دل کی ویرانی بصیر کو کھائے جاتی تھی۔ مکدرہوکے اس نے جگدیش سے کہا،’’چلوکہیں چلیں۔‘‘
گھرسے نکل کر دونوں محبت کی دکان دکان پھرنے لگے۔ بصیراپنے دل کی ویرانی کرایے کی عورتوں کے آنچل میں چھپارہاتھا اور اس کادوست جگدیش ان بوسوں کے مزے لوٹ رہاتھا، جوسیکڑوں لبوں کے جھوٹے کیے ہوئے گالوں پر دیے جاتے ہیں۔ جن کا بوسہ لینے کے بعددیرتک محسوس ہوتا ہے کہ ہونٹ کسی بے جان شے سے مس ہوگئے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں









