مردہ آدمی کی تصویر

وہ مجھے جس کمرے میں بٹھاکر چلی گئی تھی، اس کی کارنس پر ایک تصویر رکھی تھی۔ کارنس پر صرف تصویر ہی نہ تھی ایک پرانا طلائی ٹائم پیس تھا جو پرندوں کے پنجرے کی شکل کا تھا۔ اندر ڈائیل تھا جس پر رومن میں ایک سے بارہ تک کے ہندسے لکھے تھے اور سنہری رنگ کی دو سوئیاں تھیں جو بڑی سست رفتاری سے حرکت کرتی۔۔۔مزید پڑھیں

پیرس کا آدمی

یہ ایک ایسی نفسیاتی کہانی ہے کہ اسے جتنی بار پڑھا جائے ہر بار اس میں ایک نئی بات نکل کر سامنے آتی ہے۔ ایک شخص جو پیرس سے بھارت آیا ہوا ہے، وہ کچھ عرصہ بنارس میں رہتا ہے اور پھر دلی آ جاتا ہے۔ وہ اپنی ساتھی کے ساتھ بیٹھا فرانس وہاں کی سیاست، انقلاب اور نظریات کو لے کر باتیں کرتا ہے۔ اس بات چیت میں وہ بہت سی ایسی باتیں بتاتا ہے کہ شاید ہی اس سے پہلے کسی نے سنی ہو۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے آپ کو کہانی کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہوگا۔۔۔مزید پڑھیں

چند بیل

چند بیلایک بیل کو میں نے دیکھا کہ خاموش بیٹھا جگالی کر رہا ہے۔ آنکھیں نیم باز ہیں اور ایک کتا بڑی مشقت، تن دہی اور انہماک کے ساتھ اس کے منہ کے سامنے کھڑا بھونک رہا ہے۔ بڑھ بڑھ کر بھونکتا ہے اور۔۔۔مزید پڑھیں

گوندنی

دوہری زندگی جیتے ایک شخص کی کہانی جو چاہتے ہوئے بھی کھل کر اپنے احساسات کا اظہار نہیں کر پاتا۔ مرزا برجیس کا خاندان کسی زمانے میں بہت امیر تھا لیکن اس وقت اس خاندان کی حالت دیگرگوں ہےَ۔ اس کے باوجود مرزا اسی شان و شوکت اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ رہنے کا ڈھونگ کرتا ہے۔ ایک روز بازار میں خریداری کرتے وقت اس سے کھانے کے لیے پیسے مانگے تو اس نے اسے جھڑک دیا مگر شام کو سینما دیکھتے ہوئے جب اس نے ایک بوڑھیا کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا تو رو دیا۔۔۔مزید پڑھیں

ہندوستان سے ایک خط

ملک کی آزادی نے صرف ملک کو تقسیم ہی نہیں کیا تھا بلکہ تباہی و بربادی بھی ساتھ لیکر آئی تھی۔ ‘ہندوستان سے ایک خط’ ایسے ہی ایک تباہ و برباد خاندان کی کہانی ہے، جو بھارت کی طرح (ہندوستان، پاکستان و بنگلہ دیش) خود بھی تین حصوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔ اسی خاندان کا ایک فرد پاکستان میں رہنے والے اپنے ایک عزیز کو یہ خط لکھتا ہے جو فقط خط نہیں، بلکہ ایک خاندان کے ٹوٹنے اور ٹوٹ کر بکھر جانے کی داستان ہے۔۔۔مزید پڑھیں

ترقی کا ابلیسی ناچ

کہانی ترقی کے نسبت لوگوں کے بدلتے مزاج کے گرد گھومتی ہے۔ انسان مسلسل ترقی کرتا جا رہا ہے۔ ترقی کی اس رفتار میں وہ اکثر ان چیزوں کی ایجاد کر رہا ہے جن کی اسے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہمارے پاس کار، ٹیپ رکارڈر اور دوسری چیزیں ہیں۔ پھر وہ ان کے نئے نئے ورجن بنا رہا ہے۔ اور اس چکر میں ہم اس علم کو چھوڑتے جا رہے ہیں جو ہمیں ہمارے اجداد سے ملا ہے اور جس کی ہم سبھی کو ضرورت ہے۔۔۔مزید پڑھیں