جلدی سے مالدار بن جانے کی ہوس کسے نہیں ہوتی۔ ان دنوں جب فرنچ لاٹری کے ٹکٹ آئے تو میرے عزیز دوست بکرم سنگھ کے والد، چچا، بھائی، ماں سبھی نے ایک ایک ٹکٹ خریدلیا۔ کون جانے کس کی تقدیر زورکرے، روپے رہیں گے تو گھرہی میں، کسی کام کے نام آئیں۔
مجھے بھی اپنی تقدیر آزمانے کی سوجھی، اس وقت مجھے زندگی کا تھوڑا بہت تجربہ ہوا تھا، وہ بہت ہمت افزانہ تھا لیکن بھئی تقدیر کا حال کون جانے، گاہ باشد کہ کودک ناداں۔ ایک باراپنی تقدیرآزمانے کودل بیتاب ہوگیا اوربکرم بھی۔۔۔مزید پڑھیں







