لاٹری

جلدی سے مالدار بن جانے کی ہوس کسے نہیں ہوتی۔ ان دنوں جب فرنچ لاٹری کے ٹکٹ آئے تو میرے عزیز دوست بکرم سنگھ کے والد، چچا، بھائی، ماں سبھی نے ایک ایک ٹکٹ خریدلیا۔ کون جانے کس کی تقدیر زورکرے، روپے رہیں گے تو گھرہی میں، کسی کام کے نام آئیں۔

مجھے بھی اپنی تقدیر آزمانے کی سوجھی، اس وقت مجھے زندگی کا تھوڑا بہت تجربہ ہوا تھا، وہ بہت ہمت افزانہ تھا لیکن بھئی تقدیر کا حال کون جانے، گاہ باشد کہ کودک ناداں۔ ایک باراپنی تقدیرآزمانے کودل بیتاب ہوگیا اوربکرم بھی۔۔۔مزید پڑھیں

گڈریا

یہ کہانی فارسی کے ایک سکھ ٹیچر کے گرد گھومتی ہے، جو اپنے مسلم طالب علم کو نہ صرف مفت میں پڑھاتاہے، بلکہ اسے اپنے گھر میں بھی رکھتا ہے۔ پڑھائی کے بعد طالب علم نوکری کے لیے شہر چلا جاتا ہے۔ تقسیم کے دوران وہ واپس آتا ہے تو ایک جگہ کچھ مسلم نوجوانوں کو کھڑے ہوئے پاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

دلاری

یہ ایک غیر مساوی معاشعرتی نظام میں خواتین کے جنسی استحصال کی ایک دردناک کہانی ہے۔ دلاری بچپن سے ہی اس گھر میں پلی بڑھی تھی۔ اس کے بارے میں کوئی کچھ نہیں جانتا تھا۔ چھٹیوں میں گھر آئے مالکن کے بیٹے کے ساتھ اس کی آنکھ لڑ جاتی ہے اور وہ محبت کے نام پر اس کا استحصال کرتا ہے۔ وہ اس سے شادی کا وعدہ تو کرتا ہے مگر شادی ماں باپ کی پسند کی ہوئی لڑکی سے کر لیتا ہے۔ اس شادی کے بعد ہی دلاری گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں

جلوس

یہ کہانی سرسوتی دیوی کے ایک جلوس کے گرد گھومتی ہے جو ہر سال شہر میں نکلتا ہے۔ جلوس میں سجے ہوئے ہاتھی، گھوڑسوار اور پیادے سبھی شامل ہیں۔ جلوس شہر میں جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے کہانی قدیم تاریخ، تہذیب، بودھ مذہب، سلاطین کا دور، نواب شاہی اور اس میں طوائفوں کے کردار کو بیان کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

پٹی

پٹیاں ایک تو وہ ہوتی ہیں جو چارپائیوں میں لگائی جاتی ہیں اور ایک وہ جو سپاہیوں کے پیروں پر باندھی جاتی ہیں، پھر اور بہت قسم کی پٹیاں بھی ہیں، لیکن میرا مطلب یہاں اس پٹی سے ہے جو پھوڑا پھنسی یا اسی قسم کی مصیبتوں کے سلسلے میں ڈاکٹروں کے یہاں باندھی جاتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

کچھوے

اس افسانے میں کھچوے اور مرغابی کی کہانی کو بنیاد بنا کر موقع بے موقع بولنے والوں کے انجام کی نشان دہی کی گئی ہے۔ ودیا ساگر بھکشووں کو جاتک کتھائیں سنا کر نصیحت کرتا ہے کہ جو بھکشو موقع بے موقع بولے گا، وہ گر پڑے گا اور پیچھے رہ جائے گا۔ جس طرح کھچوا مرغابی کی چونچ سے نیچے گر گیا تھا اسی طرح کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

ایک پاگل کہانی

جب شائستہ الفاظ میں ملبوس اس کہانی کو خلق ہوئے دس برس بیت گئے، تو میں نے اسے خیالات کا نیا لباس عطا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس یقین کے ساتھ کہ لباس کی تبدیلی کے حساس عمل کے دوران کہانی کی روح سے چھیڑ خانی سے باز رہوں گا۔ گو یہ ممکن نہیں تھا!

یہ عجیب و غریب کہانی میں نے دس برس قبل لکھی تھی۔ ان برسوں میں بہت کچھ بدل گیا۔ منظر، چہرے، نظریات، خیالات، حالات، الغرض بہت کچھ۔۔۔مزید پڑھیں