سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا
جب بھی آئینہ دیکھا خود کو دوسرا پایا
ہونٹ پر دیا رکھنا دل جلوں کی شوخی ہے
ورنہ اس اندھیرے میں کون مسکرا پایا
بول تھے دوانوں کے جن سے ہوش والوں نے۔۔۔،مزید پڑھیں
سوچ کر بھی کیا جانا جان کر بھی کیا پایا
جب بھی آئینہ دیکھا خود کو دوسرا پایا
ہونٹ پر دیا رکھنا دل جلوں کی شوخی ہے
ورنہ اس اندھیرے میں کون مسکرا پایا
بول تھے دوانوں کے جن سے ہوش والوں نے۔۔۔،مزید پڑھیں
پانچ چھ سال انگلستان میں رہ کر میں واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ کچھ دن تک تو نتیجے کا انتظار رہا اور خوب ملک کی سیر کی۔ اب ارادہ ہو رہا تھا کہ کیوں نہ یورپ کے مشہور ممالک کی پہلی اور آخری مرتبہ سیر کی جائے۔ والد صاحب روپیہ جس تنگ دلی سے بھیجتے تھے، اس کا اندازہ اس سے بخوبی ہو سکتا ہے کہ ہم پانچ بھائی ہیں اور آخر سب کو ہی ولایت دیکھنا تھا۔ میں نے چلنے سے پہلے لندن سے والد صاحب کو تار دیا کہ بس اب سو پونڈ اور بھیج دیجیے پھر نہ مانگیں گے۔ اس کا جواب خفگی کا تار آیا کہ نہیں بھیجیں گے۔ ادھر سے میں نے جواب دیا کہ خاکسار بغیر سو پونڈ کے آ ہی نہیں سکتا۔ مجبور ہے۔ حساب گھر آ کر دےگا۔ مجبوراً سو پونڈ ہمیں بھیجے گئے۔۔۔مزید پڑھیں
نوح کی کشتی میرے گھر کی دیوار کے ساتھ آلگی ہے۔ اور اب دھیرے دھیرے بڑھتی ہوئی صدر دروازے تک آرہی ہے۔۔۔ اس میں وہ سب کچھ موجود ہے جو نوح لے کر چلے تھے۔۔۔ ایک ایک کرکے تمام چیزیں اتارلی جائیں گی اور اس کے بدلے میں وہ سب کچھ لاد دیا جائے گا جو ہم نے دہلیز پر اکٹھا کر رکھا ہے۔۔۔ سب کچھ طے ہوگیا ہے۔ بس اب یہ پوچھنا باقی ہے کہ نوح پھر کب آئیں گے؟
سبھی کچھ ہے سوائے نوح کے۔۔۔ اور نوح کا انتظار ہو رہاہے۔ پھر کشتی روانہ ہوجائے گی۔۔۔ کالاسمندر ویسے ہی میرے گھر کی دیواروں کے ساتھ سر ٹکرانے لگے گا اور اس کی زخمی سانسیں ویسے ہی سنائی دینے لگیں گی۔۔۔ کالا سمندر اداس ہے اور اسی طرح اداسی میں ۔۔۔مزید پڑھیں
یہ کہانی بچپن کی یادوں کے سہارے اپنے گھر اور گھر کے وسیلے سے ایک پورے علاقے اور اس علاقے کے ذریعے سماج کے مختلف اشخاص کی زندگی کی چلتی پھرتی تصویریں پیش کرتی ہے۔ سماج کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے، علاحدہ عقائد اور ایمان رکھنے والے لوگ ہیں جو اپنے مسائل اور مراتب سے بندھے ہوئے ہیں۔‘‘
ہر تیسرے دن، سہ پہر کے وقت ایک بے حد دبلا پتلا بوڑھا، گھسے اور جگہ جگہ سے چمکتے ہوئے سیاہ کوٹ پتلون میں ملبوس، سیاہ گول ٹوپی اوڑھے، پتلی کمانی والی چھوٹے چھوٹے شیشوں کی عینک لگائے، ہاتھ میں چھڑی لیے برساتی میں داخل ہوتا اور چھڑی کو آہستہ آہستہ بجری پر کھٹکھٹاتا۔ فقیرا باہر آکر باجی کو آواز دیتا، ’’بٹیا۔ چلیے۔ سائمن صاحب آگئے۔‘‘ بوڑھا باہر ہی سے باغ کی سڑک کا چکر کاٹ کر پہلو کے برآمدے میں پہنچتا۔ ایک کونے میں جاکر اور جیب میں سے میلا سا رومال نکال کر جھکتا، پھر آہستہ سے پکارتا، ’’ریشم۔۔۔ ریشم۔۔۔ ریشم۔۔۔‘‘ ریشم دوڑتی ہوئی۔۔۔مزید پڑھیں
وہ بادلوں کی تلاش میں دور تک گیا۔ گلی گلی گھومتا ہوا کچی کوئیا پہنچا۔ وہاں سے کچے رستے پر پڑلیا اور کھیت کھیت چلتا چلا گیا۔ مخالف سمت سےایک گھسیارا گھاس کی گٹھری سر پر رکھے چلا آرہا تھا۔ اسے اس نے روکا اور پوچھا کہ ’’ادھر بادل آئے تھے؟‘‘
’’بادل؟‘‘ گھسیارے نے اس تعجب سے کہا جیسے اس سے بہت انوکھا سوال کیا گیا ہو۔
’’ہاں بادل‘‘ اور جب گھسیارے کی حیرت میں کوئی کمی نہ آئی تو وہ اس سے مایوس ہوا اور آگے چل کر اس نے کھیت میں ایک ہل چلاتے ہوئے کسان سے یہی سوال کیا، ’’ادھر بادل آئے تھے؟‘‘
کسان کی سمجھ میں بھی یہ سوال نہ آی۔۔۔مزید پڑھیں
ایک خوبصورت بیڈ روم۔ ساگوان کے دوپلنگ پاس پاس پڑے ہیں ایک پر جمیلہ سو رہی ہے اور خراٹے لے رہی ہے۔ شکیلہ اس کو جگانے کی کوشش میں لگی ہے۔ اس کمرے کی ہر شے خوبصورت ہے۔ تین تصویریں جو لٹک رہی ہیں۔ مغربی آرٹ کے دلفریب نمونے پیش کرتی ہیں کونے میں ڈریسنگ ٹیبل ہے۔ جس پر سنگھار کی بے شمار چیزیں بے ترتیبی سے بکھر رہی ہیں۔ اسٹول پر حسینہ بیٹھی بالوں میں ویوپیدا کرنے کے لیئے کلپ لگا رہی ہے۔ وہ اس کام میں ہمہ تن مشغول ہے۔ ڈریسنگ ٹیبل کے اس طرف دائیں ہاتھ کو ایک دروازہ جس میں سے دوسرے کمرے کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اُدھر بھی ایک پلنگ پڑا ہے۔ دوسری ڈریسنگ ٹیبل کا ایک کونا بھی دکھائی دیتا ہے)
شکیلہ جمیلہ۔۔۔جمیلہ (جمیلہ کو جھنجوڑ کر) اُف ہو‘ بھئی کیا نیند پائی ہے۔ مردوں سے۔۔۔مزید پڑھیں
منشی اندرمنی کی آمدنی کم تھی۔ اور خرچ زیادہ۔ اپنے بچے کے لئے دایہ رکھنے کا بار نہ اٹھاسکتے تھے۔ لیکن ایک تو بچے کی مناسب پرورش کی فکر۔ دوسرے برابر والو ں سے کمتر معلوم ہونے کا خدشہ انہیں دایہ رکھنے پر مجبور کررہا تھا۔ بچہ دایہ کو بہت چاہتا تھا۔ ہر وقت اس کے گلے سے چمٹا ہی رہتا۔ اس لئے وہ اور بھی ضروری معلوم ہوتی تھی۔ لیکن شاید ان سب سے بڑا باعث یہ بھی تھا کہ اخلاقی کمزوری اور مروت کے پیش نظر وہ اسے جواب دینے اور علیحدہ کرنے کی جرأت ہی نہ کرسکتے تھے۔
بڑھیا ان کے ہاں تین برس سے ملازم تھی۔ اس نے ان کے اکلوتے لڑکے کی غورو پرداخت کی تھی۔ اپنا کام انتہائی محنت اور مستعدی سے کرتی تھی۔ علیحدگی کرنے کا کوئی بہانہ ہی نہیں تھا۔ اور یونہی عذر اور حیلے پیش کرنا ان جیسے آدمی کے لئے۔۔۔مزید پڑھیں
واہ شاہ نواز کیا تقریر لکھی ہے تو نے۔۔۔! منسٹر صاحب کی تو ہر طرف واہ واہ ہو رہی ہے کہ اتنا بڑا عاشق رسولؐ، سبحان اللہ!،
صالح نے گلاس اس کی طرف بڑھاتے ہوئے مخمور آواز میں کہا۔
’’بس یار سب گیم ہے گیم، یہ زندگی، یہ لفظ، سب گیم ہے۔
And we all are players…!‘‘
میں تسلیم کرتا ہوں! ’’یہ شام تیری تقریر کے نام، صالح نے گلاس ہوا میں بلند کرتے ہوئے مسکراکے کہا۔ فرید نہیں آیا ابھی تک۔۔۔ آج تو اس۔۔۔
اور دونوں نے کمزور قہقہہ لگایا۔۔۔مزید پڑھیں
محبت کا جنوں طاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے
خدا رکھے یہ ہشیاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے
محبت کی فسوں کاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے
یہ کافر عقل سے عاری ادھر بھی ہے ادھر بھی ہے
محبت میں ہیں گرچہ یاس کے دن ہجر کی راتیں
مگر یہ زندگی پیاری ادھر بھی ادھر بھی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
کہا جو ان سے کہ اب بے قرار ہم بھی ہیں
تو ہنس کے کہتے ہیں بے اختیار ہم بھی ہیں
بہار گلشن ہستی سے ہو کے بیگانہ
اسیر دام غم روزگار ہم بھی ہیں
حباب موجوں پہ ابھرا تو آہ بھر کے کہا
رہین ہستیٔ ناپائیدار ہم بھی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں