تحفہ

کالج کا گھنٹہ بجتا ہے۔۔۔۔۔۔ ساتھ ہی کئی قدموں کی آواز

شیلا: جگل۔۔۔۔۔۔جگل!

جگل: او۔۔۔۔۔۔شیلا

شیلا: میں تم سے ایک بات کہنا چاہتی ہوں

جگل: کہو۔

شیلا: میں نے بہت غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ ہمارا آپس میں ملنا ٹھیک نہیں۔ کالج میں یا کالج کے باہر اب ہمیں ایک دوسرے سے نہیں ملنا چاہیئے۔۔۔مزید پڑھیں

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے

نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے

ابھی سے اوس کو کرنوں سے پی رہے ہو تم

تمہیں تو خواب سا آنکھوں کے گھر میں رہنا ہے

ہوا تو آپ کی قسمت میں ہونا لکھا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

پھول کی کوئی قیمت نہیں

لوگ بابا مراد کو اٹھاکر ادھر لے گئے جدھر بھیڑ کم تھی۔ منہ میں پانی ٹپکایا تو آنکھیں کھل گئیں۔ وہ پھول بیچنے والوں کی دکانوں کے قریب سڑک پر چت پڑا تھا۔

ایک پھول فروش نے کہا ’’پانی کا گلاس پی لے۔ لو لگ گئی ہے‘‘۔

مراد پانی کے چند گھونٹ حلق میں اتارکر کمر پر ہاتھ رکھ کر ہمدردی جتانے والے سے بولا ’’میں ہسپتال میں اپنا خون دے کر آ رہا تھا کہ چکر آیا۔۔۔‘‘

’’کوئی بات نہیں اٹھ بیٹھ‘۔۔۔مزید پڑھیں

عید کارڈ

مسعود: (ٹائپ کرتا ہے اور ساتھ ساتھ مضمون پڑھتا جاتا ہے)۔۔۔۔۔۔اس زمانے کی جنگوں کے لیئے سب سے ضروری چیزیں لوہا اور فولاد ہیں(وقفہ)۔۔۔۔۔۔ چونکہ نازیوں کا ارادہ نئی جنگ کا تھا اس لیئے انہوں نے اپنے آپ کو مستغنی کرنے کے لیئے بہت کچھ کیا اور جنگ چھڑنے سے پہلے ان تمام کاموں کا مدعا یہی تھا(وقفہ)۔۔۔۔۔۔جنگی ذخائر کی جمع آوری کے لیئے لوہا اور فولاد کی پیداوار کو بہت ہی زیادہ کیا گیاسنہ انیس سو چوتیس عیسوی میں جرمنی نے8703000 ٹن خام لوہا پیدا کیا اور سنہ انیس سو اڑتیس میں یہ پیداوار322800000 ٹن تک پہنچ گئی۔۔۔مزید پڑھیں

پاک ناموں والا پتھر

بوسیدگی، زنگ آلود قفل اور خستہ حال عمارتوں کی فضا سے معمور اس کہانی میں پاک ناموں والے پتھر کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ راوی کے خاندان میں اس پتھر کی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ ساری جائداد ایک طرف اور پتھر ایک طرف رہتا تب بھی لوگ پتھر کے حصول کو ترجیح دیتے۔ اس پتھر کے سلسلہ میں اس خاندان میں خوں ریزیاں بھی ہوئیں لیکن جب راوی کو وہ پتھر ملتا ہے تو اسے اس میں کوئی خاص بات نظر نہیں آتی، پتھر معمولی ہوتا ہے اور اس پر پاک نام نقش ہوتے ہیں بس۔ پھر بھی وہ اسے گلے میں پہن لیتا ہے اور پھر ایک دن اتار کر ان متبرک چیزوں کے ساتھ رکھ دیتا ہے جو اس کے ساتھ دفن کی۔۔۔مزید پڑھیں

آنندی

سماج میں جس چیز کی مانگ ہوتی ہے وہی بکتی ہے۔ بلدیہ کے شریف لوگ شہر کو برائیوں اور بدنامیوں سے بچانے کے لیےشہر سے بازار حسن کو ہٹانے کی مہم چلاتے ہیں۔ وہ اس مہم میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں اور اس بازار کو شہر سے چھ میل دور ایک ویران جگہ پر آباد کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اب بازارو عورتوں کے وہاں آباد ہو جانے سے وہ ویرانہ گلزار ہو جاتا ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ ویرانہ پہلے گاوں، پھر قصبہ اور پھر شہر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہی شہر آگے چل کر آنندی کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘

بلدیہ کا اجلاس زوروں پر تھا۔ ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور خلافِ معمول ایک ممبر بھی ۔۔۔مزید پڑھیں

دختر رز سے ملاقات ہوئی ہے کہ نہیں

دختر رز سے ملاقات ہوئی ہے کہ نہیں

سچ بتا دے ارے زاہد کبھی پی ہے کہ نہیں

مست ساقی کی نگاہوں سے ہیں پینے والے

اس کی پروا نہیں شیشے کی پری ہے کہ نہیں

مست سب اٹھ گئے پی کر ترے میخانے سے

ارے ساقی مرے حصے کی بچی ہے کہ نہیں۔۔۔مزید پڑھیں

تین تحفے

(فیچر)

راگ اور محبت دل پر ایک جیسا اثر کرتے ہیں۔ دونوں کے سرُ ایک جیسے نرم ونازک اور تیزو تُند ہیں‘ دونوں میں تلخی وشیرینی پہلو بہ پہلو کروٹیں لیتی ہے دونوں رُوح کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ بلکہ یوں کہیے کہ موسیقی محبت سے زیادہ طاقتور ہے……..وادی نیل میں پہلی بار قدم رکھنے والی رقاصہ نبیلا راگ اور محبت کے فن کی خفیف سے خفیف ہر لرزش سے واقف تھی اور وہ محسوس کرتی تھی کہ مصر کے سب سے بڑے معبد کی مشہور مغنیہ پلنیگو بھی اُس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔

سات برس تک وہ وادی نیل کی رنگین فضاؤں میں اپنی زندگی کا کوئی نیا سپنا دیکھے بغیر ۔۔۔مزید پڑھیں

اندھی گلی

اندھی گلی

دونوں نے یکبارگی پلٹ کر دیکھا۔ کہرہ بہت تھا، کچھ نظر نہیں آیا۔ پھر انھوں نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی مگر کچھ سنائی نہیں دیا۔ ’’یار کوئی نہیں ہے،‘‘ ایک نے دوسرے سے کہا اور پھر چل پڑے۔ مگر ابھی چار قدم چلے تھے کہ پھر ٹھٹھک گئے۔ ’’یار کوئی ہے،‘‘ قریب ہوتی ہوئی آہٹ کو انہوں نے سنا۔ پھر ایک ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے۔ سڑک سے اتر کر کچے میں آئے جہاں تھوڑا نشیب تھا۔ اکا دکا جھاڑی اور ایک گھنا درخت۔ دونوں درخت کے پیچھے دبک کر بیٹھ گئے۔

کان اس آہٹ پر لگے ہوئے تھے جو قریب ہوتی جارہی تھی اور۔۔۔مزید پڑھیں