شام کا وقت تھا۔ ڈاکٹر چڈھا گولف کھیلنے کے لئے تیار ہورہے تھے۔ موٹر دروازہ کے سامنے کھڑی تھی۔ کہ دو کہار ڈولی اٹھائے آتے دکھائی دیے۔ عقب میں ایک بوڑھا لاٹھی ٹیکتا آرہا تھا۔ ڈولی مطب کے سامنے آکر رک گئی۔ بوڑھے نے دھیرے دھیرے آکر دروازہ پر پڑی ہوئی چک میں سے جھانکا۔ ایسی صاف ستھری زمین پر پاؤں۔۔۔مزید پڑھیں
دیوانگی کی تجھ کو بھی اے کاش خو ملے
دیوانگی کی تجھ کو بھی اے کاش خو ملے
میں چار سو دکھائی دوں تو چار سو ملے
یہ انتہائے عشق ہے یا ارتقائے حسن
ہر شے میں میرا رنگ ملے تیری بو ملے
جوش حیا سے پاک ہوئی آرزوئے۔۔۔مزید پڑھیں
ادھورا لمس
غزالی آنکھیں ستواں ناک، خوبصورت ہونٹ، کتابی چہرہ لمبی گردن جس پر تل کی موجودگی اس بات کی علامت تھی کہ شاید خدا نے نظر بد کے ڈر سے ٹیکا لگا ڈالا۔ نازک اندام اور سرو قد یہ کسی شاعر کا خواب نہیں بلکہ جیتی جاگتی سومیہ تھی۔ انتہائی زہین اور زندگی سے۔۔۔مزید پڑھیں
پہلی لڑکی
جب صبح ہی صبح جھکی ہوئی نظروں سے ماتھے پر ذرا سا آنچل کھینچ کر حلیمہ نے بیگم کو سلام کیا تو ان کی باچھیں کھل گئیں، خیر سے صاحبزادے کی طرف سے جو جان کو دھگدا لگا ہوا تھا۔ وہ تو دور ہوا۔ فورا دریائے سخاوت میں ابال آگیا چھ جوڑے جو اسی مبارک موقعے کے لیے تیار رکھے تھے۔۔۔مزید پڑھیں
کوئی چہرہ تر و تازہ نہیں ہے
راہ خدمت
تارا نے بارہ سال تک ڈورگا تپسیا کی۔ نہ پلنگ پر سوئی نہ سرمیں تیل ڈالا، نہ آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ زمین پر سوتی تھی، گیروے کپڑے پہنتی تھی اور سوکھی روٹیاں کھاتی تھی۔ اس کا چہرہ مرجھائی ہوئی کلی تھا، آنکھیں بجھا ہوا چراغ، اور دل ایک بیہڑ میدان، سبزہ اور نزہت سے خالی، اسے صرف ایک آرزوتھی کہ۔۔۔مزید پڑھیں
زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کل
زہر اک دوجے کے اندر بو رہا ہے آج کل
کس قدر زہریلا انساں ہو رہا ہے آج کل
شہر اپنا لوگ اپنے اور اپنا گھر بھی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
ایک مکالمہ
الف : گرمیوں کا مہینہ جارہا ہے۔ ہم ایک قدم اور قبر کی طرف بڑھا چکے ہیں۔ دوپہر کو بگولے اڑتے ہیں۔ غریبوں کے محلوں میں لوگ دھڑا دھڑ مر رہے ہیں۔
ب : سنا ہے بڑی سخت وبا پھیلی ہے۔
الف : ہاں۔ وبا پھیلی ہے اور لوگ مرتے ہیں۔ اگر نہ مریں تو دنیا کی آبادی اور بڑھ جائے اور مزید گڑ بڑپھیلے۔
ب : پہلے ہی کیا کم گڑ بڑ ہے۔۔۔مزید پڑھیں
دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم
سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کئے تو دیکھا کہ پگڈنڈیاں ہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا رکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے لبریز ہو گیا۔۔۔ تب علیحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک کسک کی صورت اختیا کی اور میں انتہائی غم زدہ، سر جھکائے وادی میں اتر گیا۔۔۔مزید پڑھیں
ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے
ہنسی میں حق جتا کر گھر جمائی چھین لیتا ہے
مرے حصے کی ٹوٹی چارپائی چھین لیتا ہے
اسے موقع ملے تو پائی پائی چھین لیتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں






