جوار بھاٹا

شجرہ نسب کے ذریعہ ایک کبابی کے خاندان کے عروج و زوال کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تعلیم و دولت کے ساتھ اس خاندان کے افراد نے بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کیا لیکن وقت کے ساتھ وہ اپنی نسبتیں بھی بدلتے رہے۔ پھر ایک نسل ایسی بھی آئی جس نے اپنے آباء و اجداد کی دولت پر۔۔۔مزید پڑھیں

وہ جو دیوار کو نہ چاٹ سکے

یاجو ج ماجوج کے واقعہ کو بنیاد بنا کر انسانوں کی لالچ، عیاری اور مکاری کو بے نقاب کیا گیا ہے، یاجوج اور ماجوج روز دیوار چاٹتے ہیں، یہاں تک کہ وہ دیوار صرف ایک انڈے کے برابر رہ جاتی ہے۔ یہ سوچ کر کہ کل اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گے، وہ سو جاتے ہیں سو کر اٹھتے۔۔۔مزید پڑھیں

غازی مرد

مسجد کے امام صاحب کی ایک دیندار، پاکباز لیکن نابینا لڑکی ہے۔ مرنے سے قبل لڑکی کی ذمہ داری امام صاحب گاوں والوں کو دیتے ہیں۔ امام صاحب کے انتقال کے بعد گاوں میں پنچایت بلائی جانتی ہے اور گاؤں کے نوجوانوں سے امام صاحب کی لڑکی سے شادی کے بارے میں پوچھا جاتا۔۔۔مزید پڑھیں

کنگ پوش

اور سب پھول بہار میں کھلتے ہیں۔ مگر کیسر خزاں میں کھلتا ہے۔ وہ مٹیالی ابابیل، جو ابھی ابھی اُس ٹیلے سے پنکھ پھیلاکر اُڑگئی، شاید کیسر کے پھولوں کو جی بھر کر دیکھنے کے لیے ادھر آبیٹھی تھی۔ کیا یہ دھرتی کبھی اتنی بانجھ ہوجائے گی کہ کیسر اُگنا بند ہوجائے؟۔۔۔مزید پڑھیں

تلقارمس

ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں، ان دنوں کسان شہر سے راشن کارڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردیے۔ مگر آخری وقت جب میں نزع کے عالم میں۔۔۔مزید پڑھیں

ایں دفتر بے معنی۔۔۔

نہ جانے کیسا پاگل پن تھا۔ انوکھا اور دل چسپ۔ پر اب تو کہکشاں کا یہ نقرئی راستہ پریوں کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔ کیسی تھکن، کیسی اکتاہٹ، کیسی بے کیفی۔ آدھے جلے ہوئے سگرٹوں کا بجھا بجھا دھواں فرن کے خشک پتّوں کے اوپر سے گزرتا ہوا اندھیرے میں پھیلتا جارہا ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں