یعنی تنہا سفری چاہتا ہے
جس کو منزل کی تمنا ہی نہیں
صرف بے راہروی چاہتا ہے
اپنے ہمسائے کی خاطر یہ۔۔۔مزید پڑھیں
یعنی تنہا سفری چاہتا ہے
جس کو منزل کی تمنا ہی نہیں
صرف بے راہروی چاہتا ہے
اپنے ہمسائے کی خاطر یہ۔۔۔مزید پڑھیں
کوئی ایک مانوس سی آواز نے سرگوشی کی۔ اس نے آس پاس دیکھا۔ ادھ پکی بالیوں کے لہلانے کی آواز تھی۔ کچھ دن قبل سرپھری ہوا چلی تھی، ابروباراں میں زبر اور گھنی فصلیں چت لیٹ گئیں تھیں۔ کسان راحت کی سانس لےرہے تھے کہ پروا چل رہی ہے۔ گیہوں کے دانے اب سوکھے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ زندہ استعارے تتلیاں جگنو پرندے
یہیں ملتی ہیں دھرتی کی حدیں باغ ارم سے
وہ دیکھو ابر پارے تتلیاں جگنو پرندے
بس اک تم ہی نہیں منظر میں ورنہ کیا نہیں ہے
صراحی چاند تارے تتلیاں جگنو۔۔۔مزید پڑھیں
آرام کرسی ریل کے ڈبے سے لگادی گئی اور بھائی جان نے قدم اٹھایا، ’’الہٰی خیر۔۔۔ یا غلام دستگیر۔۔۔ بارہ اماموں کا صدقہ۔ بسم اللہ بسم اللہ۔۔۔ بیٹی جان سنبھل کے۔۔۔ قدم تھام کے۔۔۔ پائنچہ اٹھاکے۔۔۔ سہج سہج، بی مغلانی نقیب کی طرح للکاریں۔ کچھ میں نے گھسیٹا کچھ بھائی صاحب نے۔۔۔مزید پڑھیں
تشنہ محبت کی کہانی ہے، ایک دوست اپنے دوسرے دوست سے اس کی ناکام محبت کا قصہ پوچھتا ہے لیکن کچھ بتانے سے قبل ہی ریستوران میں اور بھی کئی لوگ آجاتے ہیں۔ وہ دونوں اس معاملے کو کسی اور وقت کے لیے ٹال دیتے ہیں۔ پھر طالب علمی کے زمانے کی سیاسی۔۔۔مزید پڑھیں
جتنی کہ یہ زمین ہے اتنا ہی آسماں ہوں میں
میرے ہی دم قدم سے ہیں قائم یہ نغمہ خوانیاں
گلزار ہست و بود کا طوطیٔ خوش بیاں ہوں میں
مجھ ہی میں ضم ہیں جان لے دریا تمام دہر کے
قطرہ نہ تو مجھے سمجھ اک بحر بیکراں۔۔۔مزید پڑھیں
مسٹر مہتہ ان بد نصیبوں میں سے تھے جو اپنے آقا کو خوش نہیں رکھ سکتے۔ وہ دل سے اپنا کام کرتے تھے بڑی یکسوئی اور ذمہ داری کے ساتھ اور یہ بھول جاتے تھے کہ وہ کام کے تونوکر ہیں ہی اپنے آقا کے نوکر بھی ہیں۔ جب ان کے دوسرے بھائی دربار میں بیٹھے خوش گپیاں کرتے وہ دفتر میں۔۔۔مزید پڑھیں
اس افسانے میں اپنی جڑوں سے کٹ جانے اور تہذیب کے پامال ہو جانے کا نوحہ ہے۔ کالج میں آم کا ایک درخت ہے جس پر مختلف سیاسی پارٹیوں کے حامی طلبا اپنا جھنڈا لگایا کرتے ہیں لیکن نظریاتی اختلافات کی وجہ سے درخت پر جھنڈے لگانے کی روایت ختم کر دی جاتی۔۔۔مزید پڑھیں
سر سے پانو تک اترنا تھا اترتا رہ گیا
بارشوں نے پھر وہی زحمت اٹھائی دیر سے
ایک ریگستان ہے کہ پھر بھی پیاسا رہ گیا
زندگی بھر آنکھ سے آنسو ندامت کے۔۔۔مزید پڑھیں
شریف حسین ایک کلرک ہے۔ ان دنوں اس کی بیوی میکے گئی ہوتی ہے۔ وہ ایک دن شہر کے بازار جا پہنچتا ہے اور وہاں نہ چاہتے ہوئے بھی ایک سنگ مرمر کا ٹکڑا خرید لیتا ہے۔ ایک روز وہ سنگ تراش کے پاس جاکر اس سنگ مر مر کے ٹکڑے پر اپنا نام کندہ کرا لیتا ہے کہ جب اس کی ترقی ہو۔۔۔مزید پڑھیں