ساس اور بہو

یہ ایک ایسی گھریلو عورت کی کہانی ہے، جو اپنی ساس کی ہر وقت شکایتیں کرتے رہنے کی عادت سے پریشان ہے۔ وہ اپنی طرف سے ساس کو خوش رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ مگر ساس اس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی کمی نکال ہی دیتی ہے۔ وہ کئی بار اپنے بیٹے سے دوسری شادی کرنے کے لیے بھی کہتی ہے۔ لیکن بیٹا اپنی ماں کی تجویز کو ہنس کر ٹال دیتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

ایک مرد

پہلا منظر

زنانہ کالج کے ہوسٹل کا ایک کمرہ۔۔۔۔۔۔ مختصر سازو سامان، لیکن ہر چیز سلیقے اور قرینے سے رکھی نظر آتی ہے۔ کمرے کے دو حصے ہیں ایک آگے، دوسرا پیچھے ۔بیچ میں دیوار ہے لیکن اس میں دو بڑے بڑے بغیر کواڑوں کے دروازے ہیں ان میں سے ایک کمرے کا ۔۔۔مزید پڑھیں

بڑی شرم کی بات

رات کے سناٹے میں فلیٹ کی گھنٹی زخمی بلاؤ کی طرح غرا رہی تھی۔ لڑکیاں آخری شو دیکھ کر کبھی کی اپنے کمروں میں بند سو رہی تھیں۔ آیا چھٹی پر گئی ہوئی تھی اور گھنٹی پر کسی کی انگلی بے رحمی سے جمی ہوئی تھی۔ میں نے لشتم پشتم جا کر دروازہ کھولا۔

ڈھونڈی چھوکرے کا ہاتھ تھامے دوسرے ہاتھ سے چھوکری کو کلیجے سے لگائے جھکی جھکی گھسی اور بھاگ کر نوکروں والے غسل خانے میں لپت ہوگئی۔ دور سڑک پر غول بیابانی کاشور اے روڈ کی طرف لپکا چلا آرہا تھا۔ میں نے بالکنی سے دیکھا ۔۔۔مزید پڑھیں

تلوّن

بارش کا شور……..آہستہ آہستہ یہ شور شدّت پکڑتا ہے۔

نیلم: (ڈرے ہوئے لہجہ میں)کھڑکی بند کر دو جمیل……..باہر رات کا اندھیرا ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ہمیں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھ رہا ہو۔۔۔اُف یہ کالی رات کتنی بھیانک ہے۔

جمیل: (جلدی سے)اتنی بھیانک نہیں جتنی تمہاری کالی زلفیں ہیں۔

نیلم: تو ڈرنا چاہیئے آپ کو۔

جمیل: (ہنستا ہے) ان کالی رسیوں سے جو سانپ کی طرح بل تو کھاتی ہیں مگر ڈس نہیں سکتیں(ہنستا ہے) تمہارے سر کے یہ کالے دھاگے صرف شاعروں ہی کے لیئے جال بن سکتے ہیں نیلم۔۔۔ہاں تو کھڑکی کیا سچ مچ بندکردوں۔۔۔مزید پڑھیں

رفوگر

یہ شعری اسلوب میں لکھی گئی کہانی ہے۔ اس میں ہندوستان کی تہذیب، رہن سہن، رسم و رواج اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کو دکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی اس رفوگر کی بھی کہانی ہے جو بتاتا رہتا ہے کہ وہ کہاں ہے اور کیا کر رہا ہے، کس لیے کر رہا ہے۔ یہ کہانی اپنے موضوع اور اسلوب کو لے کر ایک الگ، نیے اور خوبصورت تجربے کا احساس کراتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

راسپوٹین کی موت

راسپوٹین دنیا کا سب سے بڑا گنہگار اور بدخصلت انسان جو روس میں پیدا ہوا، ولی یقین کیا جاتا تھا، مگر درحقیقت وہ ایک شیطان تھا جس کے ہاتھوں زارِ روس کی عظیم الشان سلطنت برباد ہوئی اس کی گناہوں بھری زندگی اس قدر حیرت خیز ہے کہ اس پر کسی خیالی افسانے کا گمان ہوتا ہے۔

چھ فٹ دو انچ لمبے قد کا یہ گرانڈیل راہب جس کا سرگنبد نما تھا کئی سال روس پر اپنی شیطانی صفات کی بدولت حکمران رہا۔ اس کی حیرت انگیز قوت کاراز اس چیز میں مضمر ہے کہ ہپناٹزم میں اسے کمال حاصل تھا ۔ اس قوت کے ۔۔۔مزید پڑھیں

کالی شلوار

ایک پیشہ کرنے والی عورت سلطانہ کی روح کی الم ناکی اور اس کے باطن کے سناٹے کو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے خدا بخش اسے پیار کا جھناسا دے کر انبالہ سے دہلی لے کر آتا ہے اور اس کے بعد شنکر محض کالی شلوار کے عوض اس کے ساتھ جس قسم کا فریب کرتا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مرد کی نظر میں عورت کی حیثیت محض ایک کھلونے کی ہے۔ اس کے دکھ، درد اور اس کے عورت پن کی اسے کوئی پروا۔۔۔مزید پڑھیں