آؤ تا ش کھیلیں

لاجونتی: (اپنے پتی سے : اشتیاق بھرے لہجے میں آؤتاش کھیلیں۔

کشور: چونک کر کیا کہا؟

لاجونتی: کیا بہرے ہو گئے ہو؟۔۔۔ کل بھی پہربھر چلّاتی رہی اور تم نے خاک نہ سنا ۔۔۔ یہ سگرٹوں کی خشکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟۔۔۔ کانوں میں بادام روغن کیوں نہیں ڈلواتے؟

کشور: نسخے بعد میں تجویز کرنا‘ پہلے یہ بتاؤ تم کہہ کیا رہی تھیں۔

لاجونتی: کہہ رہی تھی ‘ آؤ تاش کھیلیں۔۔۔مزید پڑھیں

بازگوئی

صدیوں پرانے اس تاریخی شہر کے عین وسط میں عالمگیر شہرت کے چوراہے پر، بائیں طرف مضبوط اور کھردرے پتھروں کی وہ مستطیل عمارت زمانے سے کھڑی تھی جسے ایک دنیا عجائب گھر کے نام سے جانتی تھی۔۔۔ عجائب گھر کے بڑے ہال میں لمبے لمبے شوکیس پڑے تھے جن کے اندر ہزاروں برس پرانی تحریروں کے مسودے رکھے تھے۔

میں ان نسخوں کو دیکھتا ہوا دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا اور میری حیرانی بھی بتدریح بڑھ رہی تھی۔ عجیب و غریب رسم ۔۔۔مزید پڑھیں

بادل نہیں آتے

اور بادل نہیں آتے، نگوڑے بادل نہیں آتے۔ گرمی اتنی تڑاخے کی پڑ رہی ہے کہ معاذ اللہ! تڑپتی ہوئی مچھلی کی طرح بھنے جاتے ہیں، تمازت آفتاب اور دھوپ کی تیزیت! بھاڑ بھی ایسا کیا گرم ہوگا، پوری دوزخ ہے۔ کبھی دیکھی بھی ہے؟ نہیں دیکھی تو اب مزا چکھ لو۔ وہ موئی چلچلاتی دھوپ ہے کہ اپنے ہوشوں میں تو دیکھی نہیں۔ چیل انڈا چھوڑتی ہے، ہرن تو کالے ہوگئے ہوں گے۔ بھئی کوئی پنکھے ہی۔۔۔مزید پڑھیں

بیمار

افراد

کمار : (بیمار)

گڈوانی :

رشید :

بیدی : کمار کے دوست

آتما سنگھ :

مادھو : کمار کا نوکر

(کھانسنے کی آواز سنائی دیتی ہے)

کمار: (کھانستا ہے) مادھو۔۔۔مادھو۔۔۔(کھانستا ہے)۔۔۔مادھو۔۔۔افراد

کمار : (بیمار)

گڈوانی :

رشید :

بیدی : کمار کے دوست

آتما سنگھ :

مادھو : کمار کا نوکر

(کھانسنے کی آواز سنائی دیتی ہے)

کمار: (کھانستا ہے) مادھو۔۔۔مادھو۔۔۔(کھانستا ہے)۔۔۔مادھو۔۔۔مزید پڑھیں

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

مجھے تنہائی کے غم سے بچا لیتے تو اچھا تھا

سفر میں ہم سفر اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا

شکست فاش کا غم زندگی جینے سے بد تر ہے

جھکانے کی بجائے سر کٹا لیتے تو اچھا تھا

کبھی اشکوں پہ اتنا ضبط بھی اچھا نہیں ہوتا

یہ چشمہ پھر ضرر دے گا بہا لیتے تو اچھا تھا۔۔۔مزید پڑھیں

بن بست

افسانہ میں دو زمانے اور دو الگ طرح کے رویوں کا تصادم نظر آتا ہے۔ افسانہ کا مرکزی کردار اپنے بے فکری کے زمانے کا ذکر کرتا ہے جب شہر کا ماحول پر سکون تھا دن نکلنے سے لے کر شام ڈھلنے تک وہ شہر میں گھومتا پھرتا تھا لیکن ایک زمانہ ایسا آیا کہ خوف کے سایے منڈلانے لگے فسادات ہونے لگے۔ ایک دن وہ بلوائیوں سے جان بچا کر بھاگتا ہوا ایک تنگ گلی کے تنگ مکان میں داخل ہوتا ہے تو اسے وہ مکان پراسرار اور اس میں موجود عورت خوف زدہ معلوم ہوتی ہے اس کے باوجود اس کے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے لیکن یہ اس کے خوف کی پروا کیے بغیر دروازہ کھول کر واپس لوٹ آتا ہے۔‘‘

اس بار وطن آنے کے بعد میں نے شہر میں دن دن بھر گھومنا شروع کیا اس لیے کہ میرے پاس کچھ کرنے ۔۔۔مزید پڑھیں

آخری موم بتی

ہماری پھوپھی جان کو تو بڑھاپے نے ایسے آلیا جیسے قسمت کے ماروں کو بیٹھے بٹھائے مرض آدبوچتا ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ بعض لوگ اچانک کیسے بوڑھے ہوجاتے ہیں۔ آندھی دھاندھی جوانی آتی ہے، بڑھاپا تو دھیرے دھیرے سنبھل کر آیا کرتا ہے۔ لیکن پھوپھی جان بوڑھی نہیں ہوئیں بڑھاپے نے انہیں آناً فاناً آن دبوچا۔ جوانی، جوانی سے بڑھاپا۔ ہم جس وقت وہاں سے چلے ہیں تو اس وقت وہ اچھی خاصی تھیں، گوری چٹی، کالے کالے چمکیلے گھنے بال، گٹھا ہوا دوہرا بدن، بھری بھری کلائیوں میں شیشے کی چوریاں، پنڈلیوں میں۔۔۔مزید پڑھیں

چوڑیاں

افراد

حامدکالج کا ایک جواں طالب علم ،طبیعت شاعرانہ

سعیدحامد کا دوست

ڈپٹی صاحب حامد کے والد

ثُریّاحامد کی بہن

حمیدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماں حامد کی ماں

دکان دار۔حمیدہ کی ایک سہیلی۔تاروالا اور ایک ملازم۔۔۔مزید پڑھیں