اودھ کی شاہانہ تہذیب، رکھ رکھاؤ، طرز گفتگو، حکمرانوں کی کشادہ دلی، خوش ذوقی اور معاملات زندگی کی عکاسی کی گئی ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ اس تہذیب کے مٹنے کا نوحہ بھی ہے، سلطان عالم کے ایجادی قفس سے کالے خاں اپنی بیٹی فلک آرا کو خوش کرنے کے لیے پہاڑی مینا چرا کر دے دیتا ہے، پکڑے جانے پر سلطان عالم معاف کر دیتے ہیں اور مینا بھی اسے دے دیتے ہیںلیکن انگریز بہادر کی۔۔۔مزید پڑھیں
بجوکا
پریم چند کی کہانی کا ’’ہوری‘‘ اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور بھوؤں تک کے بال سفید ہو گئے تھے کمر میں خم پڑگیا تھا اور ہاتھوں کی نسیں سانولے کھردرے گوشت سے ابھر آئی تھیں۔
اس اثناء میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک گنگا میں نہا رہا تھا کہ ڈوب گیا اور دوسرا پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے ساتھ اس کا مقابلہ کیوں ہوا اس میں کچھ ایسی بتانے کی بات نہیں۔۔۔مزید پڑھیں
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
پکارے جا رہے ہو اجنبی سے چاہتے کیا ہو
خود اپنے شور میں گم آدمی سے چاہتے کیا ہو
یہ آنکھوں میں جو کچھ حیرت ہے کیا وہ بھی تمہیں دے دیں۔۔۔مزید پڑھیں
سمجھوتہ
بیوی کے بھاگ جانے کے غم میں مبتلا ایک شخص کی کہانی ہے۔ وہ اپنی بیوی کو بھولنا چاہتا ہے اور اس چکر میں وہ کوٹھوں پر پہنچ جاتا ہے۔ پھر ایک دن اس کی بیوی لوٹ آتی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اسے اپنے گھر میں پناہ دیتا ہے مگر وہ اس سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہے۔ ایک روز پھر وہ کوٹھے پر جانے کی سوچتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس کے اکاؤنٹ میں روپیہ ہی نہیں بچا ہے۔ اسے اپنی بیوی کا خیال آتا ہے اور گھر کی طرف لوٹ آتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہے
دیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہے
دوپہر وہ ہے کہ ہوتی نظر آتی ہی نہیں۔۔۔مزید پڑھیں
ہڈیوں کا ڈھانچ
ایک سال شہر میں سخت قحط پڑا کہ حلال و حرام کی تمیز اٹھ گئی۔ پہلے چیل کوے کم ہوئے، پھر کتے بلیاں تھوڑی ہونے لگیں۔ کہتے ہیں کہ قحط پڑنے سے پہلے یہاں ایک شخص مرکر جی اٹھا تھا۔ وہ شخص جو مرکر جی اٹھا تھا اس کے تصور میں سماگیا۔ اس نے اس تصور کو فراموش کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن وہ تصور کسی صورت فراموش نہ ہوا۔ ہڈیوں کا ڈھانچ۔۔۔مزید پڑھیں
ایک کال سینٹر ایجنٹ کی سرگزشت
اس کی موت کے تین روز بعد، یک دم اس احساس نے آن گھیرا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں۔
میں اس امر سے واقف تھا کہ یہ جذبہ میری ذلت کا باعث بن سکتا ہے، سو میں اس سے جوجھنے لگا اور یہی سے نیستی کا آغاز ہوا۔
بدقسمتی کسی کیمیائی عمل کے دوران جنم لینے والے حادثات کے مانند ہوتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
گمان میں ہے یقین جیسے
پنچایت
جمّن شیخ اور الگو چودھری میں بڑایارانہ تھا۔ ساجھے میں کھیتی ہوتی۔ لین دین میں بھی کچھ ساجھا تھا۔ ایک کو دوسرے پر کامل اعتماد تھا۔ جمّن جب حج کرنے گئے تھے تو اپنا گھر الگو کو سونپ گئے تھے اور الگو جب کبھی باہر جاتے تو جمّن پر اپنا گھر چھوڑ دیتے۔ وہ نہ ہم نوالہ تھے نہ ہم مشرب، صرف ہم خیال تھے اور یہی دوستی کی اصل بنیاد ہے۔۔۔مزید پڑھیں
جنم قیدی
شام کا سہانا وقت تھا۔ خوبصورت گدھے ریشمی کھیتوں میں کلیلیں کر رہے تھے۔ ان کی سریلی آوازوں کا پر کیف نغمہ ہوا میں ایک ارتعاش اور ترنم پیدا کر رہا تھا۔ گوبر اور سڑے ہوئے پتوں کی بھینی بھینی بدبو سے ہوا میں گرمی سی تھی۔ کیا ہی خوبصورت منظر تھا۔ ادھر کوڑے کے ڈھیر لگے ہیں۔ ادھر گوبر کے اونچے اونچے ٹیلے پہاڑوں کا منہ چڑا رہے ہیں۔ سامنے کچھ خوبصورت بھینسیں کیچڑ کے ملائم اوور کوٹ پہنے ٹہل رہی ہیں۔ ان کے بچے بھی کیچڑ کی خوبصورت جا کٹیں اور شلواریں پہنے ٹہل رہے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں








