انتظار

(گھڑی آٹھ بجاتی ہے) 

منتظر آدھا گھنٹہ…….. صرف آدھا گھنٹہ اور پھر اس کے بعد …….. یہ ٹن کی آخری آواز دیتی ہوئی گونج کتنی پیاری تھی۔اور …….. اور…….. 

منتظر کا منطقی وجود…….. اگر وہ نہ آئی …….. یعنی اگر…….. 

منتظر: کیوں نہ آئے گی…….. ضرور آئے گی(پھیکی ہنسی)…….. یہ اندیشے بالکل فضول ہیں(اپنے آپ کو تسلی دینے کے اندازمیں)اُس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ 

منطقی وجود: وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔۔۔مزید پڑھیں

کامو فلیگ

میں اپنی پہلی شادی کا کارڈ بہت خوشی خوشی اسے دینے گیا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ وہ صاف انکار کر دے گا صاف انکار۔۔۔

میرے ذہن میں کئی طرح کے خیال آئے مگر کسی گمان کسی وسوسے پہ یقین نہیں آتا تھا کیوں کہ وہ میرااتنا پرانا یار تھاکہ کوئی پردہ باقی رہ نہیں گیا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

غالب اور سرکاری ملازمت

حکیم محمود خان مرحوم کے دیوان خانے کے متصل یہ جو مسجد کے عقب میں ایک مکان ہے، مرزا غالب کا ہے۔ اسی کی نسبت آپ نے ایک دفعہ کہا تھا۔ 

مسجد کی زیر سایہ ایک گھر بنا لیا ہے 

یہ بندۂ کمینہ ہمسایۂ خُدا کا ہے 

آئیے! ہم یہاں آپ کو دیوان خانے میں لے ۔۔۔مزید پڑھیں

قید خانہ

ایک ایسے شخص کی کہانی جو تنہا ہے اور وقت گزارنے کے لیے ہر روز شام کو شراب خانے میں جاتا ہے۔ وہاں روز کے ساتھیوں سے اس کی بات چیت ہوتی ہے اور پھر وہ درختوں کے جھرمٹ میں چھپے اپنے گھر میں آ جاتا ہے۔ گھر اسے کسی قید خانے کی طرح لگتا ہے۔ وہ گھر سے نکل پڑتا ہے، قبرستان، پہاڑیوں اور دوسری جگہوں سے گزرتے، لوگوں سے میل ملاقات کرتے، ان کے ساتھ وقت گزارتے وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ زندگی ایک قید خانہ ہے۔۔۔مزید پڑھیں

تیمور کی موت

پانچ سو برس سے کچھ زیادہ عرصہ ہوا ہے جب ایک آدمی نے ساری دنیا پر قابض ہونا چاہا۔ جس کام میں اس نے ہاتھ ڈالا کامیاب ہوا ۔۔۔ نصف دنیا سے زیادہ کے لشکروں کو اس نے یکے بعد دیگرے نیچا دکھایا۔ کئی شہروں کو بیخ و بنیاد سے اکھیڑ پھینکا۔ ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ کئی سلطنتوں کی دولت اپنے قبضے میں لایا اور جس طرح چاہا اسے صرف کیا۔ 

پہاڑوں کی چوٹیاں کاٹ چھانٹ کران پر نزہت گاہیں بنائیں۔۔۔ دریاؤں کے رخ بدل ڈالے۔۔۔مزید پڑھیں

ایک شوہر کی خاطر

اور یہ سب کچھ بس ذرا سی بات پر ہوا۔۔۔ مصیبت آتی ہے تو کہہ کر نہیں آتی۔۔۔ پتہ نہیں وہ کون سی گھڑی تھی کہ ریل میں قدم رکھا اچھی بھلی زندگی مصیبت ہوگئی۔

بات یہ ہوئی کہ اگلے نومبر میں جودھ پور سے بمبئی آرہی تھی سب نے کہا۔۔۔ ’’دیکھو پچھتاؤگی مت جاؤ۔۔۔‘‘ مگر جب چیونٹی کے پر نکلتے ہیں تو موت ہی آتی ہے۔

سفر لمبا اور ریل زیادہ ہلنے والی، نیند دور اور ۔۔۔مزید پڑھیں

کٹاری

(پوری تفصیلات کے ساتھ فلمی کہانی) 

فلم کے عنوان ختم ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔ آخری عنوان کے عقب میں’’بہارستان‘‘ کا ٹریڈ مارک ہے۔۔۔۔۔۔ ایک پھول اور دو کلیاں۔۔۔۔۔۔ ہم ڈزالو کرتے ہیں۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

بڑی سرکار کی حویلی سے ملحقہ باغ 

ٹریڈ مارک کا پھول اور کلیاں، اصلی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں