بگڑی گھڑی

ماسٹر نیاز کی دوکان کے پاس ابو نجومی کی دوکان ہے۔ ماسٹر نیاز کے پاس لوگ گھڑی درست کرانے اور ابو نجومی کے پاس اپنی قسمت کا حال پوچھنے آتے ہیں۔ ماسٹر نیاز روشن خیال آدمی ہے، کہتا ہے کہ، اب ستارے انسان کی قسمت کے مختار نہیں رہے، انسان ستاروں کی قسمت کا مختار ہوگا۔ لیکن ابونجومی تردید کرتا ہے۔ آخر میں جب ماسٹر نیاز اپنی گھڑی درست کرنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو سوچتا ہے کہ واقعی انسان مجبور ہے۔ خود ابو نجومی کا بھی یہی المیہ ہے کہ وہ دوسروں کی قسمت سنوارنے کی تراکیب نکالتا ہے لیکن خود اپنی حالت بہتر کرنے سے قاصر ہے۔‘‘

سامنے والی دوکان سے رحیم جو اس بحث پر مستقل کان لگائے ہوئے تھا موتی چور کے لڈو گوندھتے گوندھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

چھنال

مون سون کی پہلی بارش والے روز اس کا جسم درد سے اینٹھ رہا تھا اور وہ چارپائی پر پڑی رہنا چاہتی تھی۔

صبح سے آسمان پر بادل تھے۔ وہ بےخیالی میں اس چیل کو تک رہی تھی، جو ہوا میں تیرتی معلوم ہوتی۔ کچھ دیر بعد چیل غوطہ لگاکر منظر سے غائب ہو گئی۔ وہ یوں ہی لیٹے آسمان کو تکتی رہی۔ ماہواری شروع ہوئے دوسرا دن تھا۔ باورچی خانے میں برتن پڑے تھے۔ دوپہر کا کھانا پکاتے ہوئے آپانے اسے پکارا تھا۔

اس کی ماں چچا کے گھر گئی ہوئی تھی۔ وہ کہہ گئی تھی کہ شام میں بارش ہوگی، بہتر ہے، وہ کپڑے دھو کر سکھا لیے، مگر مسرت یونہی لیٹی رہی۔ جسم میں تیرتی آلکس کا احساس اطمینان بخش تھا اور مرچوں کے اچار کاذائقہ اب تک زبان پر تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا۔۔۔مزید پڑھیں

کہانیوں سے پرے

تصویر کے عقب میں تحریرشدہ عبارت پڑھنے کے بعد میرے اوسان خطا ہو گئے۔ تاریخ پرنظرپڑی تو حواس معطل ہو گئے، گویا پاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی ہو۔ مجھے کسی بھی حال میں پہنچنا تھا لیکن میں یہ طے نہیں کر پا رہا تھا کہ مجھے جانا چاہئے یا نہیں۔ نئی نئی ملازمت، وسائل کی کمی اور والدہ کی بیماری نے مجھے شدید کشمکش میں مبتلا کر دیا تھا، کسی ایک نتیجے پر پہنچنے کی صورت نظر نہیں آ رہی تھی اور اس غم کو غلط کرنے کی کوشش میں سگریٹ نکالا، گہرا کش لگایا اور دھویں کا دبیز مرغولہ فضا میں تحلیل ہوتا ہوا دیکھ کر کچھ مطمئن ہونے کی سعی ناکام کرنے لگا کہ کل۔۔۔ اور پھر میری پریشانی بڑھنے لگی۔ حیرت وبے یقینی، الجھن اور بےچینی کا سایہ دراز ہوتے ہوتے میرے وجود پر محیط۔۔۔۔مزید پڑھیں

قانون اور انصاف

شام کا وقت ہے۔ انگلش کلب میں آج بہت رونق ہے۔ سڑک پر دوردورتک موٹریں کھڑی ہیں۔ دیواروں پرٹینس کے نیلے پردے کسے ہوئے ہیں جواندر کی کارروائی گندی اور غلیظ ہندوستانی آنکھوں سے چھپائے ہوئے ہیں۔ لیکن پھربھی کسی نہ کسی صاحب یامیم صاحب یا کسی ہندوستانی افسرپرنظر پڑہی جاتی ہے۔ کلب کے سامنے ہاکی کاایک بڑا میدان ہے جس پر اپنے کئی ہندوستانی بھائی جمع ہوگئے ہیں۔ کچھ چل پھررہے ہیں کچھ گھاس پرلیٹے ہیں لیکن منہ سب کے کلب کی طرف ہیں۔ نہ معلوم وہ کیوں جمع ہیں۔ غالباً پردوں اور موٹروں کی چہل پہل نے ان میں ایک خواہش، ایک جستجو پیدا کردی ہے اوروہ تماشہ دیکھنے کے۔۔۔مزید پڑھیں

پانی کی لڑائی اور سندیلے کی طوائفیں

ہم اہلِ ’’زاویہ“ کی طرف سے آپ سب کی خدمت میں سلام پہنچے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب ہم میز کے گرد جمع ہو رہے تھے تو ہم دریاؤں، پانیوں اور بادلوں کی بات کر رہے تھے اور ہمارے وجود کا سارا اندرونی حصہ جو تھا وہ پانی میں بھیگا ہوا تھا اور ہم اپنے اپنے طور پر دریاؤں کے منبعے ذہنی طور پر تلاش کر رہے تھے کیونکہ زیادہ باہر نکلنا تو ہمیں نصیب نہیں ہوتا۔ جغرافیے کی کتابوں یا رسالوں، جریدوں کے ذریعے ہم باہر کی دنیا کے بارے معلوم کرنا چاہتے ہیں اور معلوم کر بھی لیتے ہیں۔

دریاؤں کی باتیں جب ہو رہی تھیں تو میں سوچ رہا تھا کہ دریا بھی عجیب و غریب چیز ہیں اور ان کو کیسے پتہ چل جاتا ہے، نہ ان کا کوئی نروس سسٹم ہے نہ دماغ ہے پھر کس طرح سے دریا کو پتہ چل جاتا ہے کہ سمندر کس طرف ہے اور اسے ایک دن جا کے۔۔۔مزید پڑھیں

لچھمن

ایک کنوارے آدمی کے جذباتی استحصال کی کہانی ہے۔ لچھمن کاٹھ گودام گاؤں کا پچپن برس کا آدمی تھا، جسے گاؤں کی عورتیں اور آدمی شادی کا لالچ دے کر خوب خوب کام لیتے، اس کی بہادری کے تذکرے کرتے اور مختلف ناموں کی لڑکیوں سے اس کے رشتے کی بات جوڑتے۔ ایک دن وہ گوری کی چھت پر کام کرتے کرتے اچانک نیچے گرا اور مر گیا، اس کی چتا کو جب جلایا گیا تو گاؤں کے سب لوگ رو رہے تھے۔‘‘

لچھمن نے کنوئیں میں سے پانی کی سترہویں گاگر نکالی۔ اس دفعہ پانی سے بھری ہوئی گاگر کو اٹھاتے ہوئے اس کے دانتوں سے بے نیاز جبڑے آپس میں جم گئے۔ جسم پر پسینہ چھوٹ گیا۔ اس نے داہنے ہاتھ سے نندو کی بہو،گوری کی گاگر کو تھاما اور چرخی پر اڑی ہوئی ۔۔۔مزید پڑھیں

نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہے

نہ جانے وعدے کا کیوں اعتبار اب بھی ہے

گزر گئی ہے شب اور انتظار اب بھی ہے

کہو تو کہنے کو کہہ دیں کہ شاد ہے دنیا

جو بے قرار تھا وہ بے قرار اب بھی ہے

غرض کے دوست تھے جتنے وہ اٹھ گئے لیکن

تمہارے در پہ یہی جاں نثار اب بھی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ بات تو سنو!

ٹائپ رائٹر پر ٹائپ کرنے کی آواز سنائی دیتی ہے)

کشور: ٹائپ کرتے ہوئے خط کے آخری الفاظ بولتا ہے۔

PLease Note That The Payment of Rs 24/8/- AND. Not Rs: 49/4/= Will Be Made To You in Due Course.

Yours Faithfully,

Copy to A ccountant For Information

کشور: ٹائپ رائٹر کی گرفت سے کاغذ آزاد کرتا ہے اور اطمینان کا سانس لیتا ہے) شکر ہے۔۔۔ یہ پہاڑ سا کام بھی آخر ختم ہو ہی گیا۔

لاجونتی: (کشور کی بیوی) بڑا اپکار کیا ہے مجھ پر (زور سے رومال کے ۔۔۔مزید پڑھیں

طلوع محبت

بھوند و پسینہ میں شرابور لکڑیوں کا ایک گٹھا سر پر لیے آیا اور اسے پٹک کر بنٹی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ گویا زبانِ حال سے پوچھ رہا تھا، ’’کیا ابھی تک تیرا مزاج درست نہیں ہوا؟‘‘

شام ہوگئی تھی پھر بھی لو چلتی تھی اور آسمان پر گردو غبار چھایا ہوا تھا۔ ساری قدرت دق کے مریض کی طرح نیم جان ہورہی تھی۔ بھوندو صبح گھر سے نکلا تھا۔۔۔ دوپہر درخت کے سایہ تلے بسر کی تھی اور سمجھا تھا اس تپسیا سے دیوی جی کا منھ ٹھیک ہوگیا ہوگا۔ لیکن آکر دیکھا تو وہ ابھی تک تنی بیٹھی تھی۔

بھوندو نے سلسلہ کلام شروع کرنے کی غرض سے کہا، ’’لا ایک پانی کا لوٹا۔۔۔مزید پڑھیں