زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے
دل کسی کا دکھا نہیں سکتے
وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے
کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے۔۔۔مزید پڑھیں
زخم دل ہم دکھا نہیں سکتے
دل کسی کا دکھا نہیں سکتے
وہ یہاں تک جو آ نہیں سکتے
کیا مجھے بھی بلا نہیں سکتے۔۔۔مزید پڑھیں
قلو پطرہ دنیا کی حسین ترین عورت تھی۔اس کا حُسن کئی ا نقلابو ں ‘اور خونریزیو ں کا با عث ہوا۔۔۔ اس ساحرہ کے حُسن وعشق کے قصے جہا ں دریائے نیل کے ملاحوں کو ازبر یاد ہیں۔وہا ں تمام دنیا کو معلو م ہیں۔
قلو پطرہ مصر کے نا لائق بادشاہ بطلیموس اولیت کی بیٹی تھی۔۔۔یہ بادشاہ ۸۰ قبل مسیح تک حکمران رہا ۔اپنی سترہ برس کی بیٹی قلو پطرہ کے سر پر اپنا زنگ خوردہ تاج رکھ کر اُس نے دنیا کو خیرباد۔۔۔مزید پڑھیں
گہری تاریکی اور مکمل خاموشی تھی۔۔۔ سارے احساسات نیند میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کہیں کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔ یہ کیفیت کب سے تھی۔ یاد نہیں آرہا تھا۔ اس سے پہلے کیا تھا۔۔۔ اس کا بھی علم نہ تھا۔ پھر جیسے کسی ہیولے کی طرح زمین پر اترنے کااحساس ہوا۔ اور لگا کہ پیٹھ زمین سے لگتی جارہی ہے۔
دور کہیں شاید کسی رقص کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ رقاصہ نے گھنگروپاؤں سے باندھ کر زمین پر۔۔۔مزید پڑھیں
کشور: اپنی بیوی سے ‘ اشتیاق بھرے لہجے میں ) ادھر آؤ‘ خط سنو!
لاجونتی: (دور سے) کیا کہا؟
کشور: میں کہتا ہوں ادھر آؤ خط سنو!
لاجونتی: کوئی اور کام نہ کروں (غصے میں ‘ لو سناؤ کیا۔۔۔مزید پڑھیں
تصور میں بھی جس کی جستجو کرتا ہے دل میرا
اسی سے ہجر میں بھی گفتگو کرتا ہے دل میرا
ندامت سے گناہوں پر جو روتی ہیں کبھی آنکھیں
انہی پاکیزہ اشکوں سے وضو کرتا ہے دل میرا۔۔۔مزید پڑھیں
ہاؤ۔۔۔ ہوّہ۔۔۔ ہلو لیو ٹیننٹ۔۔۔ اہم۔۔۔ ٹٹ ٹٹ۔۔۔ فلکس۔۔۔ یپ۔۔۔ مے فیئر۔۔۔ یاہ۔۔۔ او کے۔۔۔ ٹیڈل اووسویٹی پائی۔۔۔ چیریوسیم۔۔۔ اور دوسرے لمحے ریٹا میری بہن نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے۔ جیسے آپ ایک بار پلک جھپک کر کہیں ’’جیک رو بنسن‘‘ میری آٹھ سلنڈرز والی موٹر پانی کے تیز چھینٹے اڑاتی زنّاٹے کے ساتھ موڑ پر سے گزر کر جنوبی مال کی طویل اور اندھیری خاموشی میں۔۔۔مزید پڑھیں
اس وقت کا خیال کرو جب عورت کا بال سفید ہوجاتا ہے، جب عورت کے پھل پک کر سڑ جاتے ہیں اور معاشرے کی خود کار مشین اس کو اگلی قطار سے پھٹک کر پچھلی قطار میں پھینک دیتی ہے۔ اتنی دیر میں اگلی قطاروں میں نئی لڑکیاں آجاتی ہیں۔‘‘
’’آجاتی ہوں گی۔‘‘ سلیمہ بغیر کسی ر د عمل کے بولی۔ چہرہ کورے کا کورا۔ جوار نہ بھاٹا۔ جیسے جامد پانی میں کنکر تک نہ گرے۔
یہ بات نصر ہی نے نہیں کہی تھی۔ ایسی باتیں کئی لڑکے اور کہہ چکے تھے۔ جب کوئی لڑکا سلیمہ سے ملتا، وہ میٹھی گولیاں چوسنے کو دیتی۔ لڑکا چوستارہتا۔ میٹھی چاشنی میں لپٹی ہوئی مہین مہین باتیں۔۔۔مزید پڑھیں
بجھ گئی آگ تو کمرے میں دھواں ہی رکھنا
دل میں اک گوشۂ احساس زیاں ہی رکھنا
پھر اسی رہ سے ملے گی نئے ابلاغ کو سمت
شعر کو درد کا اسلوب بیاں ہی رکھنا۔۔۔مزید پڑھیں
(پانی میں ہاتھ دھونے کی آواز)
ڈاکٹر: بچے کو زبردست انفکشن ہو گئی ہے اگر اس کی اچھی طرح تیمارداری اور خبر گیری نہ کی گئی تو مجھے اندیشہ ہے۔۔۔
چپلا: نہیں نہیں۔۔۔ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے۔ آپ مطمئن رہیں ڈاکٹر صاحب اس کی اچھی طرح تیمارداری کی جائے گی۔۔۔ یہ لیجئے تولیہ!
(بچہ بخار میں ’’ہوں ہوں‘‘ کرتا ہے)
چپلا: گوپو۔۔۔گوپو۔۔۔ میں تیری اُستانی ہوں۔۔۔مزید پڑھیں
یہ ایک ایسے نفسیاتی بیمار کی کہانی ہے جو تنہا ہی ہنی مون پر جاتا ہے۔ اس کے دوست احباب کا خیال ہے کہ وہ لازمی طور پر اپنی بیوی کے ساتھ ہنی مون پر گیا ہے جبکہ وہ ہوٹل کے کمرے میں تنہا رہتا ہے، لیکن اس کی یہ تنہائی زیادہ دنوں تک نہیں رہتی۔ اسی ہوٹل میں اسے ایک دوسری عورت مل جاتی ہے۔‘‘
اچھی طرح سے اطمینان کر لینے کے بعد کہ اس کی انگلی چار نمبر پر ہی ہے، اس نے بٹن پر ہلکا سا زور دیا۔ دروازے کے اوپر ایک چھوٹا سا انگارہ دہکا، پھر جیسے اسے راکھ نے ڈھک لیا، سرخی اندر سے جھلکتی رہی۔۔۔مزید پڑھیں