جولیس سیزراورسکندرِ اعظم کے بعد دنیا کے بڑے سپہ سالار اور فاتحوں کی فہرست میں نپولین کا نام آتا ہے ۔ اسکندر اور جولیس سیزر کی فتوحات کو ایک زمانہ گزر چکا ہے ۔۔۔ آج کل نپولین کا نام ہی سب سے پیش پیش ہے کہ یورپ سے ابھی تک اس جنگ جو انسان کے دہشت ناک کارناموں کے نقش نہیں مٹے ۔۔۔ نپولین اعظم کی بزرگی کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے اگر ہم میسورکے بادشاہ فتح علی ٹیپو کی زندگی کو پیشِ نظر رکھیں اور دنیا کی ان دو نامور ہستیوں کے لمحات آخری لمحات کا۔۔۔مزید پڑھیں
پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہا
پھرے ہیں دھن میں تری ہم ادھر ادھر تنہا
تجھے تلاش کیا ہے نگر نگر تنہا
ہمارے ساتھ سبھی ہیں مگر کوئی بھی نہیں
ہم انجمن میں ہیں بیٹھے ہوئے مگر تنہا۔۔۔مزید پڑھیں
مردہ راکھ
محرم کے موقع پر ادا کیے جانے والی مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے کہانی کے کردار اپنے ماضی میں کھو جاتے ہیں، وہ وقت جو انھوں نے اپنے دوستوں، رشتہ داروں کے ساتھ گزارا ہے اور تحت الشعور میں پڑی ہوئی یادیں مجسم ہوکر سامنے آنے لگتی ہیں۔ علم، گھوڑے، تازیے نظروں کے سامنے سے گزرتے جاتے ہیں۔‘‘
کہتے ہیں کہ اس برس سواری نہیں آئی تھی، یہ بڑا علم گم ہونے کے ایک سال بعد کا واقعہ ہے، بڑا علم پہلے گروی رکھا گیا تھا، پھر سونے کے کئی علم دے کر اسے عین نو محرم کو چھڑایا گیا، جب وہ سجا کر بلند کیا ۔۔۔مزید پڑھیں
چنگیز خان کی موت
آج سے سات سو سال پہلے کا ذکر ہے ایک شخص آندھی کی طرح اُٹھا اور قریب قریب ساری دنیا پر چھا گیا ۔اس شخص کا نام’’ چنگیز خان ‘‘تھا ۔جس کی دہشت ایک زمانہ تک لوگو ں کے دلو ں پر طاری رہی۔زندگی میں اس کو بہت سے خطاب ملے‘کسی نے اس کو ’’انسان کو ہلاک کرنے والا دیو ‘‘کہا۔کسی نے ’’شاندار لڑکا‘‘کا لقب دیا ۔
یورپ کے بڑے بڑے جنگجو ؤں کی فہرست میں سب سے۔۔۔مزید پڑھیں
سسکتی ہوئی قلقاریاں
اس کی چھاتیوں میں زندگی تھی، جو اسے تکلیف دیتی، قطرہ قطرہ ٹپکتی، سینہ بند گیلا کرتی، نشان چھوڑتی، اور باقی رہتی۔
اس کا سینہ بھرا ہوا تھا۔ کاندھے جھکے تھے۔ وہ درد میں مبتلا تھی۔ اس رس کے سبب، جو اس کے سینے کا ابھار تھا، وہاں جوش مارتا تھا۔ جسے نئی نسل کی پرورش کرنی تھی کہ وہ نئی نسل کی غذا تھا، پر نئی نسل۔۔۔
اس کا پہلو قلقاریوں سے خالی تھا۔ وہ معدوم ہو چکی تھیں۔ وہاں، بستر پر، زچگی کے عمل سے گزرنے کے بعد اس کے پہلو میں کوئی ایسا نہیں تھا، جو روتے ہوئے، زیر جامہ گیلا کرتے ہوئے، مچلتے ہوئے، اس کے ۔۔۔مزید پڑھیں
آؤ بحث کریں!
لاجونتی: (اشتیاق بھرے لہجے میں‘ اپنے پتی سے)آؤ بحث کریں۔
کشور: بحث کریں۔۔۔کس سے بحث کریں؟
لاجونتی: تم تو یوں بات کر رہے ہو گویا بحث کو جانتے ہی نہیں۔۔۔ساری عمر گزر گئی تمہاری بحث کرتے کرتے اور آج کتنے انجان بن رہے ہو۔ ننھے نادان روٹی کو ٹوٹی اور پانی کو مما کہتے ہیں بیچارے جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے جی میں آئی کہ بحث کریں۔ ذرا دل بہل جائے گا۔ اور تم نے چلّانا شروع کر دیا۔
(بگڑ کر) آج تک تم نے سیدھے منہ بات بھی کی ہے۔
کشور: ارے بھئی کوئی کام کی بات کہی ہوتی۔ یہ کیا؟۔۔۔آؤ بحث کریں۔۔۔آؤ بحث ۔۔۔مزید پڑھیں
پنجاب کا دوپٹہ
کہانی ایک ایسی پنجابی لڑکی کی ہے جو ایک منت کی درخواست لے کر ایک درگاہ پر کئی دن سے مسلسل کھڑی ہے۔ اس نے اپنا دوپٹہ درگاہ کی چوکھٹ سے باندھا ہوا ہے اور مسلسل کھڑے ہونے سے اس کے پیر سوج گئے ہے۔ یہ دوپٹہ محض ایک لڑکی کا ہی نہیں ہے، بلکہ یہ پنجاب اور سندھ کو آپس میں باندھنے والی ڈور کی علامت بھی ہے۔‘‘
جب آدمی میری عمر کو پہنچتا ہے تو وہ اپنی وراثت آنے والی نسل کو دے کر جانے کی کو شش کرتا ہے۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں، جو انسان بد قسمتی سے ساتھ ہی سمیٹ کر لے جاتا ہے۔ مجھے اپنی جوانی کے واقعات اور اس سے۔۔۔مزید پڑھیں
شکوہ شکایت
زندگی کا بڑا حصّہ تو اسی گھر میں گزر گیا، مگر کبھی آرام نہ نصیب ہوا۔ میرے شوہر دنیا کی نگاہ میں بڑے نیک، خوش خلق، فیاض اور بیدار مغز ہوں گے۔ لیکن جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ دنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزہ آتا ہے جو اپنے گھر کو جہنم میں ڈال رہے ہوں اور غیروں کے پیچھے اپنے آپ کو تباہ کئے ڈالتے ہوں۔ جو گھر والوں کے لئے مرتا ہے، اس کی تعریف دنیا والے نہیں کرتے۔ وہ تو ان کی نگاہ میں خود غرض ہے، بخیل ہے، تنگ دل ہے، مغرور ہے، کور باطن ہے۔
اسی طرح جو لوگ باہر والوں کے لئے مرتے ہیں، ان کی تعریف گھر والے کیوں کرنے لگے۔ اب انہیں کو ۔۔۔مزید پڑھیں
ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائے
ہزار صبح نے کرنوں کے جال پھیلائے
مگر سمٹ نہ سکے رات کے گھنے سائے
طواف کرتی ہے منزل اسی مسافر کا
جو راستوں کے خم و پیچ سے نہ گھبرائے
یہ انتظار کی گھڑیاں بڑی غنیمت ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
پچھتاوا
یہ افسانہ انسانی وجود کی بقا کے اسباب و علل پر مبنی ہے۔ مادھو پیدائش سے پہلے کوکھ میں ہی اپنی ماں کی دکھ بھری باتیں سن لیتا ہے، اس لیے وہ پیدا نہیں ہونا چاہتا۔ نو مہینے مکمل ہونے کے بعد عین وقت پر وہ پیدا ہونے سے انکار کرنے لگتا ہے۔ بہت سمجھانے بجھانے پر آمادہ ہوتا ہے۔ لیکن جوان ہونے کے بعد بیزاری کے عالم میں ساری دولت دان کر کے جنگل کی طرف نکل پڑتا ہے جہاں اسے زار و قطار روتی ہوئی ایک عورت ملتی ہے جس سے اس کے محبوب نے بے وفائی کی ہے۔ مادھو اس سے ہمدردی کرتا ہے لیکن موہ مایا میں۔۔۔مزید پڑھیں









