تنکے کا سہارا

خاموش طبع اور ملنسار میر صاحب کے اچانک انتقال سے اہل محلہ ان کی غربت سے واقف ہوتے ہیں اور یہ طے کرتے ہیں کہ سید کی بیوہ اور ان کے بچوں کی پرورش سب مل کر کریں گے۔ چار سال تک سب کے تعاون سے بچوں کی پرورش ہوتی رہی لیکن پھر حاجی صاحب کی حد سے بڑھی ہوئی دخل اندازی سب۔۔۔مزید پڑھیں

خواب اور تقدیر

ظلم و جبر سے تنگ آکر لوگ فرار و ہجرت کی راہ اختیار کرنے پر کیسے مجبور ہو جاتے ہیں، اس افسانے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ افسانے کے کردار قتل و جنگ سے تنگ آکر شہر کوفہ سے مدینہ ہجرت کرنے کا ارادہ کرتے ہیں لیکن یہ سوچ کر کوچ نہیں کرتے کہ کہیں مدینہ بھی کوفہ نہ بن جائے۔ بالآخر شہر۔۔۔مزید پڑھیں

پوس کی رات

ہلکو نے آ کر اپنی بیوی سے کہا، ’’شہنا آیا ہے لاؤ جو روپے رکھے ہیں اسے دیدو کسی طرح گردن تو چھوٹے۔’’منی بہو جھاڑو لگا رہی تھی۔ پیچھے پھر کر بولی،‘‘تین ہی تو روپے ہیں دیدوں، تو کمبل کہاں سے آئے گا۔ ماگھ پوس کی رات کھیت میں۔۔۔مزید پڑھیں

عدم کے جانے والوں کو بلایا جا نہیں سکتا

عدم کے جانے والوں کو بلایا جا نہیں سکتا

کچھ ایسی نیند سوئے ہیں جگایا جا نہیں سکتا

ذرا سی بات پر اتنا نہ تم روٹھا کرو مجھ سے

مرا کچھ حال ہے ایسا بتایا جا نہیں سکتا

مرے ہی غم کدہ میں لٹ گئیں خوشیاں مرے۔۔۔مزید پڑھیں

شبنما

بتّیاں جل چکی ہیں۔ چکلے میں رات ذرا پہلے ہی اتر آتی ہے۔ شبنما ایک چالیس بیالیس برس کی عورت اپنے گال رنگ کر، ہونٹ رنگ کر کُرسی پر آبیٹھی ہے۔ دھیرے دھیرے اُس کے ہونٹ ہلتے ہیں، کچھ نہ کچھ گنگنا رہی ہوگی۔ بیاہ میں کیا دھرا تھا؟ یہاں تو روز بیاہ ہوتا ہے نئے آدمی سے، گھڑی گھڑی۔ وہ ایک۔۔۔مزید پڑھیں

راہ نجات

سپاہی کو اپنی لال پگڑی پر، عورت کو اپنے گہنوں پر، اور طبیب کو اپنے پاس بیٹھے ہوئے مریضوں پر جوناز ہوتا ہے وہی کسان کو اپنے لہلہاتے ہوئے کھیت دیکھ کر ہوتا ہے۔ جھینگر اپنے ایکھ کے کھیتوں کو دیکھتا تو اس پر نشہ سا چھا جاتا ہے۔ تین بیگھے زمین تھی۔ اس کے چھ سو تو آپ ہی مل جائیں۔۔۔مزید پڑھیں

چھام چھاب

شدید گرمی کے روزے ملک نواز کو سب سے زیادہ محسوس ہو رہے تھے کہ بڑے ملک جی نے حویلی میں شراب نوشی پہ نہ صرف پابندی عائد کر رکھی تھی بلکہ تمام نائیکائیں بھی اپنی اپنی لڑکیوں کے ہمراہ خود کو بخشوانے میں مصروف تھیں۔ بیشتر رنڈی خانے بند اور جوئے کے اڈے بھی سونے سونے سے۔۔۔مزید پڑھیں

بچھو پھوپی

جب پہلی بار میں نے انہیں دیکھا تو وہ رحمان بھائی کے پہلے منزلے کی کھڑکی میں بیٹھی لمبی لمبی گالیاں اور کوسنے دے رہی تھیں۔ یہ کھڑکی ہمارے صحن میں کھلتی تھی اور قانونا اسے بند رکھا جاتا تھا کیوں کہ پردے والی بی بیوں کا سامنا ہونے کا ڈر تھا۔ رحمان بھائی رنڈیوں کے جمعدار تھے، کوئی شادی بیاہ،۔۔۔مزید پڑھیں