جُرم اور سزا

(سسکیوں کی آواز۔۔۔۔۔۔ پھربھاری قدموں کی آواز۔۔۔۔۔۔ ایسا معلوم ہو کہ کوئی اضطراب کی حالت میں ٹہل رہاہے)

شنکر: تمہارا بیان ہے کہ اس نے تمہیں اپنے کمرے میں بلایا یہ کہہ کر کہ وہ تمہاری مدد کریگا۔۔۔۔۔۔ تمہارا بخار دُورکرنے کے لیئے وہ تمہیں دوا دے گا۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ اور اس نے تمہارا بخار دُور کرنے کے بجائے تمہیں ہمیشہ کے لیئے روگی بنا دیا۔۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔۔اس لیئے کہ قانون کا تالا صرف سونے چاندی کی چابی سے کھلتا ہے جو تمہارے پاس نہیں۔۔۔۔۔۔اس لیئے کہ وہ شہرکے سب سے بڑے رئیس کا لڑکاہے اورتم غریب بھکاران ہو تمہارا کوئی مددگار ۔۔۔مزید پڑھیں

مندر والی گلی

ایک ایسے شخص کی کہانی جو بنارس گھومنے جاتا ہے۔ وہاں وہ ایک بیوپاری کے گھر رکتا ہے۔ شہر گھومتے ہوئے اسے مندر والی گلی بہت زیادہ پسند آتی ہے۔ اس گلی سے اس کا لگاو دیکھ کر بیوپاری اس کے رہنے کا انتظام مندر والی گلی میں ہی کرتا ہے مگر وہ انکار کر دیتا ہے۔ پچیس سال بعد وہ پھر بنارس لوٹتا ہے تو دیکھتا ہے کہ اس بیوپاری کی نئی نسل اسی مندر والی گلی میں رہ رہی ہوتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ کھوج لگائیں

کشور: (اپنی بیوی سے بڑے سنجیدہ لہجے میں)۔۔۔ آؤ کھوج لگائیں۔

لاجونتی: کھوج لگاؤ گے۔۔۔تم کھوج لگاؤگے۔۔۔تم جیسے لال بجھکڑوں کی بابت ہی تو وہ کہاوت مشہور ہے۔

کشور: کون سی کہاوت۔

لاجونتی: وہ جو ہاتھی کے پاؤں کا نشان دیکھ کر ایک بجھکڑنے کہا تھا ۔۔۔ چکی کا پڑ باندھ کر کوئی ہرنانا چا ہوئے۔

کشور: لاجونتی تمہیں شرم نہیں آئی میرا مذاق اُڑاتے۔۔۔ اور وہ بھی۔۔۔مزید پڑھیں

اور بنسری بجتی رہی

یہ قدرت کے حسن اور دنیا میں بسنے والے جانداروں کے مزاج کو بیان کرنے والی کہانی ہے۔ جنگل میں ایک بوڑھے برگد کے پیڑ کے نیچے بیٹھا اہیر بانسری بجا رہا ہے۔ اس کی بانسری کی تان سن کر سبھی چرند و پرند جھومنے لگتے ہیں۔ سانپ بھی اپنے بل سے نکل آتا ہے اور بانسری کی دھن پر ناچنے لگتا ہے۔ دور کھیت میں ایک۔۔۔مزید پڑھیں

تین خاموش عورتیں

منظر

(اسٹیشن پر گاڑی ٹھہرنے کا صوتی منظر۔۔۔خوانچہ فروش کا شوروغیرہ)

نوٹ:

ثریا بہت تیزی سے بولے جیسے کترنی چل رہی ہے۔

ثُریّا: دیکھنا کہیں کوئی چیز نہ ٹوٹ جائے۔۔۔ ساری چیزیں بڑے سلیقے سے باہر نکالو اور قرینے سے پلیٹ فارم پر رکھ دو۔۔۔ سُنتے ہو بڑے میاں۔۔۔ گاڑی چھوٹنے میں کافی دیر ہے۔ تم اطمینان سے اپنا کام ۔۔۔مزید پڑھیں

نیکی کرنا جرم ہے

پہلے میں کہتا تھا کہ نیکی کرنا کوئی جرم نہیں لیکن اب کہتا ہوں کہ نیکی کرنا جرم ہے اور وہ بھی قابل دست اندازی پولیس۔ لوگ کہتے ہیں کہ تم احمق ہو اور میں کہتا ہوں کہ تم! لہٰذا اب میں اپنا قصہ سنا کر آپ کی عقل کا بھی امتحان لیتا ہوں۔

(۱)

ایک روز کا ذکر ہے کہ میں اسکول سے واپس گھر آ رہا تھا۔ یہ جب کا ذکر ہے کہ میری عمر بارہ یا تیرہ سال کی ہوگی۔ ایک کنوئیں پر سے گزر ہوا۔ دو تین عورتیں پانی بھر رہی تھیں۔ آپس میں ہنس بول رہی تھیں۔ میں نے۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ کہانی لکھیں!

لا جونتی: اپنے پتی سے اشتیاق بھرے لہجے میں۔۔۔ آؤ کہانی لکھیں۔

کشور: (چونک کر)کہانی؟

لاجونتی: ہاں ہاں‘کہانی

کشور: میں لکھنا نہیں جانتا‘کہو تو ایک سُنادوں۔

لاجونتی: سُناؤ۔

کشور: سُنو۔۔۔ایک تھی کہانی اُس کی بہن تھی نہانی‘اُس کا۔۔۔مزید پڑھیں

لاوارث

کُوچ بہار کے پلیٹ فارم پر گاڑی ایک چیخ کے ساتھ رُک گئی اور پری توش کھڑکی کے راستے جھٹ ایک ڈبے میں گُھس گیا۔ نیچے سے سانیال اور بوس سب سامان اُسے تھماتے چلے گئے اور بار بار تاکید کرتے رہے کہ وہ ایک پوری سیٹ پر قبضہ جما لے۔

سانیال ہنس ہنس کر کہہ رہا تھا، ’’پری توش ہمارا بھائی ہے۔ وہ ناراض نہیں ہوسکتا۔‘‘ بوس یونہی مسکرارہا تھا۔ اور پری توش ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھ گیا۔

پرے ڈبّے میں دھکا پیل ہو رہی تھی۔ باہر کا دروازہ بند کرلیا گیا تھا۔ وہی لوگ جو کچھ۔۔۔مزید پڑھیں