نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے
نفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہے
عالموں کا علم سے وہ ربط ہے اس دور میں۔۔۔مزید پڑھیں
نام سے گاندھیؔ کے چڑھ بیر آزادی سے ہے
نفرتوں کی کھاد ہیں الفت مگر کھادی سے ہے
عالموں کا علم سے وہ ربط ہے اس دور میں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ بہت حسین خنک و نم رات تھی ۔ ستارے آسمان پر مسکرا رہے تھے ۔ چاند آسما ن پر اور زمین پر بہت دن بعد آیا تھا۔ سو مست مسرور سے نیم سفید بادل اس کے گرد مدھر رومانوی رقص میں اترا رہے تھے۔ وہ چاند تھا اپنی مستی میں مست، نازاں۔ کہ چاہے جانے کا بھی تو اک الگ ہی نشہ ہے جس کا خمار اترے نہیں اترتا۔۔۔مزید پڑھیں
جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
میرا مکان چیلوں کے کوچہ میں تھا۔ میر ے کمرے کے دروازہ پر دوپٹ تھے۔ نیچے کاحصہ بندکردینے سے صرف اوپرکاحصہ ایک کھڑکی کی طرح کھلا رہتاتھا۔ یہ کھڑکی پتلی سڑک پرکھلتی تھی۔ سامنے مرزادودھ والے کی دکان تھی اورمیرے مکان کے دروازے کے برابرصدیق بنئے کی اوراس کے برابر عزیز خیراتی کی اور اس کے پاس کہاروں کی۔۔۔مزید پڑھیں
جو بے گھر ہیں انہیں گھر کی دعا دیتی ہیں دیواریں
پھر اپنے سائے میں ان کو سلا دیتی ہیں دیواریں
اسیری ہی مقدر ہے تو کوئی کیا کرے آخر۔۔۔مزید پڑھیں
یہ خود نوشت اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے جس میں مصنف نے اپنے لاہور سفر کی تفصیل بیان کی ہے۔ چار ماہ کے اس سفر میں مصنف نے کراچی اور لاہور کی سبھی گلیوں کو دیکھا، وہاں کے ادیبوں شاعروں سے ملاقات کی تفصیل ہے۔ واپسی میں جب گاڑی نے واگھا سرحد پار کیا تو اسے ایسا لگا جیسے وہ ہندوستان سے پاکستان میں داخل ہو رہا ہے۔ اسے ایک لمحے کے لیے بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ ہندوستان پاکستان دو الگ ملک ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
اس واقعہ کے بعد میرے وِژن میں ایک عجیب سی تبدیلی آگئی ہے۔ میں جب کسی چیز کو دیکھتا ہوں تو وہ ویسی نظر نہیں آتی جیسی کہ بظاہر دکھائی دیتی ہے۔۔۔ اس چیز میں چھپا ہواکچھ اور ہوتا ہے۔۔۔ اور وہ جو کچھ اور ہوتا ہے اس کا کیا مطلب ہوسکتاہے۔ میں ٹھیک طرح سے بیان نہیں کرسکتا۔۔۔مزید پڑھیں
وہ ایک لمحہ جو ترک تعلقات کا تھا
پھر اس کے بعد کہاں کوئی پل حیات کا تھا
جو مسئلہ تھا وہ باہم ضروریات کا تھا۔۔۔مزید پڑھیں
ایک تانگے والے کی کہانی جو، اپنی بیوی کو گوٹے کا دوپٹہ تو نہیں دلا سکا لیکن عید کے دن اپنی پسند کا ایک گھوڑا خرید لیا۔ اس کی بیوی مر گئی اور وہ اپنے گھوڑے کے ساتھ تنہا رہنے لگا۔ وہ اپنے گھوڑے سے بہت محبت کرتا تھا اور اس کا پورا خیال رکھتا تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اس کی حالت خستہ ہوتی گئی اور وہ مفلوک الحال ہو گیا۔ اپنے دل کا حال وہ گھوڑے کو سناتا اور گھوڑا بھی یہ ظاہر کرتا کہ اسے اپنے مالک کا حال معلوم ہے۔ پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسے قرض کی قسط دینے کے لیے گھوڑے کے ساتھ ساتھ خود بھی فاقہ کرنا پڑا۔۔۔مزید پڑھیں