تقسیم ملک پر لکھی ایک کہانی۔ ہربنس پور ریلوے اسٹیشن پر گاڑی کافی دیر سے رکی ہوئی ہے۔ ٹرین میں ہندوستان جانے والی سواریاں بھری ہوئی ہیں، انھیں میں ایک اسکول ماسٹر بھی ہے۔ ماسٹر کے ساتھ اس کی بیمار بیوی کے علاوہ ایک بیٹا، ایک بیٹی اور ایک دودھ پیتا بچہ۔۔۔مزید پڑھیں
مراسلہ
اس افسانہ میں ایک قدامت پسند گھرانے کی روایات، آداب و اطوار اور طرز رہائش میں ہونے والی تبدیلیوں کا ذکر ہے، افسانہ کے مرکزی کردار کے گھر سے اس گھرانے کے گہرے مراسم ہوا کرتے تھے لیکن وقت اور مصروفیت کی دھول اس تعلق پر جم گئی۔ ایک طویل عرصے کے بعد جب۔۔۔مزید پڑھیں
میرے نازک سوال میں اترو
ایک حرف جمال میں اترو
نقش بندی مجھے بھی آتی ہے
کوئی صورت خیال میں اترو
پھینک دو دور آج سورج۔۔۔مزید پڑھیں
پت جھڑ کی آواز
یہ کہانی کے مرکزی کردار تنویر فاطمہ کی زندگی کے تجربات اور ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے۔ تنویر فاطمہ ایک اچھے خاندان کی تعلیم یافتہ لڑکی ہے لیکن زندگی جینے کا فن اسے نہیں آتا۔ اس کی زندگی میں یکے بعد دیگرے تین مرد آتے ہیں۔ پہلا مرد خشوقت سنگھ ہےجو خود سے۔۔۔مزید پڑھیں
آپ کی مجھ پہ جب بھی نوازش ہوئی
مجھ پہ سنگ ملامت کی بارش ہوئی
زندگی بھر رہے گی مجھے یاد وہ
عشق میں جو مری آزمائش ہوئی
میرا بچپن مجھے یاد آنے۔۔۔مزید پڑھیں
بھنور
حاجی صاحب ایک پرہیزگار اور مذہبی شخص ہے۔ وہ شہر کی غلاظت کو دور کرنے کے لیے بازارو عورتوں کے درمیان تقریر کرتے ہیں اور انھیں گناہوں کے دلدل سے نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انھیں میں دو بہنیں گل اور بہار بھی ہیں۔ گل حاجی صاحب کی باتوں سے۔۔۔مزید پڑھیں
نجات
دکھی چمار دروازے پر جھاڑو لگا رہا تھا۔ اور اس کی بیوی جھریا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے تو چمارن نے کہا،تو جا کر پنڈت بابا سے کہہ آؤ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے۔۔۔مزید پڑھیں
کیوں کسی سے وفا کرے کوئی
دل نہ مانے تو کیا کرے کوئی
نہ دوا چاہیے مجھے نہ دعا
کاش اپنی دوا کرے کوئی
مفلسی میں مزاج شاہانہ
کس مرض کی دوا کرے۔۔۔مزید پڑھیں
کایا کلپ
شہزادہ آزاد بخت نے اس دن مکھی کی صورت میں صبح کی۔۔۔ اور وہ ظلم کی صبح تھی کہ جو ظاہر تھا چھپ گیا، اور جو چھپا ہوا تھا وہ ظاہر ہوگیا، تو وہ ایسی صبح تھی کہ جس کے پاس جو تھا وہ چھن گیا اور جو جیسا تھا ویسا نکل آیا۔ اور شہزادہ آزاد بخت مکھی بن۔۔۔مزید پڑھیں
نوک جھونک
میں درحقیقت بد نصیب ہوں ورنہ کیوں مجھے روز ایسے نفرت انگیز مناظر دیکھنے پڑتے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ مجھے دیکھنے ہی نہیں پڑتے بلکہ بدنصیبی نے ان کو میری زندگی کا جزو خاص بنادیا ہے۔ میں اس عالی ظرف برہمن کی لڑکی ہوں جس کا احترام بڑی بڑی ہندو مذہبی سوسائٹیوں میں۔۔۔مزید پڑھیں







