سیڑھیاں

یہ ایک ناسٹلجیائی کہانی ہے۔ گزرے ہوئے دنوں کی یادیں کرداروں کے لاشعور میں محفوظ ہیں جو خواب کی صورت میں انھیں نظر آتی ہیں۔ وہ خوابوں کی مختلف تعبیریں کرتے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ ماضی کا ورثہ ہیں جن کی پرچھائیاں ان کا پیچھا کر رہی ہیں۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان خوابوں نے انھیں اپنی بازیافت کے عمل پر مجبور کر دیا ہے۔‘‘

بشیر بھائی ڈیڑھ دو منٹ تک بالکل چپ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ اختر کو بے کلی بلکہ فکر سی ہونے لگی، انھوں نے آہستہ سے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور ذرا حرکت کی تو اختر کی جان میں جان آئی مگر ساتھ میں ہی یہ دھڑکا کہ نہ جانے ان کی۔۔۔مزید پڑھیں

بابر کی موت

اسٹیج پر ہر روز ڈرامے کھیلے جاتے ہیں ، مگر ان میں سے کتنے معنی کے لحاظ سے مکمل ہوتے ہیں ۔۔۔ دراصل خامکاری اسٹیج کا قانون ہے۔اگر کسی ڈرامے کا پہلا ایکٹ شاندار ہے تو اس کے آخری ایکٹ پہلے ایکٹ کی جان کے قدموں میں دم توڑتے نظر آئیں گے۔ اگر کسی ڈرامے کا انجام اچھا ہے تو آغاز بُرا ہے۔

کلائمیکس ہے تو سسپنس نہیں ہوگا۔ اگر سسپنس ہے تو کلائمیکس نظر نہیں آئیگا ۔۔۔ ایسے کردار نظر آئیں گے جو بڑے بڑے مراحل آسانی کے ساتھ طے کریں گے ۔ مگر چھوٹی چھوٹی مشکلات کا مقابلہ کرتے وقت ان کی پیشانی پسینے سے بھر جائے ۔۔۔مزید پڑھیں

چاول

گزشتہ جولائی کا ذکر ہے کہ ا یک عجیب شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ حضرت ایک کمپنی کے ٹریولنگ ایجنٹ ہیں۔ اپنی تجارت کے سلسلے میں یہاں آئے۔ ایک اور صاحب ڈاک بنگلے میں ٹھہرے تھے، جن سےملاقات ہوئی اور ان کی وجہ سے آپ سے بھی تعارف حاصل ہوا۔ میں نے دونوں حضرات کو کھانے پر مدعو کیا۔ اول تو انہوں نے انکار کیا لیکن بعد میں راضی ہو گئے۔ مگر کہنے لگے ’’ایک شرط پر۔‘‘ میں نے پوچھا تو معلوم ہوا کہ چاول میز پر نہ آئیں۔ میں نے وجہ پوچھی تو معلوم ہوا کہ قسم ہے۔ زیادہ میں پوچھنا بھی۔۔۔مزید پڑھیں

تین موٹی عورتیں

(اسٹیج دو حصوں میں منقسم ہے یوں ایک بڑا اور ایک چھوٹا کمرہ بن گیا ہے ان کے درمیان چوبی تختے کی پارٹیشن ہے جس میں ایک سپرنگوں والا دروازہ ہے۔ بڑے کمرے میں صوفہ سیٹ رکھا ہے۔ چار پانچ آرام کرسیاں بھی پڑی ہیں۔ درمیان میں ایک وزنی تپائی ہے جس پر بہت بڑا پھولدان دھرا ہے۔ اس تپائی کے نچلے تختے پر چند اخبار پڑے ہیں۔ دوسرے کمرے میں ڈاکٹر ایک مریض عورت کی نبض دیکھنے میں مشغول ہے۔ کمرہ بہت نفیس ہے وزن کرنے کی مشین کے علاوہ اور بہت سے آلات اس میں چمک رہے ہیں۔ میز موٹی موٹی کتابوں سے لدی ہے۔ ذیل کا مکالمہ بڑے کمرے میں دو عورتوں کے درمیان پردہ اٹھتے ہی شروع ہوتا ہے۔

مسزملی موریہ: میں آپ کا نام پوچھ سکتی ہوں۔۔۔مزید پڑھیں

اپنی آگ کی طرف

میں نے اسے آگ کی روشنی میں پہچانا۔ قریب گیا۔ اسے ٹہوکا۔ اس نے مجھے دیکھا پھر جواب دیے بغیرے ٹکٹکی باندھ کر جلتی ہوئی بلڈنگ کو دیکھنے لگا۔ میں بھی چپ کھڑا دیکھتا رہا۔ مگر شعلوں کی تپش یہاں تک آرہی تھی۔ میں نے اسے گھسیٹا، کہا کہ چلو۔ اس نے مجھے بے تعلقی سے دیکھا۔ پوچھا، ’’کہاں؟‘‘ میں چپ ہوگیا جیسے اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہوسکتا تھا۔

پھر اس نے تیسری منزل والے کونے کے کمرے کی طرف اشارہ کیا جو دھوئیں سے اٹا ہوا تھا اور جس کی دیوار سے پلستر کے جلتے ہوئے پتڑ کے پتڑ گر رہے تھے۔ ’’میں اس کمرے میں رہتا ہوں۔‘‘

’’مجھے معلوم ہے،‘‘ میں نے جواب۔۔۔مزید پڑھیں

کفن میں ایک سو ایک سال

(ایک)

ناگ دیو مر گیا۔۔۔ اب وہ لوٹ کر نہیں آئے گا۔

کل رات میں نے اس کی ارتھی دیکھی۔ سفید کفن میں رسیوں سے کس کر بندھا ہوا اس کا جسم ارتھی اٹھانے والوں کے کندھوں پر تیرتا ہوا نکل رہا تھا۔

میں ارتھی کے ساتھ نہ جا سکا۔

دماغ نے میرے جسم سے الگ ہو کر کہا۔ ’’جاؤ، ناگ دیوتا کو چِتا پر جلتے دیکھ آؤ۔‘‘

میں ارتھی کے ساتھ جانے والوں کی ۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ چوری کریں!

کشور: (ایکا ایکی اپنی بیوی سے )آؤ چوری کریں!

لاجونتی: کیا کہا؟

کشور: یہ کہا‘ آؤ چوری کریں!

لاجونتی: میں سمجھی۔۔۔اب آپ چوری اور سینہ زوری پر اُتر آئے ہیں یعنی مجھے بتا کر میری چیزیں اُڑانا چاہتے ہیں۔ ہے نا یہی بات؟

کشور: بھئی کیا سمجھی ہو۔۔۔ داد دیتا ہوں تمہاری سُوجھ بُوجھ کی۔۔۔ میں فقط چوری کرنے کو کہہ رہا تھا‘ سینہ زوری نہیں۔ یہ سینہ زوری کا اضافہ تم نے اپنی طرف سے کیا ہے۔

لاجونتی: آؤ چوری کریں کا مطلب یہ ہوا کہ آپ خود بھی۔۔۔مزید پڑھیں

انصاف

دروازہ کھلتا ہے۔ چوبدار تین مرتبہ فرش پر اپنی لاٹھی سے آواز پیدا کرتا ہے اور اعلان کرتا ہے۔

چوبدار: باادب: با ملاحظہ، ہوشیار، نظریں روبرو، شہنشاہِ عالم لنچ کے لیئے تشریف لارہے ہیں۔

شہنشاہِ عالم کے قدموں کی بھاری چاپ سنائی دیتی ہے۔ اس کے بعد وہ تشریف لاتے ہیں۔

شہنشاہ: ہیڈ بٹلر کہاں ہے؟

چوبدار ایک بہت بڑی ڈِش سے سرپوش اُٹھاتا ہے۔ہیڈ بٹلر ۔۔۔مزید پڑھیں