دہلیز

ادھوری محبت کی کہانی جس میں دو معصوم اپنے جذبات سے ناآشنا ایک دوسرے کے ساتھ لازم ملزوم کی طرح ہیں لیکن قسمت کی ستم ظریفی انھیں ازدواجی رشتے میں نہیں بندھنے دیتی ہے۔ ماضی کی یادیں لڑکی کو پریشان کرتی ہیں وہ اپنے بالوں میں چٹیلنا لگاتی ہے جو اسے بار بار اپنے بچپن کے ساتھی تبو کی یاد دلاتی ہیں جو اس کی چٹیلنا کھینچ دیا کرتا تھا۔ وہی چٹیلنا اب بھی اس کے پاس ہے لیکن وہ لگانا چھوڑ دیتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اس منجدھارمیں

پہلا منظر: (نگارِ ولا کا ایک کمرہ۔۔۔۔۔۔ اس کی خوبصورت شیشہ لگی کھڑکیاں پہاڑی کی ڈھلوانوں کی طرف کھلتی ہیں۔ حدنگاہ تک پہاڑ ہی پہاڑ نظر آتے ہیں جو آسمان کی خاکستری مائل نیلاہٹوں میں گھل مل گئے ہیں۔ کھڑکیوں کے ریشمی پردے صبح کی ہلکی پھلکی ہوا سے ہولے ہولے سرسرا رہے ہیں۔ یہ کمرہ جیسا کہ سازو سامان سے معلوم ہوتا ہے حجلہ عُروسی میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ دائیں ہاتھ کو کھڑکیوں کے پاس ساگوان کی مسہری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک کونے میں شیشے کی تپائی جس پر بلور کی۔۔۔مزید پڑھیں

اس کے بغیر

یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو موسم بہار میں تنہا بیٹھی اپنی پہلی محبت کو یاد کر رہی ہے۔ ان دنوں اس کی بہن کے بہت سے چاہنے والے تھے مگر اس کا کوئی محبوب نہیں تھا اور اسی بات کا اسے افسوس تھا۔ اچانک اس کی زندگی میں آنند آگیا جس نے اس کی پوری زندگی ہی بدل دی۔ انھوں نے مل کر ایک ٹرپ کا پروگرام بنایا۔ اس سفر میں ان دونوں کے ساتھ کچھ ایسے واقعے ہوئے جن کی وجہ سے وہ اس سفر کو کبھی نہیں بھلا سکی۔۔۔مزید پڑھیں

نقش فریادی

افراد 

سہیل : (شاعر) 

نجمہ : (محبت زندہ عورت) 

اور تین چار محبت فروش عورتیں 

نوٹ: ذیل کا تمہیدیہ شاعرانہ انداز میں پڑھا جائے۔ اس کے عقب میں کوئی ایسا ساز بجتا رہے جو موزوں و مناسب ہو۔ 

تمہیدیہ:  

شاعر شعر لکھتے آئے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

گرمیوں کی ایک رات

کہانی میں سماجی ناہمواری کی بہت باریکی سے عکاسی کی گئی ہے۔ ایک ہی دفتر میں کام کرنے والے منشی برکت علی اور جمن میاں کے ذریعے ہندوستانی سماج کے پسماندہ متوسط طبقہ کے لوگوں کی محرومیوں، بے بسی، بناؤٹی زندگی اور دوہرے کردار کی بہت دل نشیں انداز سے عکاسی کی گئ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

کروٹ

(میز پر کھانا چُننے اور چھری کانٹے رکھنے کی آواز) 

بیوی: چلیئے کھانا تیار ہے۔ 

لڑکی: کون آرہے ہیں؟ 

میاں: تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔۔۔ ایک عورت آنے والی ہے۔۔۔مزید پڑھیں