کمرے کی نیم تاریک فضا میں ایسا محسوس ہوا جیسے ایک موہوم سایہ آہستہ آہستہ دبے پاؤں چھمن میاں کی مسہری کی طرف بڑھ رہا ہے۔
سائے کا رخ چھمن میاں کی مسہری کی طرف تھا۔ پستول نہیں شاید حملہ آور کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ چھمن میاں کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ انگوٹھے اکڑنے لگے۔ سایہ پیروں پر جھکا۔ مگر اس سے پہلے کہ دشمن ان پر بھرپور وار کرتا۔ انہوں نے پول جمپ قسم کی ایک زقند لگائی اور سیدھا ٹیٹوے پر ہاتھ ڈال دیا۔
’’چیں‘‘ اس سایے نے ایک مری ہوئی آہ بھری اور چھمن میاں نے غنیم کو قالین پر دے مارا۔ چوڑیوں اور جھانجنوں کاایک زبردست چھناکا ہوا۔ انہوں نے لپک کر بجلی جلائی۔ حملہ آور سٹ سے مسہری کے نیچے گھس گیا۔۔۔مزید پڑھیں