مٹھی مالش

پولنگ بوتھ پربڑی بھیڑتھی، جیسے کسی فلم کاپریمئرہو۔ یہ لمباکیولگاتھا۔ پانچ سال پہلے بھی اسی طرح ہم نے لمبے لمبے کیولگائے تھے، جیسے ووٹ دینے نہیں سستااناج لینے جارہے ہوں۔ چہروں پر آس کی پرچھائیاں تھیں۔ کیولمبا سہی، پر کبھی تواپنی باری آئے گی۔ پھرکیاہے۔ وارے نیارے سمجھو۔ اپنے بھروسے کے آدمی ہیں۔ قسمت کی باگ ڈوراپنوں کے ہاتھوں میں ہوگی۔ سارے دلدر دورہوجائیں گے۔۔۔مزید پڑھیں

جرنلسٹ

بہت سے لڑکے پہاڑے یاد کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔ ایک شور مچاہے۔۔۔۔۔۔ بیچ بیچ میں میز پر بید مارنے کی آواز بھی آتی ہے۔۔۔۔۔۔ آہستہ آہستہ یہ شور فیڈآوٹ ہو جائے۔) 

عبدالباری: ۔۔۔۔۔۔کیا واہیات پن ہے۔۔۔۔۔۔یہ سوائے۔ڈیوڑھے ڈھائے۔اونچے پونچے اور ڈھونچے کے پہاڑے کیا بکواس ہے۔۔۔۔۔۔ ایک ڈھایا ڈھایا یا دو ڈھایا پانچ۔۔۔۔۔۔ یعنی اگر کسی کو یہ معلوم نہیں ہوگا تو بہت بڑی آفت آجائے گی۔۔۔۔۔۔ اور میری بیوقوفی ملاحظہ ہو کہ پانچ کم سو لڑکوں کو چھڑی کے زور سے یہ بکواس یاد کراتا رہتا ہوں۔ گویا اس کے بغیر ذہنی ترقی ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔مزید پڑھیں

وقفہ

ماضی کی یادوں کے سہارے بے رنگ زندگی میں تازگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ کا واحد متکلم اپنے مرحوم باپ کے ساتھ گزارے ہوے وقت کو یاد کر کے اپنی شکستہ زندگی کو آگے بڑھانے کی جد و جہد کر رہا ہے جس طرح اس کا باپ اپنی عمارت سازی کے ہنر سے پرانی اور اجاڑ عمارتوں کی مرمت کر کے قابل قبول بنا دیتا تھا۔ نیر مسعود کے دوسرے افسانوں کی طرح اس میں بھی خاندانی نشان اور ایسی مخصوص چیزوں کا ذکر ہے جو کسی کی شناخت برقرار رکھتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

معافی

مسلمانوں کو اسپین پر حکومت کرتے صدیاں گزر چکی تھیں۔ کلیساؤں کی جگہ مسجدوں نے لے لی تھی۔ گھنٹوں کی بجائے اذان کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ غرناطہ اور الحمرا میں وقت کی چال پر ہنسنے والے وہ قصر تعمیر ہوچکے تھے، جن کے کھنڈرات اب تک دیکھنے والوں کو اپنی گزشتہ عظمت کااندازہ کروادیتے ہیں۔ عیسائیوں کےباوقارمرد اورعورتیں مسیح کا ۔۔۔مزید پڑھیں

گاف گُم

حامد: (ٹائپ کرتے ہوئے) پا۔۔۔کس۔۔۔تان۔۔۔ میں۔۔۔تع۔۔۔لی۔۔۔می۔۔۔فلم۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔(کاٹ کر) فلمو۔۔۔ ں۔۔۔کی۔۔۔ اہمیت۔۔۔ پر۔۔۔ ابھی۔۔۔ تک۔۔۔غور۔۔۔ نہیں۔۔۔ کیا۔۔۔گیا۔۔۔ لیکن یہ گاف کدھر گیا۔۔۔۔۔۔ ارے سچ مچ یہ گاف کدھر ہے۔لاحول ولا ملتا ہی نہیں 

(سلیمان داخل ہوتا ہے) 

سلیمان: کیا نہیں ملتا۔؟ 

حامد: گاف نہیں مل رہا یار۔۔۔مزید پڑھیں

ہمسفر

یہ ایک علامتی کہانی ہے۔ ایک شخص جسے ماڈل ٹاون جانا ہے، بغیر کچھ سوچے سمجھے ایک چلتی بس میں سوار ہو جاتا ہے۔ اسے پتہ ہی نہیں کہ یہ بس ماڈل ٹاون جائیگی بھی یا نہیں۔ وہ بس میں بیٹھا اپنے ساتھیوں کو یاد کر رہا ہوتا ہے جن کے ساتھ وہ پاکستان جانے والی ٹرین میں سوار ہوا تھا۔ ٹرین پاکستان آئی تھی لیکن سبھی ساتھی بچھڑ گئے تھے۔ بس میں سوار دیگر سواریوں کی طرح جو اپنی اپنی منزلوں پر اترتے رہے اور گلیوں میں گم ہو گئے۔۔۔مزید پڑھیں