میں بھی شریک مرگ ہوں مر میرے سامنے
میری صدا کے پھول بکھر میرے سامنے
آخر وہ آرزو میرے سر پر سوار تھی۔۔۔مزید پڑھیں
میں بھی شریک مرگ ہوں مر میرے سامنے
میری صدا کے پھول بکھر میرے سامنے
آخر وہ آرزو میرے سر پر سوار تھی۔۔۔مزید پڑھیں
میری عمر جب دو برس کی تھی تو کئی جگہ سے میری شادی کے پیغام آئے۔ منجملہ ان کے صرف ایک ایسا تھا جو ہم پلہ والی ریاست کے یہاں سے تھا لیکن لڑکی بہت بڑی تھی۔ در اصل اس کی عمر پندرہ سولہ برس کی تھی اور میں صرف دو برس کا بچہ۔ چونکہ یہ پیغام ایک ہم پلہ مہاراجہ کی راجکماری کا تھا اس لیے پتا جی مہاراجہ نے انکار تو۔۔۔مزید پڑھیں
فینسی ہیرکٹنگ سیلونہانی کی کہانی:’’تقسیم ملک کے بعد تلاش معاش میں بھٹک رہے چار حجام مل کر ایک دوکان کھولتے ہیں۔ دوکان چل نکلتی ہے۔ حالات کا مارا کسی سیٹھ کا ایک منشی ان کے پاس آتا ہے اور ان سے کام کی درخواست کرتا ہے۔ وہ اسے بھی کام پر رکھ لیتے ہیں۔ شروع میں منشی ان کا کھانا بناتا ہے اور دوکان کی صفائی کرتا ہے، پھر رفتہ رفتہ وہ اپنے منشی پن پر آ جاتا ہے اور ان کے دوکان پر قابض ہو جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
اس دن الیملک دستر خوان سے بھوکا اٹھا، اس نے زمران کے سامنے رکھی ہوئی روٹی پر نظر کی، پھر دسترخوان پر چنی ہوئی روٹیوں کو اور لوگوں کو دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور یہ وہ لوگ تھے جو دور کی زمین سے چل کر یہاں پہنچے تھے، ان کی زمین ان پر تنگ ہو گئی تھی، انہوں نے اپنے معبدوں اور مقبروں اور حویلیوں کی طرف پشت کی۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کہانی آزادی سے پہلے کی دو تصویر پیش کرتی ہے۔ ایک طرف پرانے روایتی نواب ہیں جو عیش کی زندگی جی رہے ہو ہیں۔ موٹروں میں گھومتے ہیں، دل بہلانے کے لیے طوائفوں کے پاس جاتے ہیں، ساتھ ہی زندگی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو کوستے ہیں، گاندھی جی کو گالیاں دیتے ہیں۔ دوسری طرف آزادی کے لیے مر مٹنے والے وہ نوجوان ہیں جن کی میت کو کوئی کندھا دینے والا بھی نہیں ہے۔۔۔مزید پڑھیں
تھی میرے دل کی پیاس تپش دشت کی نہ تھی
بجھتی سمندروں سے یہ وہ تشنگی نہ تھی
خود میں مگن تھے لوگ کوئی بے خودی نہ تھی۔۔۔مزید پڑھیں
ہمارا جسم پرانا ہے لیکن اس میں ہمیشہ نیا خون دوڑتا رہتا ہے۔ اس نئے خون پر زندگی قائم ہے۔ دنیا کے قدیم نظام میں یہ نیا پن اس کے ایک ایک ذرے میں، ایک ایک ٹہنی میں، ایک ایک قطرے میں، تار میں چھپے ہوئے نغمے کی طرح گونجتا رہتا ہے ۔اور یہ سو سال کی بڑھیا آج بھی نئی دلہن بنی ہوئی ہے۔
جب سے لالہ ڈنگا مل نے نئی شادی کی ہے ان کی جوانی از سر نو عود کر آئی ہے۔ جب پہلی بیوی بقید حیات تھی وہ بہت کم گھر رہتے تھے۔ صبح سے دس گیارہ بجے تک تو پوجا پاٹ۔۔۔مزید پڑھیں
نظر میں خود کو بسا دو تو کوئی بات بنے
وفا کے پھول کھلا دو تو کوئی بات بنے
نظارے پیار کے قصے سنا رہے ہیں ابھی۔۔۔مزید پڑھیں
سیاہیٔ شب میں اوپر دوربہت دور آفاق کی پہنائی میں، قوس در قوس ٹمٹماتے ہوئے لرزیدہ تاروں کی زردی مائل مدھم روشنی طوفان میں ہچکولے کھاتی کشتی کے مانند نظر آ رہی تھی۔ پہلے تو اسےکچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اچانک وہ کس جگہ پر آ گیا ہے، کس ساعت زوال میں کب، کیوں اور کس نے اسے اس پاتال میں پھینک دیا۔ اس قدر پُرہول تاریکی۔۔۔مزید پڑھیں