لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہے
یہ دکھ خزاں میں کہاں تھا جو اب بہار میں ہے
جو خشک ہونے لگا ہے تو تازہ کر دے گا
کہ زخم زخم مرا سب نگاہ یار میں ہے
میں بھول کر بھی نہیں بھول پا رہا ہوں۔۔۔مزید پڑھیں
لہو بہ رنگ دگر حسن لالہ زار میں ہے
یہ دکھ خزاں میں کہاں تھا جو اب بہار میں ہے
جو خشک ہونے لگا ہے تو تازہ کر دے گا
کہ زخم زخم مرا سب نگاہ یار میں ہے
میں بھول کر بھی نہیں بھول پا رہا ہوں۔۔۔مزید پڑھیں
شجرہ نسب کے ذریعہ ایک کبابی کے خاندان کے عروج و زوال کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ تعلیم و دولت کے ساتھ اس خاندان کے افراد نے بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کیا لیکن وقت کے ساتھ وہ اپنی نسبتیں بھی بدلتے رہے۔ پھر ایک نسل ایسی بھی آئی جس نے اپنے آباء و اجداد کی دولت پر۔۔۔مزید پڑھیں
کوئی چہرہ نہ صدا کوئی نہ پیکر ہوگا
وہ جو بچھڑے گا تو بدلا ہوا منظر ہوگا
بے شجر شہر میں گھر اس کا کہاں تک ڈھونڈیں
وہ جو کہتا تھا کہ آنگن میں صنوبر۔۔۔مزید پڑھیں
یاجو ج ماجوج کے واقعہ کو بنیاد بنا کر انسانوں کی لالچ، عیاری اور مکاری کو بے نقاب کیا گیا ہے، یاجوج اور ماجوج روز دیوار چاٹتے ہیں، یہاں تک کہ وہ دیوار صرف ایک انڈے کے برابر رہ جاتی ہے۔ یہ سوچ کر کہ کل اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیں گے، وہ سو جاتے ہیں سو کر اٹھتے۔۔۔مزید پڑھیں
مسجد کے امام صاحب کی ایک دیندار، پاکباز لیکن نابینا لڑکی ہے۔ مرنے سے قبل لڑکی کی ذمہ داری امام صاحب گاوں والوں کو دیتے ہیں۔ امام صاحب کے انتقال کے بعد گاوں میں پنچایت بلائی جانتی ہے اور گاؤں کے نوجوانوں سے امام صاحب کی لڑکی سے شادی کے بارے میں پوچھا جاتا۔۔۔مزید پڑھیں
مجھے دل کی خطا پر یاسؔ شرمانا نہیں آتا
پرایا جرم اپنے نام لکھوانا نہیں آتا
مجھے اے ناخدا آخر کسی کو منہ دکھانا ہے
بہانہ کر کے تنہا پار اتر جانا نہیں۔۔۔مزید پڑھیں
اور سب پھول بہار میں کھلتے ہیں۔ مگر کیسر خزاں میں کھلتا ہے۔ وہ مٹیالی ابابیل، جو ابھی ابھی اُس ٹیلے سے پنکھ پھیلاکر اُڑگئی، شاید کیسر کے پھولوں کو جی بھر کر دیکھنے کے لیے ادھر آبیٹھی تھی۔ کیا یہ دھرتی کبھی اتنی بانجھ ہوجائے گی کہ کیسر اُگنا بند ہوجائے؟۔۔۔مزید پڑھیں
ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں، ان دنوں کسان شہر سے راشن کارڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردیے۔ مگر آخری وقت جب میں نزع کے عالم میں۔۔۔مزید پڑھیں
خزاں کے دوش پہ رکھتا ہے وہ بہار کا رنگ
عجب ہے اس کی نگاہوں میں انتظار کا رنگ
عجب ہے رسم وفا اور اعتبار کا رنگ
کہ دل میں بن کے دھڑکتا ہے اس کے پیار کا رنگ
سکون دل کا ٹھکانا کہیں نہ۔۔۔مزید پڑھیں
نہ جانے کیسا پاگل پن تھا۔ انوکھا اور دل چسپ۔ پر اب تو کہکشاں کا یہ نقرئی راستہ پریوں کی سرزمین تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہوچکا ہے۔ کیسی تھکن، کیسی اکتاہٹ، کیسی بے کیفی۔ آدھے جلے ہوئے سگرٹوں کا بجھا بجھا دھواں فرن کے خشک پتّوں کے اوپر سے گزرتا ہوا اندھیرے میں پھیلتا جارہا ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں