آؤ جھوٹ بولیں!

لاجونتی: (ایکا ایکی‘بڑے اشتیاق سے)آؤ جھوٹ بولیں!

کشور: ارے۔۔۔تمہیں بیٹھے بیٹھے یہ کیا سوجھی؟

لاجونتی: نہیں ‘نہیں۔۔۔آؤ جھوٹ بولیں!

کشور: پھر وہی۔۔۔جھوٹ بولیں؟۔۔۔کس سے جھوٹ بولیں؟ ۔۔۔او رپھر۔۔۔تم نے مجھے۔۔۔

لاجونتی: (بات کاٹ کر) کوئی جھوٹا سمجھا ہے‘ یہی کہنا چاہتے ہیں نا آپ؟

کشو۔۔۔مزید پڑھیں

سرکس

سرکس آنے کی خبر سے قصبے میں ایک چہل پہل سی پیدا ہوگئی تھی۔۔۔ ہوسکتا ہے آپ کو لفظ قصبہ پر اعتراض ہو کہ جہاں ریلوے اسٹیشن ہو جس سے ریل گاڑیاں مختلف اطراف جاتی اور آتی ہیں۔ کپڑے بننے کا کارخانہ ہو، جس میں سینکڑوں مزدور کام کرتے ہیں۔ اسپات بنانے کی بھٹی ہو جس میں دن رات آگ دہکتی ہے اور پھر عدالتیں، پولیس تھانے، کالج، اسکول وغیرہ وغیرہ سب کچھ ہو اسے بھلا میں نے قصبہ، کیوں کہہ دیا۔۔۔؟

بات دراصل یہ ہے کہ ہزاروں برس سے قصبہ میں رہتے رہتے ذہن بالکل قصباتی ہوگیا ہے۔ اور یہ ساری ترقی جو دھیرے دھیرے ہماری زندگی میں بڑی خاموشی سے شامل ہوگئی ہے۔ اس کا احساس تک نہیں ہوتا کہ ایک طرف دو قدم ۔۔۔مزید پڑھیں

کرکٹ میچ

کرکٹ میچ پر آج کل برسات کے موسم میں کوئی مضمون لکھنا ’’بےفصلی‘‘ سی چیز ہے۔ بالخصوص جب کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ کرکٹ کے واہیات میچوں کا حال اور ان کی خبریں چھاپتے چھاپتے اخبار والوں نے پبلک کو پست کر دیا اور پھر اب تو ایم سی سی والے بھی ہندوستان سے ’’آؤٹ‘‘ ہو گئے، ورنہ بہت ممکن ہے کہ یہ مضمون اگر کچھ پہلے شائع ہوتا تو ہمارے ہندوستانی کھلاڑی کرکٹ کا ایک ایسا گر جان جاتے کہ ایک ہی مقابلے میں ایم سی سی کی عقل راہ پر آ جاتی۔

بہت ممکن ہے کہ آپ یہ سوچیں کہ یہ ایک مضمون نگار غریب کیا جانے کرکٹ اور کرکٹ کی۔۔۔مزید پڑھیں

ہرے رنگ کی گڑیا

میں نے اُسے پہلے پہل ایک سرکاری دفتر میں دیکھا۔ وہ سبز رنگ کے لباس میں ملبوس تھی۔ میں اپنے پُرانے دوست مٹُّو سے ملنے کے لیے ٹھیک گیارہ بجے پہنچا۔ وہ وہاں پہلے سے موجود تھی۔ مٹو نے اُس سے میرا تعارف کرایا جب یہ پتہ چلا کہ وہ مصوّری میں دلچسپی رکھتی ہے اور اِس فن میں اُسے بڑی شہرت حاصل ہے تو مجھے بڑی مسرت ہوئی۔ میری درخواست پر اُس نے اپنے ہاؤس بوٹ کا پتہ لکھ دیا۔ بہت دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ مجھے یہ محسوس ہوتے دیر نہ لگی کہ ہماری یہ ملاقات محض رسمی ملاقات نہیں ہے۔ اُس نے زور دے کر۔۔۔مزید پڑھیں

نروان

بدھسوا تنہا بیٹھی سوچ رہی تھی کہ سدھارت بدھا کیسے بن گیا۔ اس کو نروان کیسے مل گیا۔ برہمنیت کا غرور خاک میں ملا نا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ نا ہی بدھی ریاضت میں کوئی آسانی تھی۔ ضبط کے بھی روزے کی انتہا، تو پھر نروان کیسے اور کیونکر مل سکتا ہے۔ اس کی سوچیں ابھی ذاتی جنگ میں مبتلا تھیں کہ ایک گردش کرتی تصویر نے اس کے تن من میں آگ لگا دی۔ اتنی برہنہ تصویر کہ عریانی بھی شرما رہی تھی۔ اسے سمجھ آ گیا۔ نروان کیسے مل سکتا ہے۔ ہر دور کا نروان الگ ہو تا ہے۔ نروان کے تقاضے الگ ہوتے ہیں۔ وقت کی۔۔۔مزید پڑھیں

لمس

یہ افسانہ طبقاتی کشمکش پر مبنی ہے۔ سرجیو رام کے مجسمہ کی نقاب کشائی کے موقع پر زبردست ہجوم ہے۔ سرجیو رام کے مجسمہ کے پتھر پر لکھا ہے، سر جیو رام ۔۔۔ 1862 سے 1931 تک۔۔۔ ایک بڑا سخی اور آدم دوست۔ مجمسہ کی نقاب کشائی ایک ضعیف العمر نواب صاحب کرتے ہیں جن کے بارے میں ہجوم قیاس آرائی کرتا ہے کہ یہ بھی جلد ہی مجسمہ بن جائیں گے۔ ہجوم کو سرجیو رام کے سخی ہونے میں شک ہے اور وہ مختلف قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ نقاب کشائی کے بعد بھی ہجوم وہیں کھڑا رہتا ہے جسے سیوا سمیتی کے کارکن ہٹانے کی کوشش۔۔۔مزید پڑھیں

مہاوٹوں کی ایک رات

مہاوٹوں کی رات ہے اور زبردست بارش ہو رہی ہے۔ ایک غریب کنبہ جس میں تین چھوٹے بچے بھی شامل ہیں ایک چھوٹے سے کمرے میں سمٹے سکڑے لیٹے ہوئے ہیں۔ گھر کی چھت ٹپک رہی ہے، انھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے اور وہ بھوک سے بدحال ہیں۔ بچوں کی ماں اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتی ہے اور سوچتی ہے کہ شاید وہ جنت میں ہے۔ جب بچے باربار اس سے کھانے کے لیے کہتے ہیں تو وہ اس کے بارے میں سوچتی اور کہتی ہے اگر وہ ہوتا تو کھانے کے لیے کچھ نہ کچھ لاتا۔‘‘

گڑ گڑ! گڑڑڑ! الہی خیر! معلوم ہوتا ہے کہ آسمان ٹوٹ پڑے گا۔ کہیں چھت تو ۔۔۔مزید پڑھیں

مجرم کون

ایک ایسے جج کی کہانی ہے، جو کسی اور کی بیوی سے محبت کر بیٹھتا ہے اور اسے اس کے شوہر سے الگ کر دیتا ہے۔ جب اس کی عدالت میں ایسا ہی ایک مقدمہ آتا ہے تو وہ عاشق کو تین سال کی سزا سنا دیتا ہے۔ اس پر سزا کاٹ رہے عاشق کی معشوقہ آگ لگا کر خودکشی لیتی ہے۔ ایک روز کلب میں بیٹھے ہوئے جج کے کچھ دوست اسی معاملے پر بحث کر رہے ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اصلی مجرم کون ہے؟‘‘

شام کا وقت ہے، انگلش کلب میں آج بہت رونق ہے۔ سٹرک پر دور دور تک موٹریں کھڑی ہیں۔ دیواروں پر ٹینس کے نیلے پردے کسے ہوئے ہیں جو اندر کی کارروائی گندی اور غلیظ ہندوستانی آنکھوں سے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی صاحب یا میم صاحب یا کسی ہندوستانی افسر پر نظر پڑ ہی جاتی ہے۔ کلب کے سامنے ہاکی کھیلنے کا ایک بڑا میدان ہے جس پر اپنے کئی ہندوستانی بھائی ۔۔۔مزید پڑھیں

بدن کی خوشبو

کمرے کی نیم تاریک فضا میں ایسا محسوس ہوا جیسے ایک موہوم سایہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں چھمن میاں کی مسہری کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سائے کا رخ چھمن میاں کی مسہری کی طرف تھا۔ پستول نہیں شاید حملہ آور کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ چھمن میاں کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ انگوٹھے اکڑنے لگے۔ سایہ پیروں پر جھکا۔ مگر اس سے پہلے کہ دشمن ان پر بھرپور وار کرتا۔ انہوں نے پول جمپ قسم کی ایک زقند لگائی اور سیدھا ٹیٹوے پر ہاتھ ڈال دیا۔

’’چیں‘‘ اس سایے نے ایک مری ہوئی آہ بھری اور چھمن میاں نے غنیم کو قالین پر دے مارا۔ چوڑیوں اور جھانجنوں کاایک زبردست چھناکا ہوا۔ انہوں نے لپک کر بجلی جلائی۔ حملہ آور سٹ سے مسہری کے نیچے گھس گیا۔۔۔مزید پڑھیں