سلیمہ

تالیوں کا شور۔۔۔۔۔۔چند لمحات کے بعد یہ شور بند ہو جائے)

پرنسپل: یہ رسم جب سے میں اس کا پرنسپل مقررّہُوا ہُوں۔ ہر سال باقاعدہ ادا کی جاتی ہے ہر سال اس موقعہ پر تالیوں کے شور کے ساتھ اپنی کرسی سے اُٹھتا ہوں اور قریب قریب وہی تقریر کرتا ہوں جو میں نے آج سے دس سال پہلے کی تھی تمہیں دیکھ کر میرے دل میں وہی جذبات پیدا ہوتے ہیں جو اس سلسلے کے آغاز پرہوئے تھے۔ آج جب میں نے اس پر۔۔۔مزید پڑھیں

جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے

جو نیکی کر کے پھر دریا میں اس کو ڈال جاتا ہے

وہ جب دنیا سے جاتا ہے تو مالا مال جاتا ہے

سنبھل کر ہی قدم رکھنا بیابان محبت میں

یہاں سے جو بھی جاتا ہے بڑا بے حال جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اجنبی اجنبی

جہاں زمین سے قریب ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے وجود میں اطمینان کی ایک لہر دوڑ گئی۔ بس چند لمحے۔ چند لمحوں بعد اجنبیت کا بوجھ جو پچھلے چاربرسوں سے وہ اپنے کندھوں پراٹھائے پھر رہا ہے، اتار پھینکے گا۔ چار برس پہلے اس نے اپنی شناخت کھودی تھی اورپیسہ ڈھالنے کی مشین بن گیاتھا۔ اجنبی چہرے ‘اجنبی زبان ‘ اجنبی ماحول، اجنبی فضا ء۔ صحرا میں ابھرتا ہوا خوب صورت شہر۔ ریگستان کی کھوکھ سے جنم لیتی اونچی اونچی عمارتیں۔ کشادہ سڑکیں۔ سبک ایئرکنڈیشد ۔۔۔مزید پڑھیں

افواہ

میرے خلاف ایک نہ ایک افواہ جنم لے لیتی ہے اور چاروں طرف گشت کرنے لگتی ہے، یہ افواہیں کون پھیلاتا ہے، یا کون لوگ پھیلاتے ہیں مجھے نہ تو علم ہے اور نہ ہی اس کوئی اندازہ لگا سکتا ہوں۔ اپنے تعلق سے پھیلی ہوئی افواہ کا علم بھی مجھے کسی دوسرے کے ذریعہ ہوتا ہے، جب وہ شخص اس پھیلی ہوئی افواہ کے بارے میں مجھ سے تفتیش کرتا ہے کہ آخر ماجرا کیا ہے، یہ بات کیوں گشت کر رہی ہے۔ کیا وجہ تھی کہ میں نے یہ حرکت کی، اب اس حرکت کے ازالہ کی صورت کیا ہے یا ۔۔۔مزید پڑھیں

سوال

سوکھی ہوئی زمین کے سرے پر پھول پتوں سے خالی ننگ دھڑنگ درخت کے پرے شام کا سورج دھیرے دھیرے اوجھل ہو رہا تھا اور عبد اللہ کے ستے ہوئے چہرے پر وحشت کے آثار شدید ہوتے جا رہے تھے۔ کم ہوتی ہوئی روشنی اور پھیلتے ہوئے سایوں میں اس کے سوکھے ہوئے رخساروں کی بھری ہوئی ہڈیاں اور پھیلا ہوا منہ بے حد خطرناک معلوم ہوتا تھا۔ کوٹھری کی ٹوٹی ہوئی سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے اس نے پانچویں بار آواز نکالی، ’’اختر کی ماں۔۔۔ اختر تیار ہو گئی۔۔۔مزید پڑھیں

کبوتری

مرغ کی اذان۔۔۔۔۔۔پتھریلے زینوں پر قدموں کی آواز۔۔۔۔۔۔ پھر مرغ کی اذان۔۔۔۔۔۔قدموں کی آواز۔۔۔۔۔۔مندرکا گھنٹہ ایک بار بجتا ہے۔۔۔۔۔۔وقفہ۔۔۔۔۔۔دوسری بار بجتا ہے۔۔۔۔۔۔ وقفہ۔۔۔۔۔۔دو لڑکیوں کے گنگنانے کی آوازیں جیسے وہ زیر لب پوجا کررہی ہیں۔۔۔۔۔۔ یہ گنگناہٹ چند لمحات تک جاری رہے۔۔۔۔۔۔اس کے بعد آرتی شروع ہو۔۔۔۔۔۔آرتی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔وقفہ۔۔۔۔۔۔گھنٹہ ایک بار بجتا ہے۔۔۔۔۔۔ وقفہ۔۔۔۔۔۔ دوسری بار بجتا ہے۔۔۔۔۔۔پتھریلے زینوں پر قدموں کی آواز۔ یہ ظاہر کرنے کے لیئے دونوں لڑکیاں مندر سے۔۔۔مزید پڑھیں

خوشبو دار تیل

’’آپ کا مزاج اب کیسا ہے؟‘‘

’’یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔ اچھا بھلا ہوں۔۔۔ مجھے کیا تکلیف تھی۔۔۔‘‘

’’ تکلیف تو آپ کو کبھی نہیں ہوئی۔۔۔ ایک فقط میں ہوں جس کے ساتھ کوئی نہ کوئی تکلیف یا عارضہ چمٹا رہتا ہے۔۔۔‘‘

’’یہ تمہاری بد احتیاطیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔۔۔ ورنہ آدمی کو کم از کم سال بھر ۔۔۔مزید پڑھیں