ماسٹر نیاز کی دوکان کے پاس ابو نجومی کی دوکان ہے۔ ماسٹر نیاز کے پاس لوگ گھڑی درست کرانے اور ابو نجومی کے پاس اپنی قسمت کا حال پوچھنے آتے ہیں۔ ماسٹر نیاز روشن خیال آدمی ہے، کہتا ہے کہ، اب ستارے انسان کی قسمت کے مختار نہیں رہے، انسان ستاروں کی قسمت کا مختار ہوگا۔ لیکن ابونجومی تردید کرتا ہے۔ آخر میں جب ماسٹر نیاز اپنی گھڑی درست کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو سوچتا ہے کہ واقعی انسان مجبور ہے۔ خود ابو نجومی کا بھی یہی المیہ ہے کہ وہ دوسروں کی قسمت سنوارنے کی تراکیب نکالتا ہے لیکن خود اپنی حالت بہتر کرنے سے قاصر ہے۔‘‘
سامنے والی دوکان سے رحیم جو اس بحث پر مستقل کان لگائے ہوئے تھا موتی چور کے لڈو گوندھتے گوندھتے ۔۔۔مزید پڑھیں









