نمک کا داروغہ

جب نمک کا محکمہ قائم ہوا اور ایک خدا داد نعمت سے فائدہ اٹھانے کی عام ممانعت کردی گئی تو لوگ دروازہ صدر بند پا کر روزن اور شگاف کی فکر کرنے لگے۔

چاروں طرف خیانت، غبن اور تحریص کا بازار گرم تھا۔ پٹوار گری کا معزز اور پر منفعت عہدہ چھوڑ چھوڑ کر لوگ صیغہ نمک کی بر قندازی کرتے تھے۔ اور اس محکمہ کا داروغہ تو وکیلوں کے لیے بھی رشک کا باعث تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب انگریزی تعلیم اور عیسائیت مترادف الفاظ تھے۔ فارسی کی تعلیم سند افتخار تھی لوگ حسن اور عشق کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر اعلیٰ ترین مدارج زندگی کے قابل ہو جاتے تھے۔ منشی بنسی دھرنے بھی زلیخا کی داستان ختم کی اور مجنوں اور فرہاد کے قصہ غم کو دریافت امریکہ یا جنگ نیل سے عظیم تر واقعہ خیال کرتے ہوئے روز گار کی۔۔۔مزید پڑھیں

آؤریڈیوسُنیں!

لاجونتی: (اشتیاق بھرے لہجے میں اپنے پتی سے)آؤریڈیو سنیں۔

کشور: (خاموش رہتا ہے)۔

لاجونتی: اجی اوسنتے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔۔توبہ‘ تمہارا دماغ کیا ہے ریڈیو کا ڈبہ ہے جوہر دوسرے تیسرے روز خراب ہو جاتا ہے۔ کچھ میں بھی تو سنوں جناب کا مزاج اس وقت کس بات پر بگڑ گیا‘ جومنہ سے ایک دوبول نکالنے میں بھی دشوار ہو رہے ہیں۔

کشور: دفتر سے تھکا ماندہ آیا ہوں۔۔۔

لاجونتی: (بات کاٹ کر) اسی لیئے تو کہتی ہوں آؤ ریڈیوسنیں۔۔۔ اختری کی غزل سنیں۔۔۔مزید پڑھیں

رنگ کا سایہ

ہم اسی جگہ جا رہے تھے جہاں سے ہمیں راتوں رات افرا تفری کے عالم میں بھاگنا پڑا تھا۔ امّی کا تو صرف جسم ساتھ آیا تھا روح شاید وہیں بھٹک رہی تھی۔ پھر جسم بھی اس قابل نہیں رہا کہ ان کے وجود کا بار اٹھا سکتا۔ آج اس جسم کو اسی زمین کے سپرد کرنا تھا۔

ویان میں امّی کا بےجان جسم رکھا تھا۔ میں اور بہن پچھلے حصے میں بیٹھے تھے۔ بہنوائی ڈرائیور کے ساتھ والی سیٹ پر تھے۔ بہن نے غم سے نڈھال ہو کر آنکھیں موند لیں۔ میری آنکھوں میں نیند کا کوسوں پتہ نہ تھا۔ کیا امی کی موت کا ذمہ دار میں ہوں؟ ان کا اکلوتا بیٹا، جسے وہ جان سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔ دیوانہ وار چاہتی تھیں۔ نہیں!! امی کو گھر چھوڑنے کا غم تھا۔ لیکن گھر تو چھوٹا میری۔۔۔مزید پڑھیں

بارش

سفر کی ابتداء اور انتہا ہمیشہ نامعلوم ساعتوں کی گود میں اٹھکھیلیاں کرتی ہے اور ہم ذہانت کی ارفع سطح پر خود فریبی کے گیت گاتے ہیں۔ پکے راگ میں گیت کے بول فضا مرتعش ہو رہے تھے اور باہر دھوپ نکھری ہوئی تھی۔ آسمان شفاف تھا۔ دور دور تک بادلوں کا نام و نشان نہ تھا، موسم سرما کا زمانہ تھا اس لیے آسمان پر بادل کم ہی نظر آتے، البتہ صبح صبح ہر طرف کہرے کی دھند ضرور چھائی رہتی۔ جیسے جیسے سورج کی روشنی میں تمازت آتی جاتی۔۔۔ دھند چھٹتی جاتی اور۔۔۔ جوں جوں سورج۔۔۔ دور افق میں مغرب کی جانب اپنا سفر مکمل کرتا دھند کی چادر ایک ہلکی پرت کی صورت پھیلتی جاتی۔

یعنی زمین کی گردشوں کی صورت یہ سب، یا سب ۔۔۔مزید پڑھیں

جیب کترا

ذیل کا مکالمہ شروع ہو تو اس کے عقب میں بازار کا صوتی منظر پیش کیا جائے۔ گاڑیوں۔ رکشاؤں۔ موٹروں اور راہ گزروں کا شور پیدا کیا جائے۔ ایسا معلوم ہو کہ بڑی بھیڑ بھاڑ ہے۔ (کھوے سے کھوا چھل رہا ہے)

ایک آدمی: ارے بھئی اوپر کیوں چڑھے آتے ہو۔ سجھائی نہیں دیتا۔

دوسرا: اماں کچھ ہوش کی دوا کرو۔۔۔۔۔۔

تیسرا: ارے بھائی کیوں دھکے دیتے ہو۔۔۔۔۔۔کچھ اس عورت کا تو لحاظ کرو۔بے چاری پس گئی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

حمام میں

تنہا زندگی گزارتی فرخ بھابھی کی کہانی ہے، جن کے یہاں ہر روز ان کے دوستوں کی محفل جمتی ہے۔ وہ اس محفل کی رونق ہیں اور ان کے دوست ان کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اس محفل میں ایک دن ایک اجنبی بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کے بعد وہ دو تین بار اور آتا ہے اور پھر آنا بند کر دیتا ہے۔ اس کے نہ آنے سے باقی دوست خوش ہوتے، مگر تبھی انھیں احساس ہوتا ہے کہ اب فرخ بھابی گھر سے غائب رہنے لگی ہیں۔‘‘

(۱)

نام تو تھا اس کا فرخندہ بیگم مگر سب لوگ فرخ بھابی فرخ بھابی کہا کرتے تھے۔ یہ ایک طرح کی۔۔۔مزید پڑھیں

ممتحن کا پان

ریل کے سفر میں اگر کوئی ہم مذاق مل جائے تو تمام راہ مزے سے کٹ جاتی ہے۔ گو بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ انہیں کوئی بھی مل جائے تو وہ اس کے ساتھ وقت گزاری کرلیتے ہیں، مگر جناب میں غیرجنس سے بہت گھبراتا ہوں اور خصوصاً جب وہ پان کھاتا ہو۔ اب تو نہیں لیکن پہلے میرا یہ حال تھا کہ پان کھانے والے مسافر سے لڑائی تک لڑنے کو تیار ہو جاتا تھا۔ اگر جیت گیا تو خیر ورنہ شکست کی صورت میں خود وہاں سے ہٹ جاتا تھا۔

میں ایک بڑے ضروری کام سے دہلی سے آگرہ جا رہا تھا۔ خوش قسمتی سے ایک بہت دلچسپ ساتھی غازی آباد سے مل گئے۔ یہ ایک ہندو بیرسٹر کے لڑکے تھے اور ایم ایس سی میں پڑھتے تھے۔ خورجہ کے اسٹیشن پر ایک صاحب اور وارد ہوئے۔ یہ بھی ہم عمر ۔۔۔مزید پڑھیں

مونا لسا

اس کہانی میں واقعات کو کم، ذہنی کیفیت اور دلی احساسات کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ان احساسات میں ملن ہے، محبت اور جدائی ہے۔ وقت کی مناسبت سے کئی کردار ابھرتے اور ماند پڑ جاتے ہیں۔ ہر کسی کی اپنی کہانی ہے، مگر جو کہانی کہتا ہے، اس کی خود کی کہانی کہیں دھندلی پڑ جاتی ہے۔‘‘

پریوں کی سرزمین کو ایک راستہ جاتا ہے شاہ بلوط اور صنوبر کے جنگلوں میں سے گزرتا ہوا ۔۔۔مزید پڑھیں