تین بیمار پرس عورتیں

ایک بڑا کمرہ:دو پلنگ پڑے ہیں۔ جیسے عام طور پر شادی شدہ گھروں میں ہوتے ہیں۔ کمرہ سامان سے بھرا ہوا ہے۔ پلنگوں کے نیچے اٹیچی کیس‘ سوٹ کیس اور ٹرنک دھرے ہیں۔ سامنے الماری ہے۔ جس کے نیچے مردانہ بوٹوں کی قطار لگی ہے۔ جس پلنگ پر طاہرہ لیٹی ہے اس کے نیچے زنانہ چپل اور بوٹ اوندھے سیدھے پڑے ہیں ۔ دائیں ہاتھ دیوار کے ساتھ ڈریسنگ ٹیبل ہے۔ جس پر سنگھار کے سامان کے ساتھ ساتھ دواؤں کی شیشیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ طاہرہ کے پلنگ کے پاس ایک تپائی ہے جس پر خالی گلاس ہے۔ پردہ اٹھتا ہے تو طاہرہ کرسیوں کا سہرا لے کر پلنگ کی ۔۔۔مزید پڑھیں

زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہے

زہر غم دل میں سمونے بھی نہیں دیتا ہے

کرب احساس کو کھونے بھی نہیں دیتا ہے

دل کی زخموں کو کیا کرتا ہے تازہ ہر دم

پھر ستم یہ ہے کہ رونے بھی نہیں دیتا ہے

اشک خوں دل سے امنڈ آتے ہیں دریا کی طرح۔۔۔مزید پڑھیں

شادی

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جس کی تربیت مغربی تہذیب میں ہوئی ہے۔ اس نے مغربی ادب کا مطالعہ کیا ہے اور وہاں کے سماج میں پوری طرح رچ بس گیا ہے۔ اپنے ملک لوٹنے پر والدین اس کی شادی کے لیے کہتے ہیں مگر وہ بغیر ملے، دیکھے کسی ایسی لڑکی سے شادی کے لیے راضی نہیں ہوتا جسے وہ جانتا تک نہیں۔ گھر والوں کے اصرار پر وہ شادی کے لیے راضی ہو جاتا ہے۔ شادی ہونے کے بعد وہ ایک اجنبی لڑکی جو اب اس کی بیوی ہے کے پاس جانے سے کتراتا ہے۔ ایک رات تنہا لیٹے ہوئے اسے کسی ناول کے کچھ حصے یاد آتے ہیں اور وہ اپنی بیوی کی چاہت میں تڑپ اٹھتا ہے اور اس کے پاس چلا جاتا۔۔۔مزید پڑھیں

انتظار کا دوسرا رخ

(چھوٹی بچی کے ہنسنے کی آواز)

بلقیس: کھڑی ٹھی ٹھی ہنس رہی ہے تجھ سے جو کام کہا ہے وہ کر۔ یاد رکھ وہ کان اینٹھوں گی کہ بِلبلا اُٹھے گی(لہجہ بدل کر)۔۔۔۔۔۔جا میری بہن! بڑے طا ق سے میری چوڑیوں والا بکس اُٹھالا پر ایسے کہ امی جان کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ جا! میری اچھی بہن جو ہوئی۔

ثُریّا: (ہنستے ہوئے)۔۔۔۔۔۔اور جو میں نہ لاؤں تو …….

ْْبلقیس: مجھے ہے ہے کر کے پیٹے۔ میرا مُردہ دیکھے۔۔۔۔۔۔لے اب سُن لیا! تجھے تو بڑی بہن ۔۔۔مزید پڑھیں

ساحل پر لیٹی ہوئی عورت

شکاری مرگول آنکھوں سے اندھا تھا۔

اس کے اندھا ہونے کے پیچھے بھی ایک پراسرار داستان تھی۔ ہوا یو ں کہ ابھی یہ نگر آباد ہی ہو رہا تھا جس میں وہ رہتا ہے کہ وہ ایک تیز رفتار ہرن کے پیچھے بھاگتا ہوا یہاں تک پہنچا۔ وہ ہانپ رہا تھا اور ہرن یہاں پہنچ کر پہاڑی کے نیچے اوجھل ہوگیا۔۔۔ وہ سرحد تھی اور اس سے آگے جانے کاقانوناً حکم نہ تھا۔۔۔ اور قانون صرف انسان کے لیے ہے جو مہذب ہے، پڑھا لکھا ہے، اپنا اور سماج کا اچھا برا سمجھ سکتا ہے۔ اس چوکڑیاں بھرتے ہرن کے لیے نہیں جو ایک ملک سے دوسرے ملک میں بغیر ضروری کاغذات کے داخل۔۔۔مزید پڑھیں

نیلی رگیں

افراد

سعید: (شاعر۔ آواز میں جذبات کا ہجوم۔خوش گفتار)

کرشن: (سعید کا دوست)

ثُریّا: ایک اجنبی عورت۔ متلون مزاج)

سعید: (ذیل کے اشعار پڑھتا ہے)

مرمریں پیکر یہ نیلم کے خطوط

سرد ہے دنیائے خواب

میرے برفانی تصوّر میں مگر

بہہ رہا ہے نیلگوں سیماب سا

جس طر۔۔۔مزید پڑھیں

مکرجی بابو کی ڈائری

کئی روز کی مسلسل مصروفیتوں کے بعد ورما ایشیاٹک کمپنی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹرمکرجی بابو کوفراغت کی ایک شام نصیب ہوئی تو انہوں نےسوچاکہ اسے یونہی نہیں گنوانا چاہیے۔ لندن کی ایک تنگ اور پرپیچ گلی میں جو پکاڈلی سرکس سے زیادہ دور نہ تھی، ایک پرانے مکان کی چوتھی منزل پر ان کا ایک چھوٹا سا دفتر تھا۔ دفتر کیا تھا ایک مختصر سا بیڈ سٹنگ روم تھا۔ جس کو دوتین چھوٹی چھوٹی میزوں، کرسیوں، ٹائپ رائٹر، میز پر رکھے ہوئے ٹیلیفون اور فائلوں کی کثرت نے، جنہیں کمرے کے گوشوں میں تلے اوپر بڑی ترتیب سے چنا گیا تھا، اچھاخاصا کاروباری۔۔۔مزید پڑھیں

قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیا

قدموں کے نشاں سب ماند پڑے جو سنگ میل تھا ٹوٹ گیا

کچھ منزل مجھ سے چھوٹ گئی کچھ منزل سے میں چھوٹ گیا

چہرے کی معصومی تھی یا جلووں کا رعب تھا ہیبت تھی

بیٹھے تھے روپ سنگار کو وہ اور آئنہ گر کر ٹوٹ گی۔۔۔مزید پڑھیں

شاہجہان کی موت

اپنے فتح مند بیٹے محی الدین اورنگزیب کی قیادت میں جب شہاب الدین شاہجہاں نے آگرے کے دروازے کھول دیئے تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے اپنی عُمر کا بقایا حصّہ قلعے میں ایک قیدی کی حیثیت میں گزارنا پڑا۔ شاہجہان کے لیئے جو کچھ عرصہ پہلے ہندوستان کا شہنشاہ تھا اور شہنشاہیت کے علاوہ جس کے پہلو میں ایک عظیم الشان آرٹسٹ کا دل تھا قید و بند کی صعوبتیں بے صبر آزما تھیں۔ تاج محل جیسی شاندار عمارت کا نقشہ فکر کرنے والے نے قلعے کی چار دیواری میں اپنے آخری دن کن مشکلوں سے بسر کیئے۔ یہ ایک بہت المناک داستان۔۔۔مزید پڑھیں