حیرت کا طلسم فضا پر طاری ہو چکا تھا، ہر کسی کی نگاہ اسٹیج پر مرکوز تھی۔ اسٹیج پر سارے معزز مہمان موجود تھے اور وہ بھی دم بخود تھے، غالباً ان کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ چشم زدن میں یہ کیا ہوگیا۔ لوگ کاناپھوسی کرنے لگے، میری طرح شاید وہ لوگ بھی یہ جاننے کے لئے بےچین تھے کہ ابھی ابھی یہاں سے جو شخص خطاب کرکے۔۔۔مزید پڑھیں
تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا
تو خود بھی نہیں اور ترا ثانی نہیں ملتا
پیغام ترا تیری زبانی نہیں ملتا
میں بیچ سمندر میں ہوں اور پیاس سے بیتاب۔۔۔مزید پڑھیں
چندہ
نہ جانے کہاں سے دوبارہ آکر وہ کچرے کے ڈھیر پہ بےسدھ پڑی تھی۔ ملگجے بال۔ صدیوں کی میل و غلاظت بھری نگاہوں سے بدبو کے بھبوکے اڑاتا جسم جو اس بات کی غمازی کر رہا تھا کہ چرند و پرند کو اس اشرف المخلوقات میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ شاید ہر حیوان اس کو اپنی برادری کا حصہ سمجھتے اس کو رزق میں بھی شریک کرتا رہا کیونکہ اس کے ۔۔۔مزید پڑھیں
سرد خانے کا ملازم
جب غفور نے لاش وصول کی، وہ بری طرح تپ رہی تھی!
وہ چونکا ضرور، لیکن حیران ہونے سے باز رہا۔ اور ایسا کرنا مشکل نہیں تھا، سردخانے کے درودیوار حیرت چُوس لینے کے عادی تھے۔ اور پھر۔۔۔ مُردے پر چڑھا تپ امکانی تھا کہ آج گرمی کچھ زیادہ تھی!
لیکن جب انچارج کی جانب سے، مشینی انداز میں، لاش کا اندراج کیے لگ ۔۔۔مزید پڑھیں
وہ انساں در حقیقت صاحب کردار ہوتا ہے
وہ انساں در حقیقت صاحب کردار ہوتا ہے
کہ جس انساں کے دل میں جذبۂ ایثار ہوتا ہے
حسیں حسن عمل سے عشق کا دربار ہوتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
وہ
یہ ایک جسم بیچنے والی عورت کی کہانی ہے، وقت کے ساتھ جس کی ساری چمک دمک ختم ہو گئی ہے۔ وہ برص کی مریض ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے کتراتے اور نفرت کرتے ہیں۔ کوئی بھی اس سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتا۔۔۔مزید پڑھیں
کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں
کہاں شکوہ زمانے کا پس دیوار کرتے ہیں
ہمیں کرنا ہے جو بھی ہم سر بازار کرتے ہیں
زمانے سے رواداری کا رشتہ اب بھی باقی ہے
مگر سودا کسی سے دل کا ہم اک بار کرتے ہیں ۔۔۔مزید پڑھیں
کمرہ نمبر9
(دروازے پر ایک ہاتھ پڑنے کی آواز)
زمان: دیکھو شیریں۔ دستک نہ دو۔۔۔۔۔۔ پڑھو یہ کیا لکھا ہے۔
شیریں: (بے پروائی سے)۔۔۔۔۔۔کیا لکھا ہے؟
زمان: تم اتنی جلد بازی کیوں کرتی ہو۔۔۔۔۔۔یہ دیکھو تمہارے سامنے کیا ہے۔۔۔۔۔۔لکھا ہے’’ازراہ کرم دستک نہ دیجئے۔‘‘۔۔۔مزید پڑھیں
پنساری کا کنواں
بسترِ مرگ پر پڑی گومتی نے چودھری ونایک سنگھ سے کہا، ’’چودھری میری زندگی کی یہی لالسا تھی۔‘‘ چودھری نے سنجیدہ ہوکر کہا، ’’اس کی کچھ چنتا نہ کرو کاکی۔ تمھاری لالسا بھگوان پوری کریں گے۔ میں آج ہی سے مزدوروں کو بلا کر کام پر لگائے دیتا ہوں۔ دیو نے چاہا تو تم اپنے کنویں کا پانی پیوگی۔ تم نے تو گناہوگا کتنے روپے ہیں؟
گومتی نے ایک پل آنکھیں بند کرکے بکھری ہوئی یادداشت کو یکجا کرکے۔۔۔مزید پڑھیں
ٹک ٹک ٹک
ٹک، ٹک، ٹک
’’ایک تو اس وال کلاک کو آرام نہیں آتا، سردیوں میں تو اس کی آواز لاوڈ سپیکر بن جاتی ہے‘‘
ٹک ٹک ٹک
یہ آواز اور یہ احساس واقعی بہت تکلیف دہ ہے، خصوصا جب آپ گھر میں اکیلے ہوں، اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے وال کلاک ٹک ٹک کی بجائے کم، کم کہہ رہا ہو۔
’’کیا وقت یونہی تیزی سے نکل جائے گا۔ کیا اس ویرانے میں میری پوری زندگی گزر جائےگی؟ میری تو زندگی ۔۔۔مزید پڑھیں









