ایک دن اس کی نظر ایک عورت کے۔۔۔مزید پڑھیں
گھنے جنگلوں میں کرن رہ گئی
ہمارے بدن میں تھکن رہ گئی
اجالوں کو تنہائیاں پی گئیں
اندھیروں میں غرق انجمن رہ گئی
کہیں رشتۂ جان و تن کھو۔۔۔مزید پڑھیں
بامبے والا
یہ ایک کالونی کی کہانی ہے جس میں دفتر کے بابو آباد تھے۔ انھیں پوری طرح سے امیر تو نہیں کہا جا سکتا تھا مگر ظاہری طور پر وہ بہت خوشحال اور متمول ہی دکھتے تھے۔ امیروں ہی جیسے ان کے شوق تھے۔ اسی کالونی میں ایک شخص ہفتے میں ایک بار بچوں کے لیے ٹافی بیچنے آیا کرتا۔۔۔مزید پڑھیں
سیمیں بدن ہے وہ نہ گل نسترن ہے وہ
پھر بھی ہمارے واسطے جان سخن ہے وہ
جادو خیال آفریں دل دار و دل نشیں
گلدستۂ بہار ہے سرو و سمن ہے وہ
موسم سے ماورا ہے مرا پیکر۔۔۔مزید پڑھیں
محل والے
تقسیم ہند کے بعد صاحب ثروت طبقہ جو ہجرت کرکے پاکستان میں آباد ہوا تھا ان کے یہاں جائداد کی تقسیم کو لے کر پیدا ہونے والے مسئلہ کی عکاسی کی گئی ہے۔ محل والوں کی حالت تو تقسیم سے پہلے جج صاحب کی موت کے بعد ہی ابتر ہو چکی تھی لیکن تقسیم نے ان کے خاندان کی۔۔۔مزید پڑھیں
صرف ایک آواز
صبح کا وقت تھا۔ ٹھاکر درشن سنگھ کے گھر میں ایک ہنگامہ برپا تھا۔ آج رات کو چندر گرہن ہونے والا تھا۔ ٹھاکر صاحب اپنی بوڑھی ٹھکرائن کے ساتھ گنگا جی جاتے تھے۔ اس لیے سارا گھر ان کی پرشور تیاری میں مصروف تھا۔ ایک بہو ان کا پھٹا ہوا کرتا ٹانک رہی تھی۔ دوسری بہو ان کی پگڑی لیے سوچتی۔۔۔مزید پڑھیں
نقاب اس نے رخ حسن زر پہ ڈال دیا
مرے حریف تمہاری دعا سے کم نہ ہوئے
سیاہ رات میں دل کے مہیب سناٹے
خروش نغمۂ شعلہ نوا سے کم نہ ہوئے
وطن کو چھوڑ کے ہجرت بھی کس کو۔۔۔مزید پڑھیں






