مفت میں کیوں لیں شب غم موت کے آنے کا نام
حوصلے کا پست ہو جانا ہے مر جانے کا نام
اب نہیں لیتے دل ناداں کے سمجھانے کا نام
جیسے آتا ہی نہ ہو ان کو ترس کھانے کا نام
اک زمانہ تھا نگاہ شرمگیں اٹھتی نہ تھی۔۔۔مزید پڑھیں
مفت میں کیوں لیں شب غم موت کے آنے کا نام
حوصلے کا پست ہو جانا ہے مر جانے کا نام
اب نہیں لیتے دل ناداں کے سمجھانے کا نام
جیسے آتا ہی نہ ہو ان کو ترس کھانے کا نام
اک زمانہ تھا نگاہ شرمگیں اٹھتی نہ تھی۔۔۔مزید پڑھیں
ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو
کہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلو
جہاں سے شیوۂ باطل مٹا سکو تو چلو
یہ عزم لے کے مرے ساتھ آ سکو تو چلو
اک انقلاب خیالوں میں لا سکو تو چلو۔۔۔مزید پڑھیں
نواب واجد علی شاہ کا زمانہ تھا۔ لکھنؤ عیش و عشرت کے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ چھوٹے بڑے امیر و غریب سب رنگ رلیاں منارہے تھے۔کہیں نشاط کی محفلیں آراستہ تھیں۔ کوئی افیون کی پینک کے مزے لیتا تھا۔ زندگی کے ہر ایک شعبہ میں رندی ومستی کا زور تھا۔ امور سیاست میں، شعر وسخن میں، طرز معاشرت میں، صنعت وحرفت میں، تجارت وتبادلہ میں سبھی جگہ نفس پرستی کی دہائی تھی۔ اراکین سلطنت مے خوری کے غلام ہورہے تھے۔ شعرا بوسہ وکنار میں مست ،اہل حرفہ کلابتوں اور چکن بنانے میں،اہل سیف تیتر بازی میں، اہل روزگار سرمہ و مسی، عطر و تیل کی۔۔۔مزید پڑھیں
ایک بڑا کمرہ جیسا کہ عام طور پر کامیاب وکیلوں اور بیرسٹروں کا ہوتا ہے اس کے وسط میں ایک بہت بڑا میز ہے جس پربیشمار کاغذات پڑے ہیں۔ کچھ پلندوں کی صورت میں، کچھ بکھرے ہوئے اور کچھ ٹریز میں، سامنے ریک میں بھاری بھر کم کتابیں رکھی ہیں۔ کمرے کی دیواروں کے ساتھ بڑی بڑی الماریاں ہیں جو قانونی کتابوں سے بھری ہوئی ہیں اس میز کے ساتھ گھومنے والی کرسی پر وکیل صاحب بیٹھے ہیں۔ ان کے ایک طرف فرش پر انکا منشی چشمہ چڑھائے ڈیسک کے پاس بیٹھا ہے اور کاغذات دیکھنے میں مصروف ہے۔ وکیل صاحب کے سامنے ان کا موکل بیٹھا ہے جو اپنی گفتگو ختم کر۔۔۔مزید پڑھیں
لوآج صبح ہی سے انہوں نے پھرشورمچانا شروع کردیا۔
’’اے بہن کیاپوچھتی ہو کہ تمہاری ساس کیوں خفا ہورہی ہیں۔ ان کی عادت ہی یہ ہے کہ ہرآئے گئے سب کے سامنے میرا رونا لے کربیٹھ جاتی ہیں۔ ساری دنیا کے عیب مجھ میں ہیں۔ صورت میری بری۔ پھوہڑمیں۔ بچوں کورکھنا میں نہیں جانتی۔ اپنے بچوں سے مجھے دشمنی۔ میاں کی میں بیری۔ غرض کہ کوئی برائی نہیں جو مجھ میں نہیں اورکوئی خوبی نہیں جوان میں نہیں۔ اگر میں کھانا پکاؤں تو زبان پررکھ کرفوراً تھوک دیں گی اور وہ نام رکھیں گی کہ خدا کی پناہ کہ دوسرا بھی نہ کھاسکے۔
شروع شروع میں تومجھے کھانا پکانے میں کافی دلچسپی تھی۔ تم جانتی ہو کہ ۔۔۔مزید پڑھیں
فراخ اور کشادہ کمرہ معمولی فرنیچر سے آراستہ ہے۔ مگر اس آرائش میں حسن نظر نہیں آتا۔ چیزیں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ بچے کے پوتڑے اور کلوٹ سکھانے کی خاطر تین چار کرسیوں کی پشت پر لٹکے نظر آتے ہیں۔۔۔ مرزا اخبار پڑھنے میں بے طرح مشغول ہے۔ سعیدہ پاس ہی صوفے پر آلتی پالتی مارے بیٹھی ہے۔ اور چھوٹی قینچی سے اپنے پیر کے ناخن کاٹ رہی ہے۔۔۔ اس کے سامنے دروازہ ہے جس کی چٹخنی لگی ہوئی ہے۔ دائیں ہاتھ کو ایک اور دروازہ ہے۔ جس سے دوسرے کمرے کی جھلک نظر آتی ہے)
سعیدہ: کچھ تمہیں گھر کی فکر بھی ہے۔۔۔ بس اخبار لے کے بیٹھ جاتے ہو
مرزا: (سعیدہ کا خاوند) ہاں ۔۔۔ تو پھر کیا۔۔۔مزید پڑھیں
بھابی بیاہ کر آئی تھی تو مشکل سے پندرہ برس کی ہوگی۔ بڑھوار بھی تو پوری نہیں ہوئی تھی۔ بھیا کی صورت سے ایسی لرزتی تھی جیسے قصائی سے گائے مگر سال بھر کے اندر ہی وہ تو جیسے منہ بند کلی سے کھل کر پھول بن گئی جسم بھر گیا۔ بال گھمیرے ہوگئے۔ آنکھوں میں ہرنوں جیسی وحشت دور ہوکر غرور اور شرارت بھر گئی۔
بھابی ذرا آزاد قسم کے خاندان سے تھی، کانوینٹ میں تعلیم پائی تھی۔ پچھلے سال اس کی بڑی بہن ایک عیسائی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ اس لیے اس کے ماں باپ نے ڈر کے مارے جلدی سے اسے کانوینٹ سے اٹھایا اور چٹ پٹ شادی کردی۔
بھابی آزاد فضامیں پلی تھی۔ ہرنیوں کی طرح قلانچیں بھرنے کی عادی تھی مگر سسرال اور۔۔۔مزید پڑھیں
گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے
تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے
سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار
یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے
الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑا۔۔۔مزید پڑھیں
دیدی (گہرا سانس لے کر) تواب مجھے اس کمرے میں رہنا ہو گا۔۔۔ کیا کہتے ہیں بمبئی کی زبان میں ایسے کمروں کو۔
پال: کھولی۔
دیدی: کتنا واہیات نام ہے۔۔۔ غربت کی توہین ایسے ہی بدنما ناموں سے تو ہوتی ہے۔۔۔کھولی۔۔۔ یعنی جس نے چاہا کھول لی۔۔۔ مجھے غریبی سے اتنی وحشت نہیں ہوتی جتنی غربت ظاہر کرنے والی چیزوں سے ہوتی ہے۔۔۔
پال: جناب یہ فلسفہ بگھارنے کا وقت نہیں‘ پہلے آپ اپنا سامان ٹھکانے سے رکھ۔۔۔مزید پڑھیں
ازدواجی زندگی کی نوک جھونک پر مبنی کہانی ہے۔ ایک دن شوہر آفس سے واپس آتا ہے تو خلاف توقع اس کی بیوی اس سے بڑی محبت سے پیش آتی ہے۔ شوہر بہت دیر تک ماجرا سمجھ نہیں پاتا، پھر بیوی بتاتی ہے کہ آج اس کی سہیلی آئی تھی اور وہ اپنے خاوند سے بہت خوش ہے۔ اس نے کچھ ایسی باتیں بتائی ہیں جو آپ کو نہیں بتاؤں گی۔ شوہر کہتا ہے کہ تم اپنی سہیلی سے ایسی باتیں روز سنا کرو تاکہ ہماری زندگی خوشگوار رہے۔‘‘
’’میرے اللہ۔۔۔! آپ تو پسینے میں شرابور ہورہے ہیں۔‘‘
’’نہیں۔ کوئی اتنا زیادہ تو پسینہ نہیں آیا۔‘‘
’’ٹھہریے میں تولیہ لے کر آؤں۔۔۔مزید پڑھیں