محبت کرنا جتنا ضروری ہے اس کا اظہار بھی اسی قدر ضروری ہے۔ اگر محبت کا اظہار نہیں ہوا تو آپ اپنے ہاتھوں محبت کا قتل کر دیں گے۔ یہ کہانی بھی ایسی ہی ایک محبت کے قتل کی داستان ہے۔ ایک ایسے نوجوان کی کہانی جو کسی لڑکی سے بے پناہ محبت کرتا ہے لیکن اپنی کم ہمتی کے باعث اس لڑکی سے اپنی محبت کا اظہار نہیں کر پاتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی اس سے دور چلی جاتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلے
پھر آگہی سے یقیں کی طرف قدم نکلے
گمان و وہم کی جب سرحدوں سے ہم نکلے
پھر اضطراب کی لذت کہاں وصال کے بعد۔۔۔مزید پڑھیں
آخری فلائٹ
ماؤف ذہن میں صرف ایک سوچ تھی میں کیسے ان کا سامنا کروں گا۔ مجھ سے نہیں ہوگا یہ سب۔ میرے میں ہمت نہیں رہی۔۔۔ کیا کہوں گا، ان کو اور کیسے کہوں گا۔۔۔ ان سے نگاہیں کیسے ملاؤں گا، میں کر ہی کیا سکا ہوں ان کے لئے۔۔۔!
وہ۔۔۔! انہوں نے ہمارے لئے کیا کچھ نہ کیا۔۔۔ کہ عمر بھر بھی لوٹانا چاہوں تو ناکام رہوں۔۔۔!
میرا ذہن، میری سوچ ماؤف ہو چکی تھی۔ میں نے اس کے باوجود بارہا کوشش کی کہ جلدازجلد ان کا سامنا کر لوں۔۔۔ شاید پھر۔۔۔ مگر فلائٹ۔۔۔ کوئی جگہ نہیں تھی اور میرا دل بھی تو خالی ہو چکا تھا۔ مگر پھر بھی ان سے ملنے کی۔۔۔مزید پڑھیں
دو ہاتھ
رام اوتار خاکروب کی ماں کو تو پیٹ بھرنے کے لئے دو ہاتھوں کی ضرورت تھی۔ دنیا خواہ کچھ بھی کہے۔‘‘
رام اوتار لام پر سے واپس آ رہا تھا۔ بوڑھی مہترانی ابا میاں سے چٹھی پڑھوانے آئی تھی۔ رام اوتار کو چھٹی مل گئی۔ جنگ ختم ہو گئی تھی نا! اس لئے رام اوتار تین سال بعد واپس آ رہا تھا، بوڑھی مہترانی کی چپڑ بھری آنکھوں میں آنسو ٹمٹما رہے تھے۔۔۔مزید پڑھیں
غم سے گر آشنا نہیں ہوتا
غم سے گر آشنا نہیں ہوتا
آدمی کام کا نہیں ہوتا
اک نیا راستہ نکلتا ہے
جب کوئی راستہ نہیں ہوتا۔۔۔مزید پڑھیں
منزل مقصود
آہ! آج تین سال گزرگئے۔ یہی مکان ہے، یہی باغ یہی گنگا کاکنارہ، یہی سنگ مرمرکا حوض، یہی میں ہوں اوریہی درودیوار۔ مگراب ان کیفیات سے دل متاثرنہیں ہوتا۔ وہ نشہ جوگنگاکے لطف انگیز تلاطم اورہوا کے دلفریب جھونکوں سے دل پرطاری ہوجاتاتھا۔ اس نشہ کے لئے اب جی ترس ترس کے رہ جاتاہے۔ اب وہ دل نہیں رہا۔ وہ نازنین جس پرزندگی کامدارتھا اب اس دنیامیں نہیں رہی۔۔۔مزید پڑھیں
اوور کوٹ
ایک خوبرو نوجوان سردیوں میں مال روڈ کی سڑکوں پر ٹہل رہاہے۔ جس قدر وہ خوبصورت ہے اتنا ہی اس کا اورکوٹ بھی۔ اورکوٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہ سڑکوں پر ٹہل رہا ہے اور ایک کے بعد دوسری دکانوں پر جاتا ہے۔ اچانک ایک لاری اسے ٹکر مار کر چلی جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے اسپتال لے جاتے ہیں۔ اسپتال میں علاج کے دوران جب نرسیں اس کے کپڑے اتارتی ہیں تو اورکوٹ کے اندر کے اس نوجوان کا حال دیکھ کر حیران رہ جاتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
میرے گلے پہ جمے ہاتھ میرے اپنے ہیں
میرے گلے پہ جمے ہاتھ میرے اپنے ہیں
جو لڑ رہے ہیں مرے ساتھ میرے اپنے ہیں
شکست کھا کے بھی میں فتح کے جلوس میں ہوں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ باتیں
میرے دماغ میں اتنے بہت سے خیالات تیزی سے رقص کررہے ہیں۔۔۔ یہ بے معنی اور بے سروپا باتیں۔۔۔ نہ معلوم میرے چھوٹے سے سر میں اتنی ساری باتیں کیسے ٹھونس دی گئیں۔۔۔ میرا بے چارہ چھوٹا سا سر۔۔۔ بالوں کی سیاہ لٹوں میں لپٹا ہوا۔۔۔ میرے سیاہ بال اور نیلی آنکھیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔۔۔ ڈینیوب کے نیلے پانیوں کی طرح جھلکتی ہوئی آنکھیں۔۔۔ ڈینیوب اور والگا۔۔۔ اطالوی اور روسی تاکستانوں کے گھنے سائے اورسیب کے درختوں کے جھنڈ۔۔۔ رومان۔۔۔ زندگی۔۔۔مزید پڑھیں
دو تماشے
مرزا برجیس قدر مالی طور پر زوال پذیر خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ گرچہ وہ اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں لیکن سماجی طور پر اپنی برتری برقرار رکھنے کے لئے ظاہری آرائش و نمائش اور درشت مزاجی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ وہ اپنی کار میں بیٹھ کر جوتوں کی خریداری کرنے جاتے ہیں اور دکان کے ملازم کو خواہ مخواہ ڈانٹتے پھٹکارتے ہیں۔ اسی درمیان ایک اندھا بوڑھا فقیر بھیک مانگنے آتا ہے جسے مرزا برجیس قدر ڈپٹ کر بھگا دیتے ہیں، کیونکہ ان کی جیب میں پیسے ہی نہیں ہوتے ہیں۔ ایک دن جب وہ ایک فلم دیکھ رہے ہوتے ہیں جس میں بھیک مانگنے کا سین آتا ہے تو مرزا برجیس قدر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں








