بہروپیا

ہر پل شکل بدلتے رہنے والے ایک بہروپیے کی کہانی جس میں اس کی اصل شکل کھو کر رہ گئی ہے۔ وہ ہفتے میں ایک دو بار محلے میں آیا کرتا تھا۔ دیکھنے میں خوبصورت اور ہنسوڑ مزاج کا شخص تھا۔ ایک چھوٹے لڑکے نے ایک دن اسے دیکھا تو اس سے بہت متاثر ہوا اور وہ اپنے دوست کو ساتھ لے کر اس کا پیچھا کرتا ہوا اس کی اصل شکل جاننے کے لیے نکل پڑا۔’’

یہ اس زمانے کی بات ہے جب میری عمر بس کوئی تیرہ چودہ برس کی تھی۔ ہم جس محلے میں رہتے تھے وہ شہر کے ایک بارونق بازار کے پچھواڑے واقع تھا۔ اس جگہ زیادہ تر درمیانے طبقے کے لوگ یا غریب غرباء ہی آباد تھے۔ البتہ ایک پرانی حویلی وہاں ایسی۔۔۔مزید پڑھیں

اجنبی پرندے

شکل اس کی گھڑی گھڑی بدلتی کبھی روشن دان کی حد سےنکل کر تنکوں کا جھومر دیوار پر لٹکنے لگتا، کبھی اتنا باہر سرک آتا کہ آدھا روشن دان میں ہے، آدھا خلا میں معلق، کبھی اکا دکا تنکے کا سرکشی کرنا اور روشن دان سے نکل چھت کی طرف بلند ہوکر اپنےوجود کا اعلان کرنا۔ چڑا چڑیا گھونسلے سے نکل روشن دان کے کنارے بیٹھ جاتے اور دھیمے میٹھے شور سے کمرہ بھر جاتا۔ چڑے کے روئیں روئیں میں بجلی کی روچلتی دکھائی دیتی۔ چڑیا پہ ایک نشے، ایک سپردگی کی کیفیت کہ وہ رو جب اس کیفیت میں شامل ہوتی تو الگ الگ وجود ختم ہوجاتے اور ایک گرم دھڑکتی ہوئی پروں کی ننھی سی پوٹلی باقی رہ جاتی۔ کبھی چڑیوں کاایک غول ہوجاتا اور یہ شور مچاتا کہ کان پڑی آوازسنائی نہ دیتی۔ باہر سے کھنچ کھنچ کر۔۔۔مزید پڑھیں

پہلا دن

آج نئی ہیروئن کی شوٹنگ کا پہلا دن تھا۔

میک اپ روم میں نئی ہیروئن سرخ مخمل کے گدّے والے خوبصورت اسٹول پر بیٹھی تھی اورہیڈ میک اپ مین اس کے چہرے کا میک اپ کر رہا تھا۔ ایک اسسٹینٹ اس کے دائیں بازو کا میک اپ کر رہا تھا، دوسرا اسسٹینٹ اس کے بائیں بازو کا۔تیسرا اسسٹینٹ نئی ہیروئن کے پاؤں کی آرائش میں مصروف تھا، ایک ہئیر ڈریسر عورت نئی ہیروئن کے بالوں کو ہولے ہولے کھولنے میں مصروف تھی۔ سامنے سنگار میز پر پیرس، لندن اور ہالی ووڈ کا سامانِ آرائش بکھرا ہوا تھا۔

ایک وقت وہ تھا جب اس ہیروئن کو ایک معمولی جاپانی لپ اسٹک کے لئے ہفتوں اپنے شوہر سے لڑنا پڑتا تھا اس وقت اس کا ۔۔۔مزید پڑھیں

اکیلی

افراد

سوشیلا : (ایک نوجوان عورت جس کی آواز میں رت جگے کی خرخراہٹ ہو)

کشور : (ایک دولتمند آدمی۔۔۔۔۔۔ آواز میں با نکپن ہو)

موتی : (ایک جذباتی نوجوان)

چپلا : (ایک عام کنواری لڑکی)

مدن : (کشورکا دوست)

قلی :۔۔۔مزید پڑھیں

رموز خاموشی

میں چار بجے کی گاڑی سے گھر واپس آ رہا تھا۔ دس بجے کی گاڑی سے ایک جگہ گیا تھا اور چونکہ اسی روز واپس آنا تھا لہٰذا میرے پاس اسباب وغیرہ کچھ نہ تھا۔ صرف ایک اسٹیشن رہ گیا تھا۔ گاڑی رکی تو میں نے دیکھا کہ ایک صاحب سیکنڈ کلاس کے ڈبے سے اترے۔ ان کا قد بلا مبالغہ چھ فٹ تھا۔ بڑی بڑی مونچھیں رعب دار چہرے پر ہوا سے ہل رہی تھیں۔ نیکر اور قمیص پہنے ہوئے پورے پہلوان معلوم ہوتے تھے۔ یہ کسی کا انتظار کر رہے تھے۔ دور سے انہوں نے ایک آدمی کو۔۔۔ جو کہ غالباً ان کا نوکر تھا، دیکھا۔ چشم زون میں ان کا چہرہ غضب ناک ہو گیا۔ میں برابر والے ڈیوڑھے درجے میں بیٹھا تھا۔ ایک صاحب نے ان خوفناک جوان کو دیکھا اور آپ ہی آپ کہا، ’’یہ خونی معلوم ہوتا ہے۔‘‘ میں نے ان کی طرف دیکھا اور پھر ان خوفناک حضرت کے ۔۔۔مزید پڑھیں

لال دھرتی

ہندو سماج میں عورتوں کے حیض کے ایام کو کسی بیماری کی طرح سمجھا جاتا ہے اور ان ایام میں انھیں گھر کے دیگر افراد سے الگ رکھا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسے ہندوستانی سماج کی کہانی ہے جو حیض کو بیماری نہیں بلکہ نیک شگن مانتا ہے۔ ایک ایسے ہی جنوبی ہند کے ہندو خاندان کی کہانی ہے جس کی دو بیٹیاں ہیں۔ بڑی بیٹی کو پہلی بار ماہواری آنے پر پورا گھر کس طرح جشن مناتا ہے، یہ جاننے کے لیے کہانی کا مطالعہ ضروری ہے۔‘‘

کوئی رنگ مظلوم نگاہوں کی طرح خاموش اور فریادی ہوتا ہے۔ کوئی رنگ خوبصورتی کی طرح کچھ کہتا ہوا اور داد طلب دکھائی دیتا ہے۔ کوئی رنگ مچلتا ہوا ہمیں کسی ضدّی بچّے کی یاد دِلا جاتا ہے اور کسی کو دیکھ کر غنودگی سی چھا جاتی ہے۔۔۔ لاری کے ڈرائیور نے دریا پار۔۔۔مزید پڑھیں

ٹیلی فون

بیسویں صدی کی بہترین ایجاد، کیا بلحاظ فوائد بنی نوع انسان اور کیا بلحاظ آرام و آسائش، اگر ہے تو ٹیلی فون ہے۔

مندرجہ بالا اقتباس میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میں نے نہایت ہی اطمینان سے اپنی میز پر نظر ڈالی اور کیوں نہ ڈالتا کہ میں بھی ایک ٹیلی فون کے سیٹ کا ملک تھا۔ میرے گھر میں بھی ٹیلی فون تھا۔ قبل اس کے کہ میں کچھ عرض کروں گزارش ہے کہ حضرت نہ تو میں کوئی وبال ہوں اور نہ قہر خدا ہوں اور نہ موذی ہوں اور نہ خلق خدا کی آسائش کا دشمن ہوں، بلکہ ایک ادنی اور نہایت ہی ادنیٰ پبلک کا خادم ہوں۔ مگر ساتھ ہی یہ ایک مجسم حقیقت ہے کہ میں بلا شرکت غیرے ایک ٹیلی فون کے سیٹ کا مالک بھی ہوں اور خداوند تعالیٰ نے وہ فوائد اور تمام وہ۔۔۔مزید پڑھیں

آؤ اخبار پڑھیں!

لاجونتی: (بڑ ے اشتیاق بھرے لہجے میں) آؤ اخبار پڑھیں
(کاغذ کی کھڑکھڑا ہٹ)
کشور: (چونک کر)کیا کہا؟
لاجونتی: کہہ رہی ہوںآؤ اخبار پڑھیں!
کشور: پڑھو‘ پڑھو‘ ضرور پڑھو۔۔۔ شکر ہے کہ تمہیں کچھ پڑھنے کا شوق پیدا ہوا۔
لاجونتی: جی۔۔۔ گویا میں بالکل ان پڑھ ہوں‘ الف کا نام بھلا نہیں جانتی‘ آج دن تک گھاس ہی چھیلتی رہی۔۔۔۔مزید پڑھیں

مشکوک لوگ

کہانی کی کہانی:ہوٹل میں ایک ہی ٹیبل پر بیٹھے ہوئے افراد کسی خفیہ معاملے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایڈمنسٹریشن، ملکی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے پر ہی شک کرنے لگتے ہیں۔ان میں ایک شخص کو لگتا ہے کہ دوسرے شخص کی آنکھیں شیشے کی ہیں اسی طرح دھیرے دھیرے سب ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کی آنکھیں شیشے کی ہو۔۔۔۔مزید پڑھیں

رساکشی

میں اپنے اس افسانے کو ایک موٹے سے رسے کے نام نامی پر معنون کرتا ہوں جو بڑے زور و شور سے کھینچا جا رہا ہے۔عرصہ کئی سال کا ہوا ہم دو دوست دسمبر کی چھٹیوں میں اپنے وطن لاہور سے کلکتے گئے۔ وہاں سے واپسی کا ذکر ہے کہ میرے دوست تو وہیں رہ گئے اور میں کلکتے سے سیدھا وطن روانہ ہوا۔ راستے کا ذکر ہے۔ ایک انتہا سے زیادہ ہیبت ناک خان صاحب کا سفر میں ساتھ ہوا۔ ان کے ساتھ ایک نوعمر برقع پوش خاتون بھی تھیں اور بہت جلد معلوم ہو گیا کہ باپ بیٹی ہیں۔ ان خان صاحب کی بڑی زبردست مونچھیں تھیں۔ تمول اور آرام نے چہرہ انار کی طرح سرخ کر دیا تھا۔ سفید شلوار پر ایک کوٹ پہنے تھے اور قومی لباس زیب تن کیے رئیسانہ انداز کے ساتھ افغانی جلال کی بولتی ہوئی تصویر۔۔۔۔مزید پڑھیں