سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہے
وہ جینا کس کی خاطر تھا یہ مرنا کس لیے ہے
محبت بھی ہے اور اپنا تقاضا بھی نہیں کچھ۔۔۔۔مزید پڑھیں
سمٹنے کی ہوس کیا تھی بکھرنا کس لیے ہے
وہ جینا کس کی خاطر تھا یہ مرنا کس لیے ہے
محبت بھی ہے اور اپنا تقاضا بھی نہیں کچھ۔۔۔۔مزید پڑھیں
صاحب اقتدار شخص کے جوش، طاقت اور اقتدار پر مغرور ہونے اور انجام تک پہنچنے کی کہانی ہے۔ اہرام پر کندہ عبارت دیکھ کر خلیفہ کو جوش آتا ہے کہ اس میں یہ چیلنج کیوں کیا گیا ہے کہ اس اہرام کو کوئی منہدم نہیں کر سکتا وہ شہر بھر سے مزدور جمع کر کے اسے توڑنے پر لگا دیتا ہے لیکن اس عبارت میں دیے گیے وقت معینہ میں صرف ایک دیوار ٹوٹتی ہے اس طرح خلیفہ اپنے تخریبی مہم میں ناکام ہو جاتا ہے اور شہر چھوڑ کر ویرانے میں چلا جاتا ہے جہاں وہ اہرام موجود ہے۔۔۔مزید پڑھیں
بیتے دنوں کی تو اگر تحریر لکھ
اپنے قلم سے وقت کی تقدیر لکھ
محدود معنی میں سمٹ کر رہ کبھی۔۔۔مزید پڑھیں
ایک بار میرے ایک خوش پوش دوست نے بھی اس کا ذکر کیاتھا لیکن میں نے اس کی بات پر کوئی خاص دھیان نہ دیا۔۔۔ سوچا تھا اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ جب کوئی ایک شہر کا آدمی دوسرے شہر میں آتا ہے تو اپنے شہر کے بارے میں ایسے ہی بڑھاچڑھاکر قصے بیان کرتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
ایک تو وہ لوگ ہیں جن کو خوبصورت ترین ہستی یعنی خدانے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے جیسے رسالوں کے ایڈیٹر۔ یا شیطان کے کان بہرے، خود ہماری گھر والی اور دوسرے وہ لوگ ہیں جن کو شاید خدائے تعالیٰ نے فرشتوں سے ٹھیکے پر بنوایا ہے اور ان ٹھیکیداروں نے ہم کو اس تیزی سے بنا بناکر پھینکا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
چند مخصوص عناصر سے چمن بنتا ہے
کتنی ترکیب سے پھولوں سا بدن بنتا ہے
ترے ہونٹوں کا تبسم ترے رخسار کا رنگ۔۔۔مزید پڑھیں
یوں مجھے کالی ناتھ سے پوری ہمدردی ہے۔ اس کی سُوجھ بُوجھ کا میں قائل ہوں۔ اس کی ذہانت کا سکّہ ماننے سے میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ باہر والوں میں جو افسانہ نگار کالی ناتھ کو پسند ہیں وہ مجھے بھی کچھ کم پسند نہیں۔ اسی لیے تو مجھے کبھی اس کی بات کاٹنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔۔۔مزید پڑھیں
افسانے کے مرکزی کردار کی زبان میں لکنت ہے اس لیے اس کا منھ بولا باپ نہ چاہتے ہوئے بھی خود سے الگ کسی نئی جگہ اسے منتقل کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس کی نئی بیوی آنے والی ہے جو اس کی لکنت برداشت نہیں کر سکے گی.لوگوں سے بتاتا ہے اس کے دوست جہاز نے اسے مانگ لیا ہے۔۔۔ جہاز ایک غیر آباد ساحلی علاقے میں رہتا ہے جسے شیشہ گھاٹ کہتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
لب پہ تکریم تمنائے سبک پائی ہے
پس دیوار وہی سلسلہ پیمائی ہے
تختۂ لالہ کی ہر شمع فروزاں جانے۔۔۔مزید پڑھیں
یہ دلی احساسات اور خواہشات کو بیان کرتی ہوئی کہانی ہے۔ اس میں حادثات کم اور واقعات زیادہ ہیں۔ دو لڑکیاں جو ساتھ پڑھتی ہیں ان میں سے ایک کو کسی سے محبت ہو جاتی ہے مگر وہ شخص اسے مل کر بھی مل نہیں پاتا اور بچھڑنے کے بعد بھی جدا نہیں ہوتا۔ کہا جائے تو یہ وصال و ہجر کی کہانی ہے، جسے ایک بار ضرور پڑھنا چاہئیے۔۔۔مزید پڑھیں