مارچ کی ایک رات

دل کی ویرانی بصیر کو کھائے جاتی تھی۔ مکدرہوکے اس نے جگدیش سے کہا،’’چلوکہیں چلیں۔‘‘

گھرسے نکل کر دونوں محبت کی دکان دکان پھرنے لگے۔ بصیراپنے دل کی ویرانی کرایے کی عورتوں کے آنچل میں چھپارہاتھا اور اس کادوست جگدیش ان بوسوں کے مزے لوٹ رہاتھا، جوسیکڑوں لبوں کے جھوٹے کیے ہوئے گالوں پر دیے جاتے ہیں۔ جن کا بوسہ لینے کے بعددیرتک محسوس ہوتا ہے کہ ہونٹ کسی بے جان شے سے مس ہوگئے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں

محبت کی پیدائش

(خالد سیٹی بجارہا ہے۔سیٹی بجاتا بجاتا خاموش ہو جاتا ہے پھر ہولے ہولے اپنے آپ سے کہتا ہے)

خالد: اگر محبت ہاکی یا فٹ بال کے میچوں میں کپ جیتنے‘تقریر کرنے اور امتحانوں میں پاس ہو جانے کی طرح آسان ہوتی تو کیا کہنے تھے۔۔۔مجھے سب کچھ مل جاتا۔۔۔سب کچھ(پھر سیٹی بجاتا ہے)نیلے آسمان میں ابا بیلیں اُڑ رہی ہیں اس چھوٹے سے باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے پر میں خوش نہیں ہوں۔ میں بالکل خوش نہیں ہوں۔۔۔مزید پڑھیں

بیڑیاں

تو یہ ہیں تمہاری قبر آپا۔۔۔ لا حول و لا قوۃ وحید نے اچھا بھلا لمبا سگریٹ پھینک کر دوسرا سلگا لیا۔ کوئی اور وقت ہوتا تو جمیلہ اس سے بری طرح لڑتی اسے یہی برا لگتا تھا کہ سگریٹ سلگالی جائے اور پی نہ جائے بلکہ باتیں کی جائیں۔ جب سلگائی ہے تو پیو۔ دھواں بناکر اڑا دینے سےفائدہ۔ مفت کی تو آتی نہیں۔ مگر اس وقت وہ ہنسی کو دبانے میں ایسی مشغول تھیں کہ گھریلو اقتصادیات کا بالکل دھیان نہ رہا۔

’’اوئی اللہ۔۔۔ کبریٰ آپا سن ۔۔۔مزید پڑھیں

خود کشی

عورت: آج کل کے زمانے کی فیشن ایبل عورت

چچا: پرانی وضع کے بزرگ

ہیر: ہیررانجھا ڈرامہ کی ہیر۔ وہی لباس

نوکرانی: جوان عورت خادماؤں کے لباس میں

پردہ اُٹھتا ہے سٹیج پر بالکل اندھیرا چھایا ہے سامنے ایک عورت کرسی پر بیٹھی ہے بال کھلے ہیں صرف اس کے چہرے پر روشنی پڑ رہی ہے عقب میں آرکسٹرا پر ایک درد ناک دُھن بجائی جارہی ۔۔۔مزید پڑھیں

یادداشت کی تلاش میں

خط کے لفافے پر ٹکٹ لگاتے لگاتے اس کی یادداشت ختم ہو گئی اور اسے سب کچھ بھول گیا حتٰی کہ یہ بھی کہ لفافے پر لگائے ان دو ٹکٹوں کا کیا مطلب ہے۔ جیسے بلب جل رہا ہو، روشنی ہواور یکایک اندھیرا چھا جائے۔ اس نے لفافے کودیکھاپھر اپنے ہاتھوں کواسے سمجھ نہ آئی کہ اس کا یہاں آنے کا مقصد کیا تھااور اٹھ کر کھڑکی تک آیا جہاں ڈاک خانے کا ملازم خط کے لفافوں پر مہریں لگارہا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

استاد شمو خاں

یہ کہانی استاد شمو خاں کی ہے۔ کسی زمانے میں وہ پہلوان ہوا کرتا تھا۔ پہلوانی سے اس نے کافی شہرت پائی اور اب زندگی کے باقی دن کبوتر بازی کا شوق پورا کرکے گزار رہا ہے۔ پاس ہی رہنے والے شیخ جی بھی کبوتر بازی کا شوق رکھتے تھے۔ کبوتر بازی کے مشترکہ شوق میں دونوں کے درمیان کس کس طرح کے داوں پینچ ہوتے ہیں، جاننے کے لیے یہ کہانی پڑھیں۔۔مزید پڑھیں

کیا میں اندر آسکتا ہوں

افراد

نعیم: (ایک آزاد خیال نوجوان)

اور چند’’آنا منع ہے‘‘ کے بورڈ

(بالکل آہستہ آہستہ وہ دُھن سازوں پر بجائی جائے جس میں�آگے چل کر اس ڈرامے کا ہیرو ایک غزل گائے)

نعیم: (ایک لمبی سانس لے کر)۔۔۔۔۔۔کیسی پُر فضاجگہ ہے۔۔۔مزید پڑھیں