کرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہے
دل کی زخموں کو کیا کرتا ہے تازہ ہر دم
پھر ستم یہ ہے کہ رونے بھی نہیں دیتا ہے
اشک خوں دل سے امنڈ آتے ہیں دریا کی۔۔۔مزید پڑھیں
کرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہے
دل کی زخموں کو کیا کرتا ہے تازہ ہر دم
پھر ستم یہ ہے کہ رونے بھی نہیں دیتا ہے
اشک خوں دل سے امنڈ آتے ہیں دریا کی۔۔۔مزید پڑھیں
یہ مشترکہ تہذیب کے بکھرنے کی کہانی ہے۔ اس مشترکہ تہذیب کی جسے برصغیر میں رہنے بسنے والوں کی صدیوں کے میل جول اور یکجہتی کا نمونہ مانا جاتا ہے۔ اس کہانی میں رشتوں کے ٹوٹنے، خاندانوں کے بکھرنے اور ماضی کے بہترین انسانی قدروں کے پامال ہونے کی۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کیا ہے؟میں نے دوسرا گلاس ختم کرتے ہوئے پوچھا، ’’بولتی نہیں، یہ کیا ہے۔۔۔؟‘‘ اس کے سرخ ہونٹ دہکنے لگے۔ سارا چہرہ شرارت کے نور سے تلملا اٹھا۔ صاف و شفاف چہرے پر سرخی جھلکنے لگی۔ چہرہ مسرت آمیز جذبات کا آئینہ تھا۔ اس نے اپنے سرخی مائل سنہری بالوں کی خوبصورت اور۔۔۔مزید پڑھیں
شہر میں قید ہوا گاؤں سے آنے والا
پھر وہی عرض مری حق و صداقت والی
پھر وہی عذر ترا حیلہ بہانے والا
فرش گل جان کے خاروں پہ قدم رکھتا ہوں
کون ہے میرے لئے پلکیں بچھانے۔۔۔مزید پڑھیں
وہ ایک لمحہ کے لیے رُکا اور ایک مٹھی چاول ہوا میں اُچھالتے ہوئے لاپرواہی سے آگے بڑھ گیا۔ غار سے چلتے وقت اس نے اکیس مٹھی چاول ہوا میں اچھالنے کی رسم پوری کردی تھی۔ اور اکیس بار چاول کی شراب کی بوندیں دھرتی پر گرا دی تھیں۔ اب ان مردود سپاہیوں کی روحیں اس کا پیچھا نہ کرسکتی۔۔۔مزید پڑھیں
یہ افسانہ معاشرتی سطح پر قدیم سے جدید تک کا سفر کرنے، رہن سہن، عادات و اطوار، آداب و سلام کے طریقے میں تبدیلی پر مبنی ہے۔ احسان منزل میں رہنے والے افراد دقیانوسیت کی حد تک روایتی اقدار کے پابند تھے۔ بیٹے کی تعلیم علی گڑھ میں ہونے کی وجہ سے ان کی سوچ میں تھوڑی بہت لچک تو۔۔۔مزید پڑھیں
شمع گل ہو گئی دل بجھ گیا پروانے کا
عشق سے دل کو ملا آئنہ خانے کا شرف
جگمگا اٹھا کنول اپنے سیہ خانے کا
خلوت ناز کجا اور کجا اہل۔۔۔مزید پڑھیں
سہ دری کے چوکے پر آج پھر صاف ستھری جازم بچھی تھی۔ ٹوٹی پھوٹی کھپریل کی جھریوں میں سے دھوپ کے آڑے ترچھے قتلے پورے دالان میں بکھرے ہوئے تھے۔ محلے ٹولے کی عورتیں خاموش اور سہمی ہوئی سی بیٹھی تھیں۔ جیسے کوئی بڑی ورادات ہونے والی ہو۔ ماؤں نے بچے چھاتیوں سے لگا لئے۔۔۔مزید پڑھیں
یہی زندگی کا اصول ہے گلے سب سے بڑھ کے ملا کرو
کبھی راز دل نہ عیاں کرو نہ تو غیر ہی کی سنا کرو
تمہیں جو بھی کہنا ہے شوق سے مرے پاس آ کے کہا کرو
مرے پیٹھ پیچھے رقیب سے کرو یوں نہ راز کی بات تم
جو گلہ ہے مجھ سے اگر کوئی مری بات مجھ سے کہا۔۔۔مزید پڑھیں
پدما کار سے اترکر اپنی بہن سے گلے ملی تو اسے خوشی کے بجائے روحانی صدمہ ہوا۔ یہ وہ رتنا نہ تھی جسے اس نے سال بھر پہلے جیجا جی کے ساتھ خوش خوش گھر آتے دیکھا تھا۔ شگفتہ اور مخمور اور متبسم۔ وہ پھو ل مرجھا گیا تھا۔ بہن کے خطوں سے پدما کو اتنا ضرور معلوم ہوا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ۔۔۔مزید پڑھیں